قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے اقبال خان آفریدی کی معطلی کی تحریک منظور کر لی گئی، جس کے بعد انہیں ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور غیر شائستہ رویہ اختیار کرنے پر معطل کر دیا گیا۔
یہ تحریک قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کے قاعدہ 21 کے تحت اجلاس کے دوران رکن اسمبلی فرح ناز اکبر نے پیش کی، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایوان کو بتایا کہ اقبال آفریدی نے متعدد بار اپنے نامناسب اور غیر پارلیمانی رویے کے ذریعے ایوان کے تقدس کو پامال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ایم این اے اقبال آفریدی کے بیٹے کی اٹلی میں سیاسی پناہ؛ وجہ کیا بتائی گئی؟
ان کے مطابق رکن اسمبلی اقبال آفریدی کے خلاف قومی اسمبلی کے ملازمین کی جانب سے گالم گلوچ اور بدتمیزی کی متعدد شکایات موصول ہوئیں۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ اقبال آفریدی نے ڈائریکٹر جنرل میڈیا قومی اسمبلی اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بھی غیر مناسب رویہ اختیار کیا، جبکہ وہ پارلیمنٹ سے باہر بھی سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی میں ملوث رہے۔
اسپیکر ایاز صادق کے مطابق ایسے رویے پر کسی بھی رکن اسمبلی کو رعایت نہیں دی جا سکتی۔
مزید پڑھیں: خاتون کولیگ کے متعلق ریمارکس اقبال آفریدی کے شایان شان نہیں، سی ای او کے الیکٹرک
انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اقبال آفریدی سرینا ہوٹل کے ناکے پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ بھی دست و گریبان ہو چکے ہیں، جبکہ ان کے دھمکی آمیز رویے نے پارلیمانی روایات کو شدید نقصان پہنچایا۔
اسپیکر نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو حکم دیا کہ اقبال خان آفریدی کو ایوان سے باہر نکالا جائے۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ کے معاملے پر اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔
مزید پڑھیں: پشاور، بانی پی ٹی آئی کے خلاف بات کیوں کی؟ اقبال آفریدی امام مسجد سے الجھ پڑے، ویڈیو وائرل
اسپیکر نے یہ معاملہ مزید غور کے لیے کمیٹی برائے داخلہ کو بھجوا دیا۔
مزید برآں، اسپیکر نے اعلان کیا کہ پورے بجٹ اجلاس کے دوران محمد اقبال خان آفریدی کے پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کی حدود میں داخلے پر پابندی عائد رہے گی۔














