عالمی سطح پر خبروں پر عوامی اعتماد تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی خبروں کی تردید، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ جعلی قرار
رائٹرز انسٹیٹیوٹ کی تازہ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں صرف 37 فیصد افراد خبروں پر اعتماد کرتے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہے۔
یہ سنہ 2015 سے جاری اس سالانہ سروے کی اب تک کی بھی کم ترین سطح ہے۔
منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں خبروں پر اعتماد مزید 5 فیصد کم ہو کر 30 فیصد رہ گیا ہے جو ایک دہائی قبل کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نصف سے زائد افراد اب اپنی خبریں سوشل میڈیا، ویڈیو پلیٹ فارمز اور دیگر تھرڈ پارٹی ذرائع سے حاصل کرتے ہیں اگرچہ اتنی ہی تعداد اب بھی نیوز ویب سائٹس اور ٹی وی نیوز کا استعمال کرتی ہے۔ برطانیہ میں روایتی ذرائع ابلاغ اب بھی نسبتاً زیادہ مقبول ہیں۔
رائٹرز انسٹیٹیوٹ کے مطابق عوام میں خبروں سے متعلق بے چینی، لاتعلقی اور بداعتمادی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ میڈیا امیگریشن، مہنگائی اور بین الاقوامی تنازعات جیسے طویل المدتی موضوعات کی کوریج مناسب انداز میں نہیں کر رہا۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ سوشل میڈیا کے ذریعے خبریں حاصل کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تاہم ان پلیٹ فارمز پر اعتماد کی شرح صرف 22 فیصد ہے جو مجموعی خبروں پر اعتماد کی شرح سے بھی کم ہے۔
مزید پڑھیے: ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی
سروے میں شامل صرف 10 فیصد افراد نے کہا کہ ان کی بیشتر خبروں کی ضروریات کریئیٹرز اور انفلوئنسرز پوری کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ذرائع روایتی میڈیا کا متبادل نہیں بلکہ اس کی تکمیل کر رہے ہیں۔
اے آئی چیٹ بوٹس پر عوام کی رائے
دوسری جانب مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس پر اعتماد بھی محدود رہا۔ عالمی سطح پر صرف 20 فیصد افراد نے اے آئی چیٹ بوٹس کی فراہم کردہ معلومات پر اعتماد کا اظہار کیا اگرچہ ان کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کرنے والوں کی شرح 7 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی ہے جبکہ 35 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح 16 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ غیر جانبدار صحافت کی حمایت اب بھی مضبوط ہے۔ سنہ 2020 کے بعد سے اس حمایت میں صرف 3 فیصد کمی آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب بھی متوازن اور غیر جانبدار خبروں کو اہمیت دیتے ہیں۔
امریکا میں خبروں پر اعتماد کی مجموعی شرح 25 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ سیاسی طور پر دائیں بازو سے وابستہ امریکیوں میں یہ شرح صرف 15 فیصد رہی۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان
رپورٹ کے مطابق امریکی نشریاتی اداروں پر اعتماد میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ سی بی ایس نیوز اور فاکس نیوز پر اعتماد میں 2025 کے مقابلے میں 10 فیصد کمی آئی، جبکہ سی این این پر اعتماد 6 فیصد کم ہوا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ آن لائن نیوز ویڈیوز اب دنیا بھر میں مرکزی دھارے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ عالمی سطح پر 77 فیصد افراد ہر ہفتے آن لائن نیوز ویڈیوز دیکھتے ہیں اور بیشتر ممالک میں یہ رجحان روایتی ٹی وی نیوز سے آگے نکل چکا ہے۔
وہ ممالک جہاں ٹی وی نیوز دیکھنے کا رجحان زیادہ ہے
رپورٹ کے مطابق جرمنی، ڈنمارک اور نیدرلینڈز وہ چند ممالک ہیں جہاں نشریاتی ٹی وی نیوز اب بھی آن لائن ویڈیوز سے زیادہ دیکھی جاتی ہے۔
رائٹرز انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ آن لائن ویڈیوز اور کریئیٹرز کی مقبولیت اس بات کا ثبوت نہیں کہ لوگ خبروں سے دور ہو رہے ہیں بلکہ وہ ایسی خبریں چاہتے ہیں جو زیادہ قابل فہم، زیادہ قابل رسائی اور ان کی روزمرہ زندگی سے زیادہ متعلق ہوں۔
یہ بھی پڑھیے: میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
یہ نتائج 48 ممالک میں تقریباً ایک لاکھ افراد پر کیے گئے آن لائن سروے کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔














