سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے پرانے مؤقف اور نئے فیصلے میں تضاد سامنے آگیا

جمعہ 26 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

بھارت نے کئی دہائیوں تک سندھ طاس معاہدے کو ایک مضبوط، قانونی اور کامیاب پانی کی تقسیم کے نظام کے طور پر پیش کیا، تاہم حالیہ برسوں میں اس معاہدے کے حوالے سے نئی پالیسی نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت نے 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو طویل عرصے تک ایک پائیدار اور قانونی طور پر پابند معاہدہ قرار دیا، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائی پانیوں کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی، بھارت کے آبی منصوبوں پر خطے میں تشویش

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی بینک کی معاونت سے طے پانے والا یہ معاہدہ کئی جنگوں، کشیدگی اور سیاسی اختلافات کے باوجود چھ دہائیوں تک برقرار رہا اور اسے دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے 1960 میں معاہدے پر دستخط کے وقت اسے خطے میں امن کے لیے اہم قرار دیا تھا، جبکہ بعد میں بھی بھارتی حکومتیں اس معاہدے کو تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ قرار دیتی رہیں۔

بھارتی ریکارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی وزارت خارجہ نے 2014 میں پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک ’آزمودہ فریم ورک‘ ہے اور بھارت اس کی روح اور الفاظ کے مطابق عمل کرتا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2016 میں بھی بھارت نے معاہدے سے الگ ہونے کے بجائے اس کے تحت اپنے حقوق کے استعمال پر توجہ دی تھی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی 2017 میں ایک مقدمے کے دوران سندھ طاس معاہدے کو نصف صدی سے زائد عرصے تک مؤثر رہنے والا معاہدہ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطرناک، پانی کو ہتھیار بنانا کروڑوں افراد کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے، فرانسیسی اخبار

رپورٹ کے مطابق بھارتی آبی ماہرین نے بھی کئی مواقع پر اس معاہدے کو بین الاقوامی سطح پر پانی کی تقسیم کے کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کیا۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے معاہدے کو عارضی طور پر روکنے کے اعلان نے نئی بحث کو جنم دیا، جبکہ پاکستان نے اسے یکطرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ پانی سے متعلق معاملات کو سندھ طاس معاہدے میں موجود قانونی طریقہ کار کے تحت حل کیا جانا چاہیے اور پانی کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp