وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا ہے، جس کے بعد مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، کاروباری حلقے اور عام شہری بجٹ کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ حکومت نے جہاں ایک طرف کچھ نئے ٹیکسز عائد کیے ہیں۔ وہیں دوسری جانب جانب بعض شعبوں کے لیے مراعات، ٹیکس ریلیف اور ترقیاتی اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے۔
بجٹ سے قبل کچھ ایسے شعبے جن پر ٹیکسز عائد کرنے کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی تھیں۔ بجٹ میں ان چند اہم شعبوں کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز کو بجائے بڑھانے کے برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بجٹ 27-2026: دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے کرنے کی تجویز، 18 فیصد اضافہ
واضح رہے کہ بجٹ کو حکومت کی جانب سے معاشی استحکام اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ مگر یہ بجٹ معاشی استحکام کی جانب بڑھتا ہوا کتنا مثبت قدم ہے، اس حوالے سے جاننے کے لیے وی نیوز نے چند معاشی ماہرین سے بات کی۔
اس حوالے سے معاشی ماہر کاشف منیر کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ معاشی استحکام، کاروباری سرگرمیوں کی بحالی اور مڈل کلاس کو ریلیف دینے کی جانب ایک متوازن قدم ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بجٹ کا سب سے مثبت پہلو تنخواہ دار طبقے کے مخصوص سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی اور سرچارج ٹیکس کا خاتمہ ہے۔
کاشف منیر کے مطابق اس اقدام سے مہنگائی کے پسے ہوئے طبقے کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوگا اور مارکیٹ میں ’مائع پذیری‘ بڑھنے سے کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد جبکہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز اس معاشی تنگی کے دور میں عام آدمی کو بڑا مالی سہارا فراہم کرے گی۔

توانائی اور صنعتی شعبے کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ سولر پینلز اور متعلقہ آلات پر کوئی نیا ٹیکس نہ لگانا ایک پائیدار پالیسی ہے، جس سے نیٹ میٹرنگ اور گرین انرجی کو فروغ ملے گا اور امپورٹڈ فرنس آئل پر ملکی انحصار کم ہونے سے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ گھٹے گا۔ دوسری طرف، 15 سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی والے کاروباروں پر سپر ٹیکس کا مکمل خاتمہ اور اس سے زائد آمدنی پر اسے 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنا کارپوریٹ سیکٹر کا اعتماد بحال کرے گا، جس سے ملک میں نئی سرمایہ کاری آئے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بجٹ 27-2026: تنخواہ پر ریلیف، اب آپ کا کتنا ٹیکس کٹے گا، جانیے اس خبر میں!
ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور بین الاقوامی ٹرانزیکشنز کے بارے میں کاشف منیر نے واضح کیا کہ فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کی تجاویز دستاویزی معیشت کے لیے مثبت اقدام ہیں اور اس سے تعمیرات میں قانونی سرمایہ کاری بڑھے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ اور کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک ادائیگیوں پر ٹیکس صرف 0.5 فیصد مقرر کرنا بین الاقوامی لین دین کو آسان بنائے گا، جس سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
ماہر معاشیات کفیل احمد کے مطابق یہ بجٹ ملکی معیشت کی سمت درست کرنے اور عوامی و کاروباری حلقوں کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے چند انتہائی اہم اور مثبت اشارے دے رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ معاشی چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن بجٹ میں شامل چند بنیادی عوامل معیشت اور عوام دونوں کے لیے طویل مڈت میں فائدے مند ثابت ہوں گے۔ ان کے تجزیے کے مطابق، ٹیکسز کے ڈھانچے میں کی جانے والی یہ مثبت تبدیلیاں ملک میں کاروباری پہیہ چلانے اور مڈل کلاس کو ریلیف دینے کا سبب بنیں گی، جو بالآخر پاکستان کی معاشی ترقی میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔

بجٹ کے سب سے اہم اور مثبت اقدام پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کے مخصوص سلیبس پر عائد ٹیکسوں میں کمی کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ اس اقدام سے متوسط اور تنخواہ دار طبقے کی قوت خرید میں واضح اضافہ ہوگا،
اس کے ساتھ ساتھ، ملازمین کی تنخواہوں میں متوقع اضافہ (جو تجاویز کے مطابق تقریباً 7 فیصد ہے) موجودہ معاشی تنگی کے دور میں ملازمین کو ایک حد تک مالی تحفظ اور مہنگائی کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ فراہم کرے گا۔
انہون نے مزید کہا کہ سولر پینلز اور متعلقہ آلات پر کسی قسم کا نیا ٹیکس نہ لگانا یا سابقہ ٹیکس چھوٹ کو برقرار رکھنا ایک بہترین اور پائیدار پالیسی ہے۔ اس فیصلے کی بدولت عام صارفین اور صنعت کاروں کے لیے ماحول دوست گرین انرجی کا حصول آسان رہے گا۔ اس کا بڑا معاشی فائدہ یہ ہوگا کہ قومی گرڈ پر بوجھ کم ہوگا، لوڈشیڈنگ میں کمی آئے گی، اور سب سے بڑھ کر مہنگے امپورٹڈ فرنس آئل پر انحصار کم ہونے سے ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں بھی واضح کمی دیکھنے کو ملے گی۔
کفیل احمد کے مطابق سُپر ٹیکس میں کمی کو ایک بڑا بریک تھرو قرار دیا ہے۔ بڑی کمپنیوں اور کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس کا بوجھ کم ہونے سے ملک میں کاروباری اعتماد (Business Confidence) بحال ہوگا، جو سرمایہ کاروں کو نئی سرمایہ کاری کی طرف راغب کرے گا۔ یہ اقدام نہ صرف صنعتی پہیے کو تیز نہیں کرے گا بلکہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا، جس سے معیشت استحکام کی طرف گامزن ہو سکے گی۔
معاشی ماہر راجہ کامران کے مطابق اس بجٹ میں مجموعی طور پر مختلف طبقات کے لیے کچھ اہم اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ کاروباری طبقے کے لیے بھی بعض شعبوں میں سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، جن میں سپر ٹیکس میں دی گئی نرمی نمایاں ہے۔
چھوٹے کاروبار اور سروسز سیکٹر کے حوالے سے یہ امر اہم ہے کہ اگرچہ اس شعبے میں ٹیکس ڈھانچہ موجود ہے، تاہم اس میں مزید بہتری اور آسانی پیدا کرنے کے امکانات موجود ہیں تاکہ چھوٹے کاروبار زیادہ بہتر انداز میں ترقی کر سکیں اور معیشت میں اپنا کردار مزید مؤثر بنا سکیں۔

ریٹیل اور دکاندار طبقے کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ ٹیکس نظام کو مزید وسیع اور مؤثر بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہیں۔ اگر ان اقدامات کو مزید بہتر انداز میں نافذ کیا جائے تو مستقبل میں ٹیکس بیس میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کو بہتر بنانا ایک اہم ہدف ہے، جو اس وقت تقریباً 10 فیصد کے قریب ہے۔ اس سمت میں پالیسی اقدامات اور اصلاحات کے ذریعے اسے 15 فیصد تک لے جانے کا ہدف معیشت کو مزید مستحکم اور خود کفیل بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
راجہ کامران کے مطابق ٹیکس نظام میں اصلاحات کے حوالے سے مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے، اور مستقبل میں ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت کے اقدامات کے ذریعے اسے مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی معیشت کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے سماجی تحفظ کے اقدامات کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک اہم سہارا ہیں، جو فوری مالی ریلیف فراہم کرتے ہیں۔ ان پروگرامز کو مزید بہتری اور ہنر مندی کے اقدامات کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ غربت میں کمی اور طویل مدتی معاشی بہتری میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں معیشت زیادہ تر استحکام کے مرحلے سے گزری ہے، اور اب اس بات کی ضرورت ہے کہ اس استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کیا جائے۔ اس کے لیے سرمایہ کاری، اسکل ڈیولپمنٹ اور نئی معاشی مواقع خصوصاً کلائمیٹ اور سروسز سیکٹر میں مزید توجہ دی جا سکتی ہے۔
اسی طرح انسانی وسائل کی ترقی، بیرون ملک روزگار کے مواقع اور اسکل بیسڈ ٹریننگ جیسے شعبوں میں مزید اقدامات مستقبل کی معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
راجہ کامران نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر یہ بجٹ ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں موجودہ اصلاحات کے ساتھ ساتھ مستقبل میں مزید بہتری اور ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، جنہیں مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔














