پاکستانیوں کی اکثریت حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز کی آمدن پر مجوزہ 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی حامی ہے۔
پریس نیٹ ورک آف پاکستان پی این پی کے جاری کردہ ایک آن لائن سروے کے مطابق دوسری جانب عوام کی بڑی تعداد نے چھوٹے کانٹینٹ کریئیٹرز کو اس ٹیکس سے استثنا دینے کی بھی حمایت کی ہے۔
فائنانس بل 2026 میں مجوزہ ٹیکس کے اعلان کے بعد کیے گئے اس سروے میں 45 مرد اور 55 خواتین نے حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026 : کانٹینٹ کریئیٹرز اور انفلوئنسرز کے لیے نیا ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز
نتائج کے مطابق شرکا نے مجموعی طور پر انفلوئنسرز پر ٹیکس عائد کرنے کے اصول کی حمایت کی، تاہم اس ضمن میں متوازن پالیسی اپنانے پر زور دیا۔
شرکا کا موقف تھا کہ مجوزہ ٹیکس سے نوجوان کاروباری افراد اور ابھرتے ہوئے کانٹینٹ کریئیٹرز کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے۔
حکومت نے فائنانس بل 2026 کے تحت سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز کی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔
مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی نے ڈیجیٹل تخلیق کاروں کی آمدنی پر 5 فیصد ٹیکس کی منظوری دے دی
اس اقدام کا مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا اور حکومتی محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اس کا بڑا حصہ اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
حکومتی اندازے کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا سرگرمیوں سے سالانہ 4 سے 10 ارب روپے تک آمدن حاصل ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: گیس مہنگی، ٹیکس بھاری: حیدرآباد میں شیشے کی چوڑیوں کی صنعت بحران کا شکار
سروے کے مطابق شرکا نے انفلوئنسرز کی آمدن پر مجوزہ 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی حمایت میں 5 میں سے اوسطاً 3.42 پوائنٹس دیے، جو اس تجویز کے حق میں مجموعی مثبت رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
ٹیکس کے عمومی اصول کی حمایت اس سے بھی زیادہ رہی، اس مؤقف کو کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی دیگر کاروباری افراد اور پیشہ ور افراد کی طرح ٹیکس ادا کرنا چاہیے، شرکاء نے اوسطاً 3.89 پوائنٹس دیے۔
دوسری جانب سروے میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا کہ مجوزہ ٹیکس نوجوانوں کو ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیشن کے شعبے میں آنے سے روک سکتا ہے، مذکورہ خدشے کو اوسطاً 3.34 پوائنٹس ملے۔
مزید پڑھیں: سینیٹری پیڈز پر ٹیکس چیلنج، لاہور ہائیکورٹ میں رِٹ قابلِ سماعت قرار
سروے میں چھوٹے کانٹینٹ کریئیٹرز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی بھرپور حمایت سامنے آئی۔ شرکاء نے اس تجویز کو، کہ ایک مخصوص آمدنی سے کم کمانے والے انفلوئنسرز پر ودہولڈنگ ٹیکس لاگو نہ کیا جائے، اوسطاً 3.88 پوائنٹس دیے۔
عوام نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے حکومتی مراعات کی بھی حمایت کی، اس حوالے سے سب سے زیادہ اوسط 3.92 پوائنٹس اس سفارش کو ملے کہ حکومت ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے مراعات بھی متعارف کرائے۔
مزید پڑھیں: 48 فیصد پاکستانیوں کی لنڈا بازاروں سے خریداری، ’کیا حکومت اس پر بھی ٹیکس لگانے جا رہی ہے‘
مجوزہ ٹیکس کے مختلف پلیٹ فارمز پر اثرات سے متعلق 53.8 فیصد شرکاء کا خیال تھا کہ اس کے سب سے زیادہ اثرات یوٹیوب کریئیٹرز پر پڑیں گے، جبکہ 24.6 فیصد کے مطابق تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یکساں طور پر متاثر ہوں گے۔
اسی طرح 9.2 فیصد شرکاء نے انسٹاگرام کو سب سے زیادہ متاثر ہونے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جبکہ ٹک ٹاک کے حق میں 6.2 فیصد رائے سامنے آئی۔ فیس بک اور بلاگزسمیت ویب سائٹس کے لیے بالترتیب 3.1 فیصد شرکاء نے رائے دی۔
مزید پڑھیں: بڑی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی آدھی اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھ گیا، ’عام آدمی کیا کرے‘
پی این پی کی رپورٹ کے مطابق سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی مجموعی طور پر اس بات کے حامی ہیں کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز قومی ٹیکس نظام میں اپنا حصہ ڈالیں، تاہم ٹیکس پالیسی منصفانہ ہو اور اس کے ساتھ ایسی معاون پالیسیاں بھی متعارف کرائی جائیں جو جدت، ڈیجیٹل کاروبار اور نئے کانٹینٹ کریئیٹرز کی حوصلہ افزائی کریں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے، اس لیے متوازن پالیسی سازی ناگزیر ہے تاکہ ٹیکس نظام اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بننے کے بجائے اسے مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ ثابت ہو۔














