برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوم نے فیصلہ کیا ہے کہ بکنگھم پیلس کی 10 سالہ طویل اور مہنگی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد بھی وہ اور ملکہ کمیلا اس تاریخی محل میں مستقل قیام نہیں کریں گے، تاہم محل شاہی تقریبات اور دفتری سرگرمیوں کا مرکز برقرار رہے گا۔
King Charles will not live at Buckingham Palace after refit, officials say https://t.co/AHf38wxzcb https://t.co/AHf38wxzcb
— Reuters (@Reuters) June 25, 2026
عرب نیوز کے مطابق کنگ چارلس سوم نے اعلان کیا ہے کہ 36 کروڑ 90 لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے جاری بکنگھم پیلس کی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد بھی وہ اپنی رہائش قریبی شاہی عمارت کلیرنس ہاؤس میں رکھیں گے۔
شاہی حکام کا کہنا ہے کہ بکنگھم پیلس بدستور برطانوی بادشاہت کا انتظامی اور رسمی مرکز رہے گا جہاں سرکاری ملاقاتیں، اہم تقریبات اور شاہی امور انجام دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:شاہ چارلس انتقال کرگئے، برطانوی ریڈیو نے غلط خبر نشر کر دی
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شاہی خاندان اپنی سرگرمیوں میں شفافیت اور جدید انداز اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اعلان کے موقع پر کنگ چارلس نے پہلی مرتبہ بادشاہ بننے کے بعد اپنی ادا کردہ ٹیکس رقم بھی ظاہر کی، جس کے مطابق انہوں نے 25-2024 کے مالی سال میں تقریباً ایک کروڑ 29 لاکھ پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا۔

بکنگھم پیلس 1820 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا اور ملکہ وکٹوریہ کے دور سے برطانوی بادشاہوں کی لندن رہائش گاہ رہا ہے۔ اس محل میں 775 کمرے ہیں اور یہ شاہی خاندان کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
King Charles III will not live at Buckingham Palace after the completion of a 10-year, 369 million-pound refurbishment program as the monarchy seeks to increase public access to the historic building that has been the center of royal life for almost 200 years.…
— PBS News (@NewsHour) June 26, 2026
رپورٹس کے مطابق محل کی تزئین و آرائش کا مقصد پرانے نظام، بجلی، پانی اور حرارتی سہولیات کو جدید بنانا ہے تاکہ عمارت آئندہ کئی دہائیوں تک استعمال کے قابل رہ سکے۔
شاہی حکام کے مطابق کنگ چارلس کے اس فیصلے سے بکنگھم پیلس کو عوام کے لیے مزید کھولا جا سکے گا، زیادہ تقریبات منعقد ہوں گی اور سیاحوں کے لیے رسائی میں اضافہ کیا جا سکے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام برطانوی بادشاہت کے بدلتے ہوئے انداز کی علامت ہے، جس میں تاریخی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی شمولیت اور شفافیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔














