امریکا، ایران مذاکرات کا دوحہ دور ختم، آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثے مذاکرات کا محور رہے

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان 2 روزہ بالواسطہ مذاکرات کا دور مکمل ہوگیا، تاہم کسی حتمی پیشرفت یا دیرپا امن معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ مذاکرات میں بنیادی توجہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی، ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی اور جون میں ہونے والے عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے تکنیکی پہلوؤں پر مرکوز رہی، جبکہ جوہری پروگرام پر آئندہ مرحلے میں بات چیت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے 2 روزہ بالواسطہ مذاکرات کا دور اختتام پذیر ہوگیا، تاہم فریقین کے درمیان کسی بڑے بریک تھرو یا مستقل امن معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں شریک ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے بنیادی طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ دونوں نکات 2 ہفتے قبل طے پانے والے عبوری معاہدے کے اہم حصے ہیں۔

قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات کے اگلے دور کا انعقاد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد کیا جائے گا، جنہیں 9 جولائی کو سپرد خاک کیا جانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟

وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ دوحہ مذاکرات میں جنگ بندی پر مبنی مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر ’مثبت پیشرفت‘ ہوئی ہے اور یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے نتائج کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی پیشرفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی ڈی نیوکلیئرائزیشن اچھی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، دونوں جانب سے بہت اچھی ملاقاتیں ہوئی ہیں، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

تاہم مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی تفصیلی گفتگو نہیں ہوئی کیونکہ مذاکرات مکمل طور پر تکنیکی نوعیت کے تھے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جوہری مسئلہ آئندہ مذاکرات میں زیر بحث آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش ہے اور جلد اس حوالے سے باقاعدہ مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔

قطری وزارت خارجہ کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود نے براہ راست ملاقات کے بجائے قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جنہیں وائٹ ہاؤس نے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے خطے میں بھیجا تھا، اس دور کی نشستوں میں شریک نہیں ہوئے۔

ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کی، جنہوں نے مذاکرات کے اختتام کی تصدیق کی، تاہم کسی بھی فریق نے یہ نہیں بتایا کہ اختلافی نکات پر کوئی حتمی پیشرفت ہوئی یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، اسٹاک مارکیٹ میں 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی آئندہ صورتحال بھی اہم موضوع رہی۔ عبوری معاہدے کے تحت ایران اور امریکا نے اس اہم بحری گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت اسی راستے سے ہوتی تھی۔

اگرچہ حالیہ دنوں میں بحری ٹریفک جزوی طور پر بحال ہوئی ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی مجموعی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، خصوصاً گزشتہ ہفتے ایک مال بردار جہاز پر ایرانی حملے اور اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جوابی کارروائیوں کے باعث خدشات برقرار ہیں۔

رائٹرز کے مطابق 2 سینیئر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے پرعزم ہے، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ عبوری معاہدے میں دی گئی فیس سے استثنیٰ کی مدت ختم ہونے کے بعد اگست کے وسط سے آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ایک اور بڑی جنگ کے امکانات کو کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کافی آگے بڑھ چکے ہیں اور انہیں امید ہے کہ صورتحال مزید بہتر ہوگی۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں، جبکہ متعدد مالیاتی اداروں نے بھی تیل کی قیمتوں سے متعلق اپنی پیش گوئیوں میں کمی کر دی۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ ایک غیر ملکی کنٹینر بردار جہاز ایرانی حکام کی مقرر کردہ بحری راہداری سے ہٹ کر کم گہرے پانی میں پھنس گیا۔

تیل کی عالمی منڈی کے تجزیاتی ادارے ’وانڈا انسائٹس‘ کی بانی وندانا ہری نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بحال تو ہو رہی ہیں، لیکن یہ عمل سست، غیر متوقع اور اب بھی مکمل طور پر شفاف نہیں۔

ادھر کئی یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں تعاون کی پیشکش کی ہے، تاہم جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا کہ ایران کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے باعث جرمنی اس کارروائی میں شریک ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز