خطے میں بدلتے حالات: پاکستان نے بھارت سے ’علاقائی تھانیدار‘ بننے کا خواب کیسے چھینا؟

جمعہ 26 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار، غزہ امن منصوبے میں شمولیت اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون میں پیشرفت یہ 3 اہم سفارتی واقعات پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نمایاں اور مؤثر کھلاڑی کے طور پر سامنے لائے ہیں۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی کوششوں میں پاکستان کا کردار مضبوط ہوا ہے، جبکہ بھارت کا خود کو خطے کا واحد ’نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر‘ (علاقائی تھانیدار) ثابت کرنے کا بیانیہ شدید دھچکا کھا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن بنیان مرصوص کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے بھارت کا بڑا منصوبہ بے نقاب

یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ یہ تمام پیشرفت مئی 2025 کی پاک بھارت فوجی کشیدگی کے بعد سامنے آئی جس میں پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں مؤثر جواب دیتے ہوئے بھارت کو دھول چٹائی بلکہ عالمی سطح پر خود کو ایک مضبوط اور منظم فوجی قوت کے طور پر بھی منوایا۔

4 روزہ جنگ کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی دنیا نے دیکھی جبکہ پاکستان کے عسکری ردعمل نے چینی قیادت کو بھی متاثر کیا۔ اس بحران کے دوران پاکستان نے سفارتی محاذ بھی انتہائی فعال رکھا، علاقائی ممالک سے مسلسل رابطے کیے اور انہیں زمینی صورتحال سے آگاہ رکھا۔ اسی دوران امریکا کے ساتھ بھی اعتماد کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا جس نے بعد ازاں پاکستان کو بین الاقوامی تنازعات میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھرنے میں مدد دی۔

پاک بھارت کشیدگی نے ایک اہم حقیقت بھی واضح کر دی کہ جنوبی ایشیا میں کوئی بھی بڑی عالمی طاقت پاکستان کو نظر انداز کر کے خطے میں پائیدار استحکام برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اس وقت پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کا چیئرمین بھی ہے جس پر بھارت مسلسل اعتراضات کرتا رہا ہے۔

بھارت کی حد سے بڑھی ہوئی سفارتی خوداعتمادی کی وجہ کیا تھی؟

سنہ 2013  میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دفاعی تعاون کا معاہدہ ہوا، جس کے تحت مشترکہ دفاعی پیداوار اور تحقیق پر اتفاق کیا گیا۔ اس معاہدے نے خطے میں بھارت کی دفاعی اہمیت میں نمایاں اضافہ کیا۔

اس سے قبل سنہ 2007 میں بھارت کی کواڈ فورم میں شمولیت نے بھی اسے انڈو پیسفک خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار بنا دیا تھا۔ اسی عرصے میں بھارت تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کے طور پر بھی سامنے آیا، جبکہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام، سیاسی عدم استحکام اور دہشتگردی کے خدشات کے باعث زیادہ تر دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتا رہا۔

بین الاقوامی میڈیا اور تھنک ٹینکس بھی عمومی طور پر بھارت کو خطے کی بڑی طاقت اور پاکستان کو نسبتاً کمزور ریاست کے طور پر پیش کرتے رہے، جس سے بھارت کی سفارتی خوداعتمادی میں مزید اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیے: آپریشن کا نام ’بنیان مرصوص‘ کس نے تجویز کیا؟ وی نیوز کے سوال پر فوجی ترجمان نے کیا جواب دیا؟

اسی اعتماد کے باعث بھارت نے پاکستان کے خلاف عسکری اور سفارتی جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کی۔ اس نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی مبینہ پشت پناہی کی جبکہ سفارتی سطح پر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کرانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کیں۔ اُڑی حملے سے لے کر بالاکوٹ تک مختلف واقعات کے بعد بھارت نے پاکستان پر مسلسل سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، تاہم مئی 2025 کی جنگ نے یہ پوری صورتحال بدل کر رکھ دی۔

بھارت کا علاقائی سپر پاور بننے کا خواب دھندلا گیا

مئی 2025 کی جنگ کے بعد بھارت کو صرف عسکری ہی نہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی کئی غیر متوقع چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ نئی دہلی کو توقع تھی کہ عالمی برادری مکمل طور پر اس کے مؤقف کی حمایت کرے گی، لیکن عملی طور پر صورتحال مختلف رہی۔

پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش ناکام

گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا مقصد پاکستان کو دہشت گردی کے مسئلے پر عالمی سطح پر دباؤ میں رکھنا اور اسے سفارتی طور پر تنہا کرنا تھا۔ 2016 کے اُڑی حملے اور 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے اسی حکمت عملی پر عمل کیا لیکن مئی 2025 کے بحران میں اسے کامیابی نہ مل سکی۔

اگرچہ مختلف ممالک نے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی تاہم کسی بڑی عالمی طاقت نے پاکستان کے خلاف پابندیوں یا سفارتی تنہائی کی حمایت نہیں کی۔ امریکا، چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور بیشتر یورپی ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا۔

عالمی ردعمل بھارتی توقعات کے برعکس رہا

بھارت کو امید تھی کہ عالمی بیانیہ مکمل طور پر اس کے حق میں تشکیل پائے گا لیکن بیشتر عالمی دارالحکومتوں سے جاری ہونے والے بیانات میں پاکستان اور بھارت دونوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور براہِ راست رابطے بحال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

مزید پڑھیں: گزشتہ سال 6 مئی کو پاک بھارت فوجی کشیدگی کے آغاز سے 10 مئی کو جنگ بندی تک کیا کچھ ہوتا رہا؟

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار سمجھے جانے والے امریکا نے بھی جنگ بندی اور سفارتی رابطوں کی بحالی پر زور دیا۔ اسی طرح خلیجی ممالک نے بھی کسی ایک فریق کی کھلی حمایت کے بجائے ثالثی اور مصالحت کو ترجیح دی۔ اس صورتحال نے بھارت کی اس سفارتی حکمت عملی کو نقصان پہنچایا جس کے تحت وہ پاکستان کو واحد ذمہ دار فریق کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا۔

جنگ کے بعد پاکستان کی سفارتکاری نے نئی سمت اختیار کی

جنگ کے چند ماہ بعد پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری اور بعد ازاں امن مذاکرات میں کردار ادا کر کے اپنی سفارتی اہمیت میں مزید اضافہ کیا۔ اس پیشرفت نے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں موجود کئی تصورات تبدیل کیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاک بھارت جنگ میں 11 جہاز تباہ ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مئی جنگ کا ذکر چھیڑ دیا

نتیجتاً جنوبی ایشیا سے متعلق عالمی مباحثے میں پاکستان صرف ایک سکیورٹی چیلنج کے طور پر نہیں بلکہ ایک مؤثر سفارتی شراکت دار کے طور پر بھی زیرِ بحث آنے لگا۔ یہی وہ تبدیلی تھی جس نے بھارت کی اس کوشش کو مزید مشکل بنا دیا جس کا مقصد پاکستان کو مکمل طور پر سفارتی حاشیے پر دھکیلنا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp