سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنا ہمارے قومی مفادات پر براہ راست حملہ تصور ہوگا، پاکستان کے حصے کے پانی پر قبضے کی کوشش قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، کیونکہ یہی خطے میں امن، استحکام اور آبی تعاون کی بنیاد ہے، عطا اللہ تارڑ
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کے پیچھے ایک اہم تاریخی واقعہ تھا۔ 1948 میں بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی غیرقانونی طور پر روک دیا تھا، جس کے بعد پانی کے تنازع کے حل کے لیے سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات کا آغاز ہوا۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہاکہ پانی کے اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے قریباً 10 سال تک مذاکرات جاری رہے۔ ان مذاکرات میں بین الاقوامی ماہرین اور عالمی بینک نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے بعد بالآخر 1960 میں کراچی میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر ایک کامیاب معاہدہ تصور کیا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے معاملے پر کسی بھی سنگین تنازع یا تصادم کو روکنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پاکستان کی زراعت، معیشت اور توانائی کا اہم ذریعہ ہے، جبکہ دریائے سندھ کا نظام دنیا کے بڑے آبپاشی نیٹ ورک کو پانی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی دریائے سندھ سے وابستہ ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے جیسے اب سندھ طاس معاہدے کے بنیادی اصولوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاک بھارت پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو زرداری
انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے پانی روکنے جیسے اقدامات عالمی اصولوں کے منافی ہیں اور ایسے اقدامات نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔














