قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان 2 روزہ بالواسطہ مذاکرات کا دور مکمل ہوگیا، تاہم کسی حتمی پیشرفت یا دیرپا امن معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ مذاکرات میں بنیادی توجہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی، ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی اور جون میں ہونے والے عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے تکنیکی پہلوؤں پر مرکوز رہی، جبکہ جوہری پروگرام پر آئندہ مرحلے میں بات چیت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے 2 روزہ بالواسطہ مذاکرات کا دور اختتام پذیر ہوگیا، تاہم فریقین کے درمیان کسی بڑے بریک تھرو یا مستقل امن معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
Qatar says indirect technical talks between the US and Iran in Doha made "positive progress" on the June 17 memorandum of understanding.
Tehran says a "communication channel" will be established to report breaches of the agreement.
🔴 LIVE updates: https://t.co/EZb3NppqfJ pic.twitter.com/77ztGZZ6e0
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 2, 2026
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں شریک ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے بنیادی طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ دونوں نکات 2 ہفتے قبل طے پانے والے عبوری معاہدے کے اہم حصے ہیں۔
قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات کے اگلے دور کا انعقاد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد کیا جائے گا، جنہیں 9 جولائی کو سپرد خاک کیا جانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟
وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ دوحہ مذاکرات میں جنگ بندی پر مبنی مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر ’مثبت پیشرفت‘ ہوئی ہے اور یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے نتائج کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی پیشرفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی ڈی نیوکلیئرائزیشن اچھی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، دونوں جانب سے بہت اچھی ملاقاتیں ہوئی ہیں، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
تاہم مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی تفصیلی گفتگو نہیں ہوئی کیونکہ مذاکرات مکمل طور پر تکنیکی نوعیت کے تھے۔
According to Axios, citing officials with knowledge on the matter, the U.S. and Iran have agreed to “keep things quiet” in the coming weeks, in an effort to realize some level of success within the MOU’s 60-day negotiation period. According to officials, speaking to Axios, talks… pic.twitter.com/4DQgb6ddto
— OSINTdefender (@sentdefender) July 1, 2026
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جوہری مسئلہ آئندہ مذاکرات میں زیر بحث آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش ہے اور جلد اس حوالے سے باقاعدہ مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود نے براہ راست ملاقات کے بجائے قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جنہیں وائٹ ہاؤس نے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے خطے میں بھیجا تھا، اس دور کی نشستوں میں شریک نہیں ہوئے۔
ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کی، جنہوں نے مذاکرات کے اختتام کی تصدیق کی، تاہم کسی بھی فریق نے یہ نہیں بتایا کہ اختلافی نکات پر کوئی حتمی پیشرفت ہوئی یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، اسٹاک مارکیٹ میں 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی آئندہ صورتحال بھی اہم موضوع رہی۔ عبوری معاہدے کے تحت ایران اور امریکا نے اس اہم بحری گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت اسی راستے سے ہوتی تھی۔
اگرچہ حالیہ دنوں میں بحری ٹریفک جزوی طور پر بحال ہوئی ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی مجموعی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، خصوصاً گزشتہ ہفتے ایک مال بردار جہاز پر ایرانی حملے اور اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جوابی کارروائیوں کے باعث خدشات برقرار ہیں۔
رائٹرز کے مطابق 2 سینیئر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے پرعزم ہے، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ عبوری معاہدے میں دی گئی فیس سے استثنیٰ کی مدت ختم ہونے کے بعد اگست کے وسط سے آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ایک اور بڑی جنگ کے امکانات کو کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کافی آگے بڑھ چکے ہیں اور انہیں امید ہے کہ صورتحال مزید بہتر ہوگی۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں، جبکہ متعدد مالیاتی اداروں نے بھی تیل کی قیمتوں سے متعلق اپنی پیش گوئیوں میں کمی کر دی۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ ایک غیر ملکی کنٹینر بردار جہاز ایرانی حکام کی مقرر کردہ بحری راہداری سے ہٹ کر کم گہرے پانی میں پھنس گیا۔
تیل کی عالمی منڈی کے تجزیاتی ادارے ’وانڈا انسائٹس‘ کی بانی وندانا ہری نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بحال تو ہو رہی ہیں، لیکن یہ عمل سست، غیر متوقع اور اب بھی مکمل طور پر شفاف نہیں۔
ادھر کئی یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں تعاون کی پیشکش کی ہے، تاہم جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا کہ ایران کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے باعث جرمنی اس کارروائی میں شریک ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔














