وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوم عاشور کے موقع پر اپنے پیغام میں واقعہ کربلا کو ایمان، صبر، قربانی اور حق کی سربلندی کا عظیم سبق قرار دیتے ہوئے قوم پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی احترام، برداشت اور اتحاد کو فروغ دے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 10 محرم الحرام 1448ھ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یوم عاشور اسلامی تاریخ کا ایک ایسا اہم دن ہے جو انسانیت کو ایمان، صبر، استقامت، قربانی اور حق کی حمایت کا پیغام دیتا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا یومِ عاشور 10 محرم الحرام 1448ھ / 26 جون 2026 پر پیغام.
یومِ عاشور بلا شبہ اسلامی تاریخ کا ایک فکر انگیز دن ہے جو نوع انسانی کو ایمان، صبر و استقامت، ایثار، حق پسندی اور اصلاحِ معاشرہ کے بے مثال اسباق سے روشناس کراتا ہے۔
یہ دن اللہ تعالیٰ کی نصرت،… pic.twitter.com/gQNfezZeQQ
— Prime Minister's Office (@PakPMO) June 25, 2026
وزیراعظم نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی نے یوم عاشور کو اسلامی تاریخ میں منفرد مقام عطا کیا۔ واقعہ کربلا یہ سبق دیتا ہے کہ اصولوں اور اقدار کا تحفظ ایک باوقار اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ کے کردار نے ثابت کیا کہ حق، انصاف، عدل اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے قربانی دینا ظلم، ناانصافی اور باطل کے سامنے جھکنے سے کہیں بہتر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ واقعہ کربلا امت کی اصلاح، نبی کریمؐ کی تعلیمات کے احیا اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے عظیم مقصد کی یاد دلاتا ہے۔
انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے پیغام کو سمجھتے ہوئے معاشرے میں برداشت، رواداری، باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دیں، جبکہ نفرت، انتشار اور اختلافات سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں:محرم میں امن و امان کے لیے پنجاب حکومت متحرک، سوشل میڈیا مانیٹرنگ مزید سخت
وزیراعظم نے بالخصوص علما، مشائخ، ذاکرین، میڈیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ یوم عاشور کے حقیقی پیغام کو اجاگر کریں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی قربانیوں سے رہنمائی لیتے ہوئے حق اور انصاف کے لیے اپنی وابستگی مضبوط کرنی چاہیے اور کمزور و محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں امن و استحکام قائم فرمائے اور امت مسلمہ کو اتحاد، خیر اور برکت عطا کرے۔














