امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں کی ازسرنو ترتیب پر غور کر رہا ہے، جس میں خلیجی ممالک میں متاثر ہونے والی بعض تنصیبات کو اسرائیل منتقل کرنے کا امکان بھی زیرِ بحث ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں امریکی بحری اڈے کو ایرانی حملوں سے توقع سے زیادہ نقصان پہنچا، جس کے بعد واشنگٹن خلیج میں اپنی فوجی تنصیبات کا جائزہ لے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی رابطہ قائم کرنے پر اتفاق ہوگیا، جے ڈی وینس
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بحرین کے اڈے کی دوبارہ تعمیر اور اسے محدود سطح پر برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کویت اور سعودی عرب میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اپنی بعض فوجی سرگرمیوں اور تنصیبات کو خطے کے مغربی حصے کی طرف منتقل کر سکتا ہے تاکہ انہیں ایران سے آنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نسبتاً محفوظ رکھا جا سکے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 2 امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ممکنہ متبادل مقامات میں اسرائیل بھی شامل ہے، جہاں کچھ فوجی اڈے یا آپریشنز منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث امریکا کو خطے میں اپنی فوجی تعیناتی، دفاعی ضروریات اور اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں بدلتی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔














