افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار رچرڈ بینیٹ کی جانب سے افغان طالبان کے پروپیگنڈے کو تقویت پہنچانا سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کی، جس پر رچرڈ بینیٹ کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے، جو افغان طالبان رجیم کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے افغانستان میں داخلے پر پابندی کے بعد رچرڈ بینیٹ اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ طالبان کے زیر کنٹرول معلوماتی ذرائع سے پھیلائے گئے جھوٹے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ایک غیرجانبدار تحقیق کار کے بجائے دہشتگرد تنظیموں کے ترجمان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سرحد پار دہشتگردی پر خاموشی سوالیہ نشان
رچرڈ بینیٹ نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی مسلسل سرحد پار دہشتگردی پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جماعت الاحرار اور دیگر گروہوں کی جانب سے انہی علاقوں سے کیے جانے والے سینکڑوں دہشتگرد حملے ان کی توجہ کا مرکز نہیں بنتے جو سوالیہ نشان ہے۔
طالبان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش
رچرڈ بینیٹ طالبان کے بیانیے کو دہرا کر اور ان کے دہشتگرد نیٹ ورک کے تحفظ کی کوشش کرکے اس حکومت کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں جس نے انہیں افغانستان سے بے دخل کیا تھا، تاکہ وہ دوبارہ افغانستان میں داخلے کی راہ ہموار کر سکیں۔ ان کے اقدامات کی بنیاد حقیقت نہیں بلکہ اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی خواہش ہے۔
اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹس نظر انداز کرنے کا الزام
رپورٹ کے مطابق رچرڈ بینیٹ کا طرز عمل اس لیے بھی ناقابل دفاع ہے کیونکہ وہ اقوام متحدہ کی اپنی دستاویزی رپورٹس اور تجزیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم متعدد بار اس بات کی نشاندہی کر چکی ہے کہ جماعت الاحرار، فتح افغانستان اور دیگر دہشتگرد گروہ طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں آزادانہ طور پر سرگرم ہیں۔
طالبان کی طویل عرصے سے یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ دہشتگرد تنظیموں کو اپنے ملک میں جگہ دیتے ہیں اور آبادی والے علاقوں کو کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
رچرڈ بینیٹ نے اقوام متحدہ کے انہی ادارہ جاتی جائزوں کو نظر انداز کیا کیونکہ وہ اس بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے جسے وہ آگے بڑھا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹس افغانستان کو سرحد پار دہشت گردی برآمد کرنے والا مرکز قرار دیتی ہیں، تاہم رچرڈ بینیٹ اپنے بیانات میں اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف منتخب انداز میں شہریوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، سرحد پار حملوں اور انسانی ڈھال کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ کے شواہد کا ذکر نہیں کرتے۔
یہ محض غفلت نہیں بلکہ طالبان کے پروپیگنڈے سے ہم آہنگ ہونے کا دانستہ فیصلہ ہے، جس سے اقوام متحدہ کے ادارہ جاتی وقار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں داعش خراسان کا پھیلاؤ، ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بن گیا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ طالبان اور ان سے وابستہ دہشتگرد گروہ جان بوجھ کر شہری اور عسکری اہداف کے درمیان فرق کو دھندلا کر مبینہ طور پر جھوٹے شہری ہلاکتوں کے بیانیے تشکیل دیتے ہیں۔
ایسے دعوؤں کو بعد ازاں بعض افراد جن میں رچرڈ بینیٹ بھی شامل ہیں، آگے بڑھاتے ہیں، حالانکہ وہ اقوام متحدہ کی اپنی تصدیق شدہ رپورٹس کو بھی نظر انداز کررہے ہیں۔














