ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ تہران کی قیادت نے امریکا کے ساتھ ابتدائی امن معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ ایران نے واشنگٹن پر مذاکراتی عمل میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا، امریکا ایران کو لازماً جواب دے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔ ان کے مطابق مذاکراتی مسودے کے اہم حصے تقریباً مکمل ہو چکے ہیں، تاہم امریکا کے متضاد مؤقف نے اس عمل میں مسلسل مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔
یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ معاہدہ رواں ہفتے کے اختتام تک طے پا سکتا ہے اور ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کی شرائط کی منظوری دے دی ہے۔
US President Trump says he has called off planned strikes on Iran after what he described as a breakthrough in talks, saying the “final points” of an agreement were approved, however, Iran’s Foreign Ministry says no final decision has been made.
Al Jazeera's Alan Fisher reports. pic.twitter.com/oryGQ8DPhE
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 12, 2026
ایرانی ترجمان نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کی تفصیلات کا متعلقہ حکام جائزہ لیں گے اور ایران اپنی ’سرخ لکیر‘ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق زیرِ بحث معاہدے میں جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک شامل ہو سکتا ہے۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرایا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ تہران نے یورینیم ذخیرے امریکا کے حوالے کرنے کے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار: کیا اسلام آباد نے جنگ کو پھیلنے سے روک دیا؟
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا کی پالیسیوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے فیصلے ایک نہ ختم ہونے والے بحران کو جنم دے رہے ہیں۔














