غزہ میں حماس کی حکومت کا خاتمہ: تنظیم نے اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ پر تقریباً 20 برس تک حکمرانی کرنے والی حماس نے غزہ کی اپنی حکومتی انتظامیہ کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کو ایک اہم سیاسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک نئی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے لیے انتظامی اختیارات کی منتقلی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حماس نے 2 دہائیوں بعد غزہ حکومت سے دستبرداری کا اعلان کردیا

حماس کی جانب سے 6 جولائی کو کیے گئے اس اعلان کے مطابق غزہ کی سول انتظامیہ اب مرحلہ وار ایک نئی بااختیار کمیٹی ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ (این سی اے جی) کے حوالے کی جائے گی جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقے میں انتظامی امور کو غیر سیاسی اور تکنیکی بنیادوں پر چلانا ہے۔

اقتدار کی منتقلی کی جانب اہم قدم

حماس کے زیر انتظام گورنمنٹ میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ نے اعلان کیا کہ ہنگامی حکومتی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے اور اس کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا ہے تاکہ غزہ کے انتظامی و حکومتی معاملات نئی کمیٹی کو منتقل کیے جا سکیں۔

حماس کے حکام کے مطابق صرف تکنیکی اور پیشہ ورانہ عملہ اپنی ذمہ داریوں پر برقرار رہے گا تاکہ شہریوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

یہ فیصلہ کیوں کیا گیا؟

حماس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے اور جاری امن کوششوں کی حمایت کے لیے کیا گیا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تنظیم نے غزہ کی براہ راست حکمرانی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ اسرائیل کو کسی بھی قسم کے جواز سے محروم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: حماس کی جانب سے ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل، غزہ بورڈ آف پیس کا ردعمل سامنے آگیا

انہوں نے کہا کہ حماس نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے اور اب وہ غزہ کی انتظامیہ کی ذمہ دار نہیں رہے گی تاکہ قابض قوت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بہانوں کا خاتمہ ہو سکے۔

حازم قاسم نے امید ظاہر کی کہ نئی انتظامی کمیٹی جلد از جلد غزہ میں اپنا کام شروع کرے گی جس سے امن عمل اور جنگ بندی کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

عالمی ردعمل اور خدشات

اگرچہ حماس کے اس فیصلے کو ایک اہم سیاسی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے تاہم کئی سوالات خصوصاً حماس کی عسکری سرگرمیوں، اسلحے اور غزہ میں اس کے عملی اثر و رسوخ کے حوالے سے اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں قائم ’بورڈ آف پیس‘ نے اس پیشرفت کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی جائزہ اعلانات کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمینی حقائق اور عملی اقدامات کو دیکھ کر لیا جائے گا تاکہ غزہ کے عوام کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

دوسری جانب بعض اسرائیلی حکام اور ناقدین نے حماس کے اس اقدام کو محض ایک سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حماس کے ارکان انتظامی ڈھانچے میں موجود رہیں گے اس فیصلے کے عملی اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔

حماس کب سے غزہ پر حکومت کر رہی تھی؟

حماس نے سنہ 2007 میں غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا تھا اور اس کے بعد سے تقریباً 2 دہائیوں تک علاقے کی سیاسی اور انتظامی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اختیارات کی منتقلی کا عمل کامیاب رہا تو یہ غزہ کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے جس کے اثرات نہ صرف فلسطینی سیاست بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی