غزہ میں جاری جنگ، جبری نقل مکانی، غذائی قلت اور صحت کے نظام کی تباہی کے باعث خواتین کی تولیدی صحت سنگین بحران کا شکار ہو گئی ہے، جہاں اسقاط حمل کی شرح عالمی اوسط سے 3 گنا سے زیادہ ہو گئی جبکہ پیدائش کی شرح میں صرف چند ماہ کے دوران 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین، پاکستان کا سلامتی کونسل میں فوری اقدامات کا مطالبہ
غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البُرش نے کہا ہے کہ مسلسل حملوں، بڑے پیمانے پر بے دخلی، شدید غذائی عدم تحفظ اور طبی سہولیات کی تباہی کے باعث حاملہ خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے طویل المدتی سماجی اور آبادیاتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں ہر 1,000 زندہ پیدائشوں پر اسقاط حمل کے 460 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جو عالمی اوسط سے 3 گنا سے زائد ہیں۔ بعد کے اشاروں کے مطابق یہ شرح 500 کیسز فی 1,000 زندہ پیدائشوں سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ میں 57 فیصد حاملہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ غذائی قلت، آکسیجن کی کمی اور مناسب طبی سہولیات نہ ہونے سے حمل کے دوران پیچیدگیوں اور اسقاط حمل کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب غزہ میں پیدائش کی شرح میں بھی غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ نومبر 2025 میں ماہانہ 6,076 پیدائشیں ریکارڈ کی گئی تھیں، جو اپریل 2026 میں کم ہو کر 2,004 رہ گئیں، یعنی 6 ماہ سے بھی کم عرصے میں 67 فیصد کمی واقع ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بھوک کا بحران اسرائیل نے جان بوجھ کر پیدا کیا، ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز
ماہرین کے مطابق خوراک اور صاف پانی کی قلت، بار بار نقل مکانی، مسلسل ذہنی دباؤ اور زچگی و تولیدی صحت کی سہولیات کی تباہی اس صورتحال کی بڑی وجوہات ہیں۔
طبی ماہرین اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں صحت اور انسانی امداد کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو یہ بحران صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ مستقبل کی آبادی اور سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔














