‘سونے کے بدلے سونا، تانبہ نہیں’، سپریم کورٹ کا اراضی معاوضہ کیس میں اہم فیصلہ

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ریاست کو عوامی مفاد میں اراضی حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم متاثرہ شہریوں کو مکمل، منصفانہ اور حقیقی معاوضہ دینا آئینی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ زمین کے معاوضے کا تعین صرف سرکاری نرخوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال، مستقبل کی ترقی اور حصولِ اراضی میں تاخیر کے باعث قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

یہ اہم آبزرویشن سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے صوابی میں نہری منصوبے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق کیس میں 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں دی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: شادی میں دلہن کو ملنے والے زیورات اس کی ذاتی ملکیت قرار

عدالت عظمیٰ نے خیبرپختونخوا حکومت کی تمام سول اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ اور ریفرنس کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا، جن میں زمین مالکان کے حق میں سرکاری معاوضے میں اضافہ کیا گیا تھا۔

فیصلے کے مطابق زمین مالکان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ معاوضہ اراضی کی حقیقی مالیت سے کم ہے، جس پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔

ریفرنس کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر معاوضہ بڑھایا، جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں خیبرپختونخوا حکومت نے بڑھائے گئے معاوضے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم عدالت عظمیٰ نے حکومت کے تمام اعتراضات مسترد کر دیے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کی جیل اصلاحات کانفرنس کا اعلامیہ جاری، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں اور سہولیات کے بحران پر تشویش

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صرف سرکاری ریٹ کی بنیاد پر اراضی کا معاوضہ مقرر کرنا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ عدالت کے مطابق زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو، اس کے مستقبل میں استعمال اور ترقی کے امکانات کو بھی معاوضے کے تعین میں شامل کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر اراضی کے حصول کے عمل میں تاخیر ہو تو اس دوران جائیداد کی قیمتوں میں اضافے اور افراطِ زر کے اثرات کو بھی معاوضے کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ شہری کو حقیقی مالی نقصان کا ازالہ ہو سکے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: سزا بڑھانے کی اپیل خارج، 14 سال بعد رہائی پا چکے قیدی کے بارے اہم حکم

سپریم کورٹ نے فیصلے میں اس اصول پر بھی زور دیا کہ اراضی کے معاوضے کا معیار ’سونے کے بدلے سونا، تانبہ نہیں‘ ہونا چاہیے، یعنی متاثرہ مالک کو ایسا معاوضہ ملنا چاہیے جو اس کی زمین کی حقیقی قدر کی عکاسی کرے اور اسے مکمل مالی انصاف فراہم کرے۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ عوامی مفاد میں اراضی کا حصول ریاست کا قانونی اختیار ضرور ہے، لیکن منصفانہ، مکمل اور حقیقی معاوضہ دینا ہر متاثرہ شہری کا آئینی حق ہے، جسے ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی