ہم عام طور پر اسکرین کے زیادہ استعمال کے ذہنی اثرات پر توجہ دیتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات ہمارے جسم پر بھی ایسے اثرات مرتب کر رہے ہیں جن کا ہمیں اکثر احساس نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: سنگاپور میں بزرگ بھی اسمارٹ فون کے عادی، خاندانی روابط متاثر ہونے لگے
نئی تحقیق کے مطابق مسلسل اسکرین کے استعمال سے بینائی، گردن، جلد، ہاتھوں کی طاقت اور جسمانی حرکات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث انسانوں کی جسمانی ساخت اور عادات میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن کے طویل مدتی اثرات صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
دھندلی نظر اور کم وقت باہر گزارنا
امریکا کی اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبۂ آپٹومیٹری کے پروفیسر ڈونلڈ مٹی کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں سے نزدیک کی نظر کمزور ہونے (مایوپیا) کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم ان کی 20 سالہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ صرف موبائل یا قریبی فاصلے پر کام کرنا اس کی بنیادی وجہ نہیں۔
مزید پڑھیے: ٹوائلٹ میں اسمارٹ فون کا استعمال صحت کے لیے خطرہ قرار، نئی تحقیق میں انکشاف
انہوں نے بتایا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ پہلے کی نسبت کم وقت باہر گزارتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق قدرتی روشنی آنکھوں کی نشوونما پر مثبت اثر ڈالتی ہے اور مایوپیا کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کچھ وقت کھلی فضا میں گزارنا آنکھوں اور مجموعی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
’ٹیک نیک‘، گردن پر اضافی دباؤ
ماہرین کے مطابق موبائل فون استعمال کرتے ہوئے مسلسل گردن جھکا کر نیچے دیکھنے کی عادت ایک ایسی کیفیت پیدا کر سکتی ہے جسے ’ٹیک نیک‘ کہا جاتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق سر کو مسلسل آگے جھکانے سے گردن پر تقریباً 27 کلوگرام تک اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے جو وقت کے ساتھ ریڑھ کی ہڈی، جوڑوں اور پٹھوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس سے پھیپھڑوں کی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے اور جسمانی ساخت میں مستقل تبدیلیاں بھی آ سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا اسمارٹ فون کی نیلی روشنی واقعی آپ کی نیند خراب کرتی ہے؟
ماہرین کا مشورہ ہے کہ موبائل فون اور کمپیوٹر اسکرین کو آنکھوں کی سطح کے قریب رکھا جائے اور وقفے وقفے سے اسکرین سے دوری اختیار کی جائے۔
جلد کے مسائل اور اسمارٹ واچز
برطانیہ کی ماہر امراضِ جلد جسٹین ہیکسٹل کے مطابق مسلسل گردن جھکائے رکھنے سے گردن پر جھریاں پڑنے کا خدشہ نظریاتی طور پر موجود ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک مضبوط سائنسی شواہد دستیاب نہیں ہیں۔
البتہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اسمارٹ واچز کو مسلسل پہننے سے جلد پر جلن، الرجی اور بعض اوقات ایکزیما جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اسمارٹ واچز کو وقتاً فوقتاً اتارنا اور جلد کی صفائی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
ہاتھوں کی گرفت کمزور ہونے کا خدشہ
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہاتھوں کی گرفت کی مضبوطی انسان کی مجموعی صحت کا ایک اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے لیکن کئی ممالک میں خصوصاً نوجوانوں میں گرفت کی طاقت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جاپانی شہر میں روزانہ صرف 2 گھنٹے اسمارٹ فون استعمال کرنے کی تجویز زیر غور
جرمنی کی میڈیکل یونیورسٹی آف لاؤزٹز کے پروفیسر جوہانس بیلر کے مطابق کمپیوٹر اور اسکرین پر مبنی طرزِ زندگی جسمانی سرگرمیوں میں کمی کا باعث بن رہا ہے جس کے نتیجے میں جسمانی فٹنس اور ہاتھوں کی طاقت متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش، جسمانی سرگرمیاں اور ہاتھوں کے استعمال پر مبنی مشاغل اس مسئلے سے بچاؤ میں مدد دے سکتے ہیں۔
موٹر اسکلز اور دماغی صلاحیتوں پر اثرات
جرمنی کی یونیورسٹی آف ریگنزبرگ کے پروفیسر سباسٹین سگیٹ کے مطابق اگرچہ ٹیکنالوجی بعض مخصوص مہارتوں جیسے اسکرین پر کلک اور سوائپ کرنے کی صلاحیت، کو بہتر بنا سکتی ہے لیکن مجموعی طور پر باریک جسمانی حرکات (فائن موٹر اسکلز) پر اس کے منفی اثرات کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق بچوں اور نوجوانوں میں موٹر اسکلز اور ذہنی و تعلیمی کارکردگی کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اسکرین کے بڑھتے ہوئے استعمال کے طویل مدتی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
’فون پنکی‘ کا پڑنا، یہ کیا ہوتا ہے؟
رپورٹ میں ایک دلچسپ مشاہدے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق بعض افراد میں طویل عرصے تک موبائل فون کو ایک ہی انداز میں پکڑنے کے باعث چھوٹی انگلی پر سخت یا ابھرا ہوا نشان بن سکتا ہے جسے غیر رسمی طور پر ’فون پنکی‘ کہا جاتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سائنسی شواہد ابھی محدود ہیں اور اسے باقاعدہ طبی مسئلہ قرار دینے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ طویل عرصے تک ایک ہی پوزیشن میں موبائل استعمال کرنے سے ہاتھوں، انگلیوں اور کلائیوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
آنے والی نسلوں میں اثرات کی منتقلی
ماہرین کے مطابق اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات عموماً فوری یا ڈرامائی انداز میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ یہ بتدریج سامنے آتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر اسکرین کے زیادہ استعمال، جسمانی سرگرمی میں کمی اور محدود عملی سرگرمیوں کا رجحان آنے والی نسلوں میں بھی برقرار رہا تو اس کے اجتماعی اثرات مستقبل میں جسمانی صحت، موٹر اسکلز اور حتیٰ کہ ذہنی صلاحیتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مناسب احتیاطی تدابیر، ورزش اور متوازن طرزِ زندگی اختیار کرکے ان ممکنہ اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بچے اسکرینز پر بڑھ رہے ہیں، ای پی آئی اسٹڈی میں تشویشناک اعداد و شمار
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اسکرین کے استعمال کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے روزمرہ زندگی میں عملی سرگرمیوں جیسے کھانا پکانے، دستکاری، موسیقی سیکھنے یا ہاتھ سے لکھنے جیسی عادات کو فروغ دیا جائے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے جسمانی اثرات عموماً بتدریج اور معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن طویل عرصے تک اور وسیع پیمانے پر ان کا استعمال مستقبل میں صحت اور جسمانی صلاحیتوں کے حوالے سے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا کس وقت ذہنی صحت کے لیے مضر ہوتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسمارٹ فونز کے جسم پر پڑنے والے اثرات عموماً بتدریج ظاہر ہوتے ہیں تاہم روزمرہ عادات میں معمولی تبدیلیاں جیسے زیادہ وقت باہر گزارنا، جسمانی سرگرمی بڑھانا اور اسکرین کے استعمال میں وقفے لینا، ان اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔













