مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی دنیا کی نمایاں شخصیات میں شمار ہونے والے یان لیکون کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس ایسے روبوٹس بھی موجود نہیں جو حقیقی دنیا کو ایک چوہے جتنا سمجھ سکیں‘۔ وہ ایک دہائی تک فیس بک کی مالک کمپنی میٹا میں چیف اے آئی سائنسدان کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے تاہم سنہ 2025 میں کمپنی چھوڑنے کے بعد انہوں نے ’ایڈوانسڈ مشین انٹیلیجنس لیبز‘کی بنیاد رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چشمے: سہولت کے ساتھ غلط معلومات اور پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آگئے
یان لیکون کا مقصد مصنوعی ذہانت کو موجودہ نظاموں جیسے کہ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور جیمینائی سے آگے لے جانا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام اپنی جگہ مفید ضرور ہیں لیکن وہ حقیقی دنیا کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت کبھی حاصل نہیں کر سکیں گے یعنی ایسے روبوٹ تیار کرنا جو گھریلو کام کاج انجام دے سکیں۔
فرانس کے معروف ٹیکنالوجی میلے ’ویوا ٹیک‘ کے موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے یان لیکون نے کہا کہ موجودہ اے آئی ماڈلز انسانی سطح کی ذہانت، انسانی طرز کی ذہانت یا حتیٰ کہ جانوروں جیسی ذہانت تک پہنچنے کا راستہ نہیں ہیں کیونکہ وہ حقیقی دنیا کے ڈیٹا سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تیار ہی نہیں کیے گئے۔
اسی وجہ سے پیرس میں قائم اے ایم آئی لیبز ایک نئی قسم کی مصنوعی ذہانت پر کام کر رہی ہے جو چیٹ جی پی ٹی اور اس کے حریفوں کے بنیادی ٹیکنالوجی ماڈل سے مختلف ہوگی۔
ایک ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری
سرمایہ کار بھی اس تصور میں بڑی صلاحیت دیکھتے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں اے ایم آئی لیبز نے اعلان کیا کہ اسے ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے جس میں امریکی چِپ ساز کمپنی این ویڈیا اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کے نجی سرمایہ کاری فنڈ سمیت کئی بڑے سرمایہ کار شامل ہیں۔
یہ ابتدائی سرمایہ کاری کا مرحلہ سیڈ فنڈنگ یورپ کی تاریخ کے بڑے ترین ابتدائی فنڈنگ راؤنڈز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
’بڑے ماڈلز ذہین نہیں‘
یان لیکون کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے بڑے زبان ماڈلز ایل ایل ایمس کوڈنگ، ریاضی کے مسائل حل کرنے اور متن تخلیق کرنے جیسے کاموں میں انتہائی مہارت رکھتے ہیں لیکن یہ مسائل پہلے سے متعین اور قابلِ پیشگوئی ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اے آئی ہماری تحریر کا قدرتی اور منفرد انداز چھین تو نہیں رہی؟
ان کے بقول یہ ماڈلز بنیادی طور پر معلومات جمع کرتے ہیں اور وہ وہی کچھ دہرا سکتے ہیں جس پر انہیں تربیت دی گئی ہو لیکن انہیں حقیقت میں ذہین نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان کے پاس بنیادی فہم موجود نہیں ہوتی۔
لیکون کے مطابق حقیقی دنیا میں ہر عمل کے بے شمار ممکنہ نتائج ہوتے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے زیادہ لچکدار اور حقیقت پسند مصنوعی ذہانت کی ضرورت ہے۔
وہ اس کی مثال ایک قلم سے دیتے ہیں۔ اگر قلم کو اس کی نوک پر کھڑا کر کے چھوڑ دیا جائے تو ایک چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ قلم گر جائے گا لیکن کوئی انسان یہ پیش گوئی نہیں کرتا کہ قلم کس سمت میں گرے گا کیونکہ اس کا تعین ممکن نہیں۔
تاہم ایک بڑا زبان ماڈل اپنے تربیتی ڈیٹا کی بنیاد پر قلم کے اگلے مرحلے کی ایک مخصوص پیشگوئی کرنے کی کوشش کرے گا جو غالباً غلط ثابت ہوگی کیونکہ وہ حقیقی طبیعیاتی صورتحال کو نہیں سمجھ رہا بلکہ صرف شماریاتی اندازے لگا رہا ہوتا ہے۔
نئی ٹیکنالوجی جی اے پی اے
یان لیکون کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی جس نئے نظام پر کام کر رہی ہے اسے جوائنٹ ایمبیڈنگ پریڈکٹیو آرکیٹیکچر (جے ای پی اے) کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟
یہ نظام حقیقی دنیا کے تجریدی یا خلاصہ ماڈلز تیار کرتا ہے جن کی مدد سے وہ مختلف اعمال کے ممکنہ نتائج کا اندازہ لگا سکتا ہے۔
اگرچہ یہ عمل انتہائی پیچیدہ ریاضی پر مبنی ہے لیکن بنیادی طور پر یہ غیر ضروری معلومات کو الگ کر دیتا ہے اور مصنوعی ذہانت کے سامنے دنیا کی ایک مؤثر اور مفید تصویر پیش کرتا ہے۔
قلم کی مثال میں، یہ نظام خود سمجھ جائے گا کہ قلم کے گرنے کی درست سمت کی پیشگوئی کرنا غیر ضروری ہے۔
روبوٹکس کی صنعت کو نئی اے آئی کی ضرورت
زیادہ لچکدار مصنوعی ذہانت کی تیاری روبوٹکس کی صنعت کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔
دنیا بھر میں انسان نما روبوٹس کی تیاری پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں اور ہر سال ان کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
تاہم ان روبوٹس کو محفوظ طریقے سے گھریلو کام، مثلاً کپڑوں پر استری کرنا یا برتنوں کو ڈش واشر میں ترتیب دینا، سکھانا اب بھی انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ثابت ہو رہا ہے۔
یان لیکون کے مطابق موجودہ اے آئی ماڈلز ایسے ماحول میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ روبوٹکس کے لیے بڑے زبان ماڈلز تقریباً بے کار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی کو جھانسا: آنکھوں کی ایک فرضی بیماری کو حقیقی سمجھ کر چیٹ بوٹس طبی مشورے دینا شروع
ان کے مطابق یہ دعویٰ کہ صرف بڑے لینگویج ماڈلز کو مزید وسیع کر کے فوق البشر ذہانت حاصل کی جا سکتی ہے حقیقت پسندانہ نہیں۔
’ورلڈ ماڈلز‘ کی طرف بڑھتی صنعت
مصنوعی ذہانت کی صنعت میں بہت سے ماہرین یان لیکون کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں اطلاقی مصنوعی ذہانت کے پروفیسر اور اپلائیڈ اے آئی لیب کے سربراہ انگمار پوزنر بھی انہی میں شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آئندہ دہائی میں اصل توجہ ایسے نظاموں پر ہوگی جو وضاحت کر سکیں کہ کون سی چیز اہم ہے، کون سا عمل کس نتیجے کا سبب بنتا ہے اور اگر مختلف فیصلہ کیا جائے تو کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
پوزنر اور ان کی تقریباً 10 محققین پر مشتمل ٹیم گزشتہ 4 برس سے مصنوعی ذہانت کی ایک متبادل شکل پر کام کر رہی ہے، جسے مجموعی طور پر ’ورلڈ ماڈلز‘ کہا جاتا ہے۔
اگرچہ ورلڈ ماڈلز کا تصور کئی دہائیوں سے موجود ہے لیکن سنہ 2018 میں ڈیوڈ ہا اور یورگن شمڈہوبر کی ایک تحقیق نے اس میدان میں نئی جان ڈال دی۔
مزید پڑھیں: ماضی کے لمحات تازہ کریں: اے آئی کے ذریعے اپنی کم عمری والی تصاویر بنائیں
اس تحقیق کے مطابق مشین لرننگ اور کمپیوٹنگ طاقت میں ترقی کے بعد مصنوعی ذہانت دنیا کا ایک ’ذہنی ماڈل‘ یا تصوراتی نقشہ بنا کر خود سیکھنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔
گوگل اور دیگر کمپنیاں بھی میدان میں
سنہ2018 کے بعد ورلڈ ماڈلز پر تحقیق میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گوگل نے ’ڈریمر ورلڈ ماڈل‘ تیار کیا، جس کا ایک جدید ورژن گزشتہ سال ویڈیو گیم ’مائن کرافٹ‘ میں مستقبل کے ممکنہ حالات کا تصور کرتے ہوئے ہیروں تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
پوزنر امید رکھتے ہیں کہ ان کی ٹیم کا تیار کردہ ’مکینسٹک ورلڈ ماڈل‘ مصنوعی ذہانت کے ارتقا میں ایک اور اہم قدم ثابت ہوگا کیونکہ یہ علم کو اس انداز میں منظم کرے گا کہ اے آئی ضرورت پڑنے پر اسے مؤثر طریقے سے استعمال کر سکے۔
ان کے مطابق ایسے نظاموں کی ضرورت ہے جو معلومات کو منظم، محفوظ، یکجا اور ضرورت کے وقت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

تاہم وہ یہ پیشگوئی کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری میں کتنا وقت لگے گا۔
ان کے بقول اگر آپ سال 2017 یا سال 2018 میں کسی سے پوچھتے کہ چیٹ جی پی ٹی جیسا نظام کب آئے گا تو زیادہ تر لوگ جواب دیتے کہ اس میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔
یاد رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کا پہلا ورژن نومبر 2022 میں متعارف کرایا گیا تھا۔
مزید پڑھیے: اے آئی کے عوامی سروے: کیا یہ زیادہ درست رائے فراہم کرسکتے ہیں؟
اس وقت گوگل کی ڈیپ مائنڈ اپنے ’جینی‘ ماڈل، لندن کی کمپنی ویوے اپنے ’گایا‘ سسٹم، جبکہ مصنوعی ذہانت کی معروف محقق فے فے لی سنہ 2023 میں قائم کردہ ’ورلڈ لیبز‘ کے ذریعے اسی سمت میں تحقیق کر رہی ہیں۔
مستقبل میں انسان کا کردار کیا ہوگا؟
یان لیکون کے مطابق اے ایم آئی لیبز رواں سال اپنے نئے ماڈل کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دے گی جبکہ اگلے سال اسے ابتدائی طور پر صنعتی شعبوں میں استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اگر یہ تجربات کامیاب رہے تو مستقبل میں ایسے عمومی ذہانت رکھنے والے نظام تیار کیے جا سکیں گے جو کم سے کم تربیت کے ساتھ دنیا کے تقریباً ہر شعبے میں کام کر سکیں گے۔
تاہم جب سوال کیا گیا کہ اگر روبوٹس خود مختار ہو گئے تو انسان کا کردار کیا ہوگا تو یان لیکون نے کہا کہ انسانوں کی ضرورت ہمیشہ برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ ایسے انسانوں کی ضرورت ہوگی جو یہ طے کریں کہ کون سے سوالات پوچھنے ہیں کیا تعمیر کرنا ہے اور کیا تخلیق کرنا ہے، کیونکہ یہی اصل انسانی خصوصیت ہے۔
ان کے مطابق مستقبل کی مصنوعی ذہانت انسانوں کے لیے کام کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے
انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں اے آئی ہم سے زیادہ ذہین بھی ہو جائے تب بھی ہمارا تعلق اس سے ایسا ہی ہوگا جیسے کسی صنعت کار یا سیاسی رہنما کا اپنے ماہر معاونین کی ٹیم سے ہوتا ہے جن میں سے اکثر اپنے سربراہ سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔














