پی آئی اے کی نجکاری مکمل، نئی انتظامیہ کا روڈ میپ کیا ہے؟

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یعنی پی آئی اے کی نجکاری کا عمل باقاعدہ طور پر مکمل ہو چکا ہے، جس کے تحت عارف حبیب کنسورشیم نے ایئرلائن کے انتظامی کنٹرول اور اکثریتی حصص کی ملکیت سنبھال لی ہے۔

اس بڑی انتظامی تبدیلی کے بعد عوام اور مسافروں کے لیے کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

نئے طیاروں کی خریداری اور فضائی بیڑے کی توسیع

صارفین کو سفری سہولیات کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ طیاروں کی کمی اور پروازوں کی منسوخی کا سامنا تھا۔

پی آئی اے کے نئے مالک عارف حبیب کے مطابق نجکاری کے معاہدے کے تحت خریدار کنسورشیم فوری طور پر پی آئی اے میں 80 ارب روپے کی نئی ایکویٹی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل ہونا نئے دور کا آغاز، معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا، وزیراعظم شہباز شریف

یہ رقم بنیادی طور پر نئے طیاروں کی خریداری، پرانے طیاروں کے انجنوں کی اپ گریڈیشن اور فضائی بیڑے کی توسیع پر خرچ کی جائے گی تاکہ پروازوں کا شیڈول متاثر نہ ہو۔

اس منصوبے کے تحت پی آئی اے کا فعال فضائی بیڑا 38 طیاروں پر مشتمل ہوگا۔

فضائی خدمات اور دورانِ پرواز سہولتوں میں بہتری

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان کے مطابق نئی انتظامیہ مسافروں کے آرام، احترام اور حفاظت کو اولین ترجیح دے گی۔

اس مقصد کے لیے پی آئی اے کے بکنگ سسٹم اور ویب سائٹ سمیت انفارمیشن سسٹم، گراؤنڈ سروسز اور دورانِ پرواز کیبن سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی روٹس کی بحالی اور سلاٹس کا تحفظ

پی آئی اے کے قیمتی بین الاقوامی روٹس اور بیرونِ ملک ایئرپورٹس پر موجود سلاٹس کے تحفظ کے لیے نئی انتظامیہ متحرک ہو چکی ہے۔

فضائی آپریشنز کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے سے یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا جیسے اہم روٹس پر پی آئی اے کی پروازوں کی دوبارہ بحالی کی راہ ہموار ہوگی، جس کا براہِ راست فائدہ سمندر پار پاکستانیوں کو پہنچے گا۔

ملازمین کا تحفظ اور روزگار کے نئے مواقع

عوامی سطح پر ایک بڑا خدشہ ملازمین کی برطرفی کا تھا، اس حوالے سے حکومت نے اپنی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجکاری کے بعد پہلے 12 ماہ تک کسی بھی ملازم کو فارغ نہیں کیا جائے گا اور ان کی ملازمت کی شرائط بھی برقرار رہیں گی۔
اس کے علاوہ نئی انتظامیہ کے کاروباری توسیعی منصوبے کے باعث طویل مدت میں ایوی ایشن کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

قومی خزانے پر بوجھ میں کمی

ماضی میں عوام کے ٹیکس کا ایک بڑا حصہ پی آئی اے کے سالانہ خسارے اور بیل آؤٹ پیکیجز پر خرچ ہوتا رہا۔ نجکاری کے اس عمل سے حکومت کو 10 ارب روپے موصول ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اب قومی خزانے پر پی آئی اے کے مالی بوجھ میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جس سے بچنے والی رقم کو حکومت عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر سکے گی۔

کرایوں کا تعین مارکیٹ کے مطابق

پی آئی اے ذرائع کے مطابق، جہاں خدمات میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہیں نیشنل ایوی ایشن پالیسی میں ترامیم کے بعد ایئرلائن مسابقتی مارکیٹ میں کام کرے گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کرایوں پر حکومتی سبسڈی یا براہِ راست ریگولیشن میں کمی آئے گی، جبکہ فضائی کرایوں کا تعین مارکیٹ میں طلب اور رسد کے اصولوں کے مطابق کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز