قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں ’مثبت پیشرفت‘ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقوں نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ادھر امریکی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں سنجیدگی نظر آ رہی ہے، تاہم ایران نے دفاعی صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون پروگرام کو ایک بار پھر ناقابلِ مذاکرات قرار دیتے ہوئے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں فریقوں نے آئندہ بھی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ سابق ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تکمیل کے فوراً بعد اگلا اجلاس جلد از جلد منعقد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے امریکا، ایران مذاکرات کا دوحہ دور ختم، آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثے مذاکرات کا محور رہے
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر اور سابق امریکی سفارت کار گورڈن گرے نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ قطر کی جانب سے ’مثبت پیشرفت‘ کی اصطلاح کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اور ایران مذاکرات کو سنجیدگی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔
اختتم الوسطاء القطريون والباكستانيون اليوم في الدوحة اجتماعات منفصلة مع المفاوضين الأمريكيين والإيرانيين، حيث تم إحراز تقدم إيجابي بشأن القضايا المتعلقة بمذكرة التفاهم الموقعة في إسلام أباد، استنادًا إلى مخرجات قمة بحيرة لوسيرن. واتفقت الأطراف على مواصلة المناقشات خلال الفترة…
— د. ماجد محمد الأنصاري Dr. Majed Al Ansari (@majedalansari) July 1, 2026
ان کا کہنا تھا کہ سفارتی زبان میں اگر مذاکرات کو ’واضح اور کھل کر تبادلہ خیال‘ قرار دیا جائے تو اس کا مطلب عموماً یہ ہوتا ہے کہ بات چیت ناکام رہی، اس کے مقابلے میں ’مثبت پیشرفت‘ کی اصطلاح حوصلہ افزا ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مذاکرات کا براہِ راست کے بجائے بالواسطہ ہونا کوئی زیادہ حوصلہ افزا پہلو نہیں۔
گورڈن گرے کے مطابق ایران کی بعض بنیادی شرائط امریکی مذاکرات کاروں کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوں گی، اگرچہ بعض معاملات ایسے بھی ہیں جن پر پیشرفت ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رکھنے کا مطالبہ امریکا کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون سے بھی متصادم ہے، تاہم اس معاملے میں کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے اور آبنائے کے دوسرے کنارے پر واقع عمان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق لبنان سے متعلق معاملات پر پیشرفت کے لیے امریکا کے لیے لچک دکھانا نسبتاً آسان ہوگا، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیحات میں یہ مسئلہ سرفہرست نہیں، اس لیے اس سے کسی ممکنہ معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ پیدا ہونے کا امکان نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟
گورڈن گرے نے مزید کہا کہ یورینیم افزودگی کا حق بھی ایران کی دیرینہ اور بنیادی پالیسی ہے، جو شاہِ ایران کے دور سے تہران کے لیے ایک سرخ لکیر چلی آ رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران کے حقِ افزودگی کی مکمل مخالفت نہیں کرتا بلکہ اصل اختلاف افزودگی کی سطح اور اس کی بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار پر ہے۔
ادھر ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع میجر مجید ابن الرضا نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیت، میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی قومی سلامتی سے جڑے ایسے معاملات ہیں جن پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں ناقابلِ مذاکرات ہیں، نہ اب اور نہ ہی مستقبل میں ان پر کوئی بات چیت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو مزید ترقی دیتا رہے گا۔
واضح رہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے ہزاروں ڈرون استعمال کیے تھے۔ کم لاگت میں بڑی تعداد میں تیار کیے جانے والے یہ ڈرون اجتماعی حملوں کے ذریعے فضائی دفاعی نظام پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ انہیں مار گرانا بھی مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق بعض مواقع پر ایک ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے دس لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا میزائل استعمال کرنا پڑا۔














