امریکی خلائی ادارہ ناسا زمین کی جانب بتدریج گرتی اپنی سوئفٹ خلائی دوربین کو بچانے کے لیے اس ہفتے ایک اہم خلائی مشن شروع کرنے جارہا ہے۔ تقریباً 30 ملین ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے تحت ایک روبوٹک خلائی جہاز دوربین کو بلند مدار میں منتقل کرے گا تاکہ وہ اپنی سائنسی خدمات جاری رکھ سکے۔
رپورٹ کے مطابق ناسا نے اس مشن کے لیے امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی کیٹالسٹ اسپیس ٹیکنالوجیز کی خدمات حاصل کی ہیں۔ کمپنی کا تیار کردہ خودکار خلائی جہاز بحرالکاہل میں واقع مارشل جزائر کے ایک ایٹول سے پیگاسس راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا، جبکہ لانچ 30 جون کو متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زمین کی طرف بڑھتی ہوئی رصد گاہ کو بچانے کے لیے ناسا کا غیر معمولی آپریشن
سوئفٹ آبزرویٹری کو 2004 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں سورج کی شدید سرگرمیوں کے باعث اس کا مدار تیزی سے کم ہو رہا ہے، جس کے باعث اسے فوری طور پر زیادہ بلند اور مستحکم مدار میں منتقل کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
منصوبے کے تحت لفٹ نامی خلائی جہاز تقریباً ایک ماہ میں سوئفٹ دوربین تک پہنچے گا اور پھر اگلے چند ماہ کے دوران اس کا مدار موجودہ 224 میل سے بڑھا کر 373 میل تک لے جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر دوربین کا مدار 185 میل سے نیچے آ گیا تو اسے بچانا ممکن نہیں رہے گا، جبکہ اندازہ ہے کہ یہ صورتحال اکتوبر تک پیدا ہوسکتی ہے۔
1.6 ٹن وزنی سوئفٹ دوربین کو مرمت یا دوبارہ مدار میں لے جانے کے لیے کبھی ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا، اسی لیے یہ مشن تکنیکی طور پر نہایت پیچیدہ سمجھا جا رہا ہے اور کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کی خلائی دوربین کا ایک پرزہ خراب، مشاہدات وقتی طور پر معطل
رپورٹ کے مطابق اگر یہ مشن کامیاب رہا تو ستمبر تک سوئفٹ دوبارہ سائنسی مشاہدات شروع کر سکے گی۔ ناسا نے اس دوران اس کے تمام سائنسی آلات بند کر دیے ہیں تاکہ اس کی رفتار کم ہو اور مزید وقت حاصل کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مشن کامیاب ثابت ہوا تو مستقبل میں ہبل خلائی دوربین کو بھی اسی طرز پر بلند مدار میں منتقل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ بھی سورج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث آہستہ آہستہ اپنی بلندی کھو رہی ہے۔
ناسا کے حکام کے مطابق سوئفٹ دوربین کی سائنسی اہمیت بہت زیادہ ہے اور موجودہ مالی وسائل کے تحت اس کا متبادل تیار کرنا ممکن نہیں، اسی لیے اسے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔














