سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن کا بنیادی ستون، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل نہیں کر سکتا، احمر بلال صوفی

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp
بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا ہے کہ ’انڈس واٹر ٹریٹی‘ (سندھ طاس معاہدہ) محض پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں امن کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہ ہی ختم کر سکتا ہے۔
’وی نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے احمر بلال صوفی نے واضح کیا کہ 1960 میں ہونے والا یہ معاہدہ غیر معینہ مدت کے لیے مؤثر ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا خاتمہ صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔

دریا مشترکہ قدرتی وسیلہ

احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سرحد پار بہنے والے دریاؤں کو کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں سمجھا جاتا، بلکہ انہیں مشترکہ قدرتی وسیلہ تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہنے والے دریاؤں پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ خطرے میں؟ پاکستان کے دریاؤں پر بھارت کے متنازع ڈیموں کی کہانی
انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے انڈس واٹر ٹریٹی طے پایا تھا، جس کے تحت 3 مشرقی دریا بھارت جبکہ 3 مغربی دریا پاکستان کے لیے مختص کیے گئے۔

پاکستان کے بڑھتے ہوئے خدشات

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس معاہدے میں اپنے مفاد سے ہٹ کر ایک بڑا فیصلہ اس یقین دہانی پر کیا تھا کہ مغربی دریاؤں کا پانی بلا رکاوٹ پاکستان تک پہنچے گا۔
یہی یقین دہانی معاہدے کی بنیاد ہے، تاہم بھارت کی جانب سے حالیہ برسوں میں چناب کا پانی موڑنے سے متعلق منصوبوں، ٹینڈرز، زمین کے حصول اور تعمیراتی سرگرمیوں نے پاکستان کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

یکطرفہ اقدام کی کوئی قانونی گنجائش نہیں

بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی نے بتایا کہ بھارت میں مختلف سیاسی جماعتوں کا ’سندھ طاس معاہدے‘ سے متعلق مؤقف مختلف رہا ہے۔
بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) برسوں سے اس معاہدے پر اعتراضات اٹھاتی آ رہی ہے اور 2016 میں نریندر مودی نے بھی معاہدہ ختم کرنے کی بات کی تھی، تاہم قانونی ماہرین نے واضح کیا تھا کہ معاہدے کا آرٹیکل 12 کسی بھی یکطرفہ اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت نے بعد ازاں معاہدے میں تبدیلی کے لیے پاکستان کو نوٹسز بھیجے، مگر پاکستان نے تفصیلی ایجنڈا طلب کیا جس پر بھارت کی طرف سے کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔
بعد میں 2025 کے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر پانی کے معاملے کو دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ دونوں معاملات کا قانونی طور پر آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

پانی کا بطور ہتھیار استعمال عالمی قوانین کے کھلی خلاف ورزی

احمر بلال صوفی نے زور دیا کہ کسی ملک کے کروڑوں شہریوں کو پانی سے محروم کرنے کی دھمکی صرف ’انڈس واٹر ٹریٹی‘ کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ بنیادی انسانی حقوق، اقوام متحدہ کے اصولوں اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا، حنا ربانی کھر
انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی ریاست پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے تو یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی بھی خلاف ورزی شمار ہوگی، کیونکہ جنگ کے قوانین کے تحت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
ان کے مطابق بھارت کی جانب سے معاہدے کے تحت دی گئی یقین دہانی سے پیچھے ہٹنے کے بعد پاکستان کے لیے خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ بھارت اپنے موجودہ آبی ڈھانچے کو پانی روکنے، اس کی ترسیل میں تاخیر یا مستقبل میں رخ موڑنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے قانونی اور سفارتی حکمت عملی

احمر بلال صوفی نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو اس صورتحال کا صرف سیاسی نہیں بلکہ قانونی جواب دینا چاہیے۔ پاکستان پہلے مرحلے میں بھارت سے باضابطہ سفارتی سطح پر مطالبہ کرے کہ وہ ایسے بیانات اور اقدامات سے باز رہے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی قانونی حکمت عملی مزید مؤثر بناتے ہوئے ان تمام کمپنیوں، مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور بینکوں کو بھی نوٹسز جاری کرنے چاہییں جو ایسے منصوبوں میں شریک ہوں جن سے پاکستان کے آبی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
اگر ایسے منصوبوں کے نتیجے میں پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے تو پاکستان متعلقہ اداروں کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں اربوں ڈالر ہرجانے کے دعوے دائر کرنے کا حق رکھتا ہے۔

عالمی ثالثی عدالت اور بین الاقوامی مؤقف

احمر بلال صوفی نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے، جہاں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کو یکطرفہ طور پر غیر مؤثر نہیں بنایا جا سکتا، تاہم بھارت اس قانونی عمل کو بھی تسلیم نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قانونی محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی اپنا مقدمہ مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے تاکہ عالمی برادری کو باور کرایا جا سکے کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، کیونکہ یہی خطے میں امن، استحکام اور آبی تعاون کی بنیاد ہے، عطا اللہ تارڑ
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا لیکن پھر بھی اگر بھارت یکطرفہ اقدامات پر عمل درآمد جاری رکھتا ہے تو مستقبل میں کشیدگی میں اضافے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو اس معاملے پر عالمی حمایت حاصل نہیں ہو سکی جبکہ پاکستان بتدریج اپنا قانونی مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کر رہا ہے۔
خود بھارت کے اندر بھی متعدد دانشور اور ماہرین قانون اس مؤقف کی مخالفت کر رہے ہیں کہ زیریں کنارے پر واقع ملک (پاکستان) کے پانی کے حق کو چیلنج کیا جائے۔

مستقبل کے چیلنجز اور اضافی پروٹوکول

احمر بلال صوفی نے تجویز دی کہ مستقبل میں اگر دونوں ممالک مذاکرات کی راہ اختیار کریں تو ’انڈس واٹر ٹریٹی‘ کے ساتھ ایک اضافی پروٹوکول پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، جس میں موسمیاتی تبدیلی سمیت نئے چیلنجز کو شامل کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر چین کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی، کشمیر اور سر کریک سمیت کئی تنازعات کے مضبوط قانونی پہلو موجود ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان قانونی سفارت کاری کو مزید فعال بنائے اور بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے ’سندھ طاس معاہدے‘ اور اپنے آبی حقوق کا مؤثر دفاع کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp