وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کرلیے گئے، لیکن کوئی منصوبہ چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتا، جبکہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ آئینی معاملہ ہے، چند لوگ بند کمرے میں بیٹھ کر ان نشستوں کو ختم نہیں کر سکتے۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کسی بھی مسئلے کا حل تشدد نہیں بلکہ مذاکرات سے ہی ہر مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: آئینی معاملات پر دباؤ کی سیاست مسترد،سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی مؤقف درست قرار دے دیا
طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران 4 اکتوبر کے معاہدے کی ایک ایک شق پڑھ کر سنائی اور اس پر تفصیل سے بتایا کہ کن کن معاملات پر کتنی پیشرفت ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت نے 38 مطالبات میں سے صرف 3 پر عمل کیا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مسائل کا حل پرتشدد مظاہروں میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا، تاہم جب حکومت مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی بات کرتی ہے تو جواب میں پرتشدد مظاہرے کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو شقیں ابھی تک نافذ نہیں ہو سکیں، ان پر بھی بیٹھ کر بات کی جا سکتی ہے، لیکن قانون ہاتھ میں لینا اور تشدد اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
انتخابات سے قبل بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں کا الزام
وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کے آغاز میں کہاکہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات سے قبل بعض عناصر خطے میں بدامنی کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں خطے میں ہونے والے پرتشدد احتجاج کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں ستمبر اور اکتوبر 2025 کے واقعات کا حوالہ دیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے قیام اور ابتدائی مطالبات
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ستمبر 2023 میں قائم ہوئی تھی اور اس وقت اس کے تین بنیادی مطالبات تھے جن میں آٹے پر سبسڈی، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی شامل تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان مطالبات کے نتیجے میں 2024 میں آزاد کشمیر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے، جس کے بعد حکومت نے تمام مطالبات پورے کر دیے تھے۔
2025 میں دوبارہ احتجاج اور 38 نکاتی چارٹر
وفاقی وزیر نے کہاکہ ستمبر 2025 میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے اور عوامی ایکشن کمیٹی نے 38 نکات پر مشتمل مطالبات کا چارٹر پیش کیا، جس کے بعد 4 اکتوبر کو حکومت اور کمیٹی کے درمیان معاہدہ طے پایا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ خود اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام معاہدے پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ اجلاس کرتے رہے ہیں۔
9 جون کے احتجاجی اعلان پر حکومت کا مؤقف
طارق فضل چوہدری نے کہاکہ اس کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو نئے احتجاج کی کال دے دی۔
انہوں نے بتایا کہ 30 مئی کو وفاقی وزرا پر مشتمل ایک کمیٹی نے مظفرآباد میں عوامی ایکشن کمیٹی سے ملاقات کی، جہاں 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ پیش کیا گیا۔
12 مہاجر نشستوں کا معاملہ آئینی نوعیت کا ہے
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتی نمائندوں نے تجویز دی کہ چونکہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے، اس لیے آزاد کشمیر کی تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور اس مسئلے پر بحث کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 20 سے 22 لاکھ کشمیری مہاجرین مقیم ہیں اور بند کمرے میں بیٹھے 12 افراد ان نشستوں کو ختم نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے سابقہ مطالبات عوامی فلاح و بہبود سے متعلق تھے جنہیں پورا کیا گیا، تاہم اس معاملے پر وسیع مشاورت ضروری ہے۔
اسمبلی اور سپریم کورٹ میں معاملہ اٹھانے کی تجویز
طارق فضل چوہدری نے کہاکہ حکومتی نمائندوں نے یہ بھی تجویز دی کہ اس مسئلے پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بحث کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نشستوں کی آئینی حیثیت کو آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
احتجاج مؤخر کرنے کی درخواست
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ 9 جون کی احتجاجی کال کو 8 سے 10 دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے تاکہ اعلیٰ قیادت سے مشاورت کرکے مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیاکہ حکومت نے کبھی بھی ان نشستوں کی حیثیت پر بات چیت سے انکار نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر
سوشل میڈیا پر گمراہ کن بیانیے کی تردید
طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ حکومت نے اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت کیے گئے تمام وعدے پورے نہیں کیے۔
انہوں نے کہاکہ یہ ایک غلط بیانیہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ معاہدے کے تحت شامل 38 مطالبات میں سے 35 پر عملدرآمد مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی معاملات بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔














