بلوچستان میں سیاحوں کی گاڑی پر ہونے والے حملے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ان کی اہلیہ شدید زخمی ہو گئیں جس کے بعد گوگل میپس کے استعمال اور اس کی محفوظ نیویگیشن سے متعلق سوالات نے ایک بار پھر توجہ حاصل کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان دیکھنے کی چاہ میں آئے سیاح کے قتل کا مقدمہ درج، دہشتگردی سمیت متعدد دفعات شامل
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر گوگل میپس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاہم اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعہ واقعی گوگل میپس کی خرابی کا نتیجہ تھا یا پھر حساس اور غیر مانوس علاقوں میں سفر کے دوران نیویگیشن ایپس کو محفوظ اور مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے؟
اس حوالے سے گوگل میپس کے مقامی کنٹریبیوٹر کاشف مسیڈیا کا کہنا ہے کہ حالیہ افسوسناک واقعے کو ایک غیر معمولی سانحہ سمجھنا چاہیے اور اس کی تمام تر ذمہ داری گوگل میپس پر عائد کرنا درست نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق گوگل میپس بنیادی طور پر سیٹلائٹ، جی پی ایس اور صارفین کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کام کرتا ہے تاہم دور دراز اور کم رسائی والے علاقوں میں اس کی کارکردگی اور درستگی مختلف ہو سکتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں صارفین مسلسل مختلف مقامات، سڑکوں اور کاروباری مراکز کو گوگل میپس پر شامل اور اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں کے نقشے نسبتاً زیادہ درست اور جامع ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی گوگل میپس کے کنٹریبیوٹرز اپنی استطاعت کے مطابق مختلف علاقوں کی میپنگ کرتے ہیں تاہم ملک میں ایسے متعدد علاقے موجود ہیں جہاں عام لوگوں کی رسائی محدود یا ناممکن ہے جس کے باعث وہاں درست معلومات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی علاقے میں باقاعدہ سڑک موجود نہ ہو لیکن لوگ مسلسل ایک ہی راستے پر جی پی ایس آن رکھ کر سفر کرتے رہیں تو گوگل میپس اس راستے کو بھی ممکنہ سڑک کے طور پر شناخت کرنا شروع کر سکتا ہے۔ تاہم گوگل میپس کے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود نہیں کہ وہ خود فیصلہ کر سکے کہ کوئی راستہ محفوظ ہے یا غیر محفوظ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت پاکستان کے کئی دور افتادہ علاقوں میں گوگل میپس پر ابھی بھی کافی کام ہونا باقی ہے۔ ان کے مطابق شہری علاقوں میں میپنگ کا معیار نسبتاً بہتر ہے لیکن دیہی، غیر آباد اور دشوار گزار علاقوں میں معلومات کی کمی اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
ان کے مطابق اگر کوئی شخص کوئٹہ سے کراچی یا کسی دوسرے بڑے شہر کا سفر کرتا ہے تو گوگل میپس اسے مکمل راستہ اور متعدد متبادل روٹس فراہم کر دیتا ہے تاہم اصل مسئلہ ان علاقوں میں پیدا ہوتا ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں اگر صارف نے پہلے سے آف لائن میپس ڈاؤن لوڈ نہ کیے ہوں تو نیویگیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: دشت واقعہ: سرفراز بگٹی کی مرحوم تاجر علی مرتضیٰ کے گھر آمد، بچیوں کی کفالت کا اعلان
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ طویل سفر پر روانہ ہونے سے قبل متعلقہ علاقوں کے آف لائن میپس ضرور ڈاؤن لوڈ کر لینے چاہییں۔ ان کے مطابق اگر آف لائن میپ پہلے سے موجود ہو تو انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باوجود گوگل میپس جی پی ایس کی مدد سے بڑی حد تک درست رہنمائی فراہم کرتا رہتا ہے جس کا انہوں نے ذاتی تجربہ بھی بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر موبائل سگنل اور جی پی ایس دونوں متاثر ہو جائیں تو پھر کسی بھی نیویگیشن سروس کی کارکردگی متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گوگل میپس پر کسی علاقے کو غیر محفوظ یا خطرناک قرار دینا عام صارف یا کنٹریبیوٹر کے اختیار میں نہیں۔ ان کے مطابق یہ متعلقہ سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطرناک مقامات پر وارننگ بورڈز نصب کریں اور مناسب حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں۔
البتہ انہوں نے بتایا کہ گوگل میپس میں ایک ایسا فیچر موجود ہے جس کے ذریعے صارفین سڑک پر حادثے، ٹریفک جام، گڑھے، سڑک کی خرابی یا دیگر رکاوٹوں کی اطلاع دے سکتے ہیں جس سے بعد میں آنے والے دیگر صارفین کو بھی صورتحال سے آگاہی حاصل ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ گوگل میپس غلط راستہ دکھا رہا ہے حالانکہ اصل مسئلہ کمزور انٹرنیٹ، جی پی ایس سگنل یا ٹریفک کی صورتحال بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق گوگل میپس گاڑی کی رفتار بھی ظاہر کرتا ہے جسے ڈرائیور اپنی گاڑی کے اسپیڈومیٹر سے ملا کر جانچ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ان کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہروں میں گوگل میپس اکثر ٹریفک سے بچنے کے لیے متبادل گلیوں یا شارٹ کٹ راستوں کی تجویز دیتا ہے۔ اگرچہ یہ راستے وقت بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں تاہم ہر صورت میں ان پر آنکھ بند کرکے عمل کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ گوگل میپس کا بنیادی مقصد وقت اور فاصلے کو کم کرنا ہے نہ کہ کسی راستے کی سیکیورٹی یا مقامی حالات کا اندازہ لگانا۔ اس لیے صارفین کو ہر وقت اپنی عقل، مشاہدے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر رات کے وقت گوگل میپس کسی ویران جنگل یا غیر معروف راستے کی جانب رہنمائی کر رہا ہو تو صرف ایپ کی ہدایات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی سمجھ بوجھ اور حالات کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔
اس سوال پر کہ کیا پاکستان میں گوگل میپس کے کنٹریبیوٹرز کی تعداد کم ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے اپنے کئی ہمسایہ ممالک سے پیچھے ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش جیسے ممالک میں گوگل میپس کے کنٹریبیوٹرز کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جس کی وجہ سے وہاں نقشے زیادہ جامع اور بہتر انداز میں اپ ڈیٹ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں گوگل میپس تقریباً 95 فیصد مواقع پر درست رہنمائی فراہم کرتا ہے جبکہ باقی چند فیصد مسائل انٹرنیٹ، جی پی ایس، مقامی حالات یا نامکمل معلومات کی وجہ سے پیش آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی مبینہ غلط رہنمائی، کراچی کا خاندان مستونگ میں حملے کا شکار
گفتگو کے اختتام پر انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ گوگل میپس بلاشبہ ایک مفید اور مؤثر رہنما ہے تاہم اس پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ خصوصاً دور دراز، غیر آباد یا حساس علاقوں میں سفر کے دوران آف لائن میپس کا استعمال کریں، مقامی افراد سے رہنمائی حاصل کریں اور ہر وقت اپنی عقل، تجربے اور زمینی حالات کے مطابق فیصلہ کریں۔












