طالبان کے ڈرون حملوں کے دعوے پروپیگنڈا مہم، جھوٹ کا پلندہ، پاکستان نے افغان بیانیہ مسترد کردیا

جمعہ 26 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے افغانستان کی سرحد پر طالبان حکومت کی جانب سے ملکی حدود میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کے دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک سطحی بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

عسکری و سفارتی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کا یہ دعویٰ اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردی کے نیٹ ورکس کو کنٹرول کرنے میں ناکامی سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے، جس کا مقصد اپنی خیالی فوجی صلاحیتوں کا جھوٹا رعب جمانا ہے۔

بیانیے کا تصادم اور فضائی حدود کی خلاف ورزی

افغان وزارت دفاع نے رواں ہفتے ایک باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی افواج نے ایک نئے فوجی نظریے کے تحت پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں داعش کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

تاہم اسلام آباد میں سیکیورٹی ذرائع نے اس دعوے کی حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان کی جانب سے بھیجا گیا ایک معمولی نوعیت کا جاسوس ڈرون خیبر کے علاقے شینکوکے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا، جسے پاکستان کے جدید ایئر ڈیفنس سسٹم نے کسی بھی قسم کے نقصان سے پہلے ہی فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا۔

افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ کابل کی موجودہ قیادت کا یہ جارحانہ بیانیہ دراصل اپنی خامیوں کو چھپانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بنیادی حقیقت آج بھی وہی ہے کہ افغانستان بدستور متعدد بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں کے لیے سب سے محفوظ ترین آپریشنل اڈہ بنا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ اور عالمی خدشات

بین الاقوامی جائزوں اور اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس نے مسلسل اس تشویشناک امر کی تصدیق کی ہے کہ موجودہ طالبان حکومت کے زیر سایہ افغان سرزمین پر 20 سے زیادہ دہشتگرد تنظیمیں کھلے عام سرگرم ہیں۔

ان خطرناک گروہوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اور داعش شامل ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

پروپیگنڈا مہم پر دفاعی تجزیہ کاروں کی تنقید

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کے پاس واقعی وہ غیر معمولی انٹیلیجنس اور جدید فوجی صلاحیت موجود ہے جس کا وہ ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، تو انہیں ان وسائل کا استعمال اپنی سرزمین پر پناہ گزین ہزاروں غیر ملکی دہشتگردوں کو تلاش کرنے اور ان کے خاتمے کے لیے کرنا چاہیے۔

ایک علاقائی سیکیورٹی ماہر نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عسکری طاقت کا مظاہرہ پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی سرحدوں پر مؤثر کنٹرول سے ثابت ہوتا ہے، نہ کہ پڑوسی ملک کی حدود میں معمولی ڈرون بھیج کر پروپیگنڈا آؤٹ لیٹس کے ذریعے فاتحانہ بیانات جاری کرنے سے۔

پاک افغان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

یہ حالیہ واقعہ سال 2026 کے دوران دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی اور سرحدی تعلقات میں آنے والے شدید بگاڑ کا تسلسل ہے۔ فروری میں ہونے والی سرحد پار عسکری جھڑپوں کے بعد سے پاک افغان سرحدی علاقہ انتہائی حساس اور عسکری نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

پاکستان نے اپنے حتمی مؤقف میں واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت پڑوسی ممالک پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے انتہا پسند نیٹ ورکس کی سرپرستی کو نہیں چھپا سکتی، کیونکہ خطے میں جاری عدم استحکام کی جڑیں افغانستان کے اندر ہی پیوست ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp