فیفا ورلڈ کپ 2026 ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن میدان کے اندر ہونے والا ایک فیصلہ کھیل سے زیادہ سیاست کی بحث بن چکا ہے۔
امریکا اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان میچ میں امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کو دکھایا گیا ریڈ کارڈ صرف ایک ڈسپلنری کارروائی نہیں رہا بلکہ اس نے فیفا کی خودمختاری، کھیل میں سیاسی اثرورسوخ اور عالمی فٹبال کی شفافیت پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بالوگن کو ریفری نے ریڈ کارڈ دکھایا، جس کے بعد فیفا کے قوانین کے مطابق انہیں اگلے میچ کے لیے معطل کر دیا گیا۔ ریفری اپنے فیصلے پر قائم رہا، قوانین بھی اپنی جگہ موجود تھے، مگر سوشل میڈیا پر لاکھوں شائقین اس فیصلے پر تقسیم نظر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین نے پرتگال کو شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس بحث میں شامل ہو گئے، انہوں نے واقعہ دیکھنے کے بعد کہا کہ ان کی نظر میں یہ فاؤل نہیں تھا۔
دلچسپ بات یہ رہی کہ انہوں نے خود اعتراف کیا کہ وہ ریڈ کارڈ کے تمام قوانین سے مکمل طور پر واقف نہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کر کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کر دی۔
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے صرف ریویو کی درخواست کی تھی، کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا، تاہم ناقدین کے مطابق اس واقعے نے یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی فٹبال تنظیم واقعی مکمل طور پر آزادانہ فیصلے کرتی ہے، یا طاقتور سیاسی شخصیات کی رائے بھی ان فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026 سے متعلق سمپسنز کی پیشگوئی غلط ثابت ہوگئی
چند روز بعد بالوگن کی معطلی ختم کر دی گئی، فیفا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک آزاد ڈسپلنری کمیٹی نے اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق کیا لیکن ناقدین اس وضاحت سے مطمئن نہیں۔
ان کے مطابق اگر کسی دوسرے ملک، مثلاً بیلجیم، کا کوئی کھلاڑی اسی صورتحال سے دوچار ہوتا تو شاید اسے وائٹ ہاؤس فون کرنے کے بجائے صرف قانونی اپیل کا روایتی راستہ اختیار کرنا پڑتا۔
ٹرمپ نے معطلی ختم ہونے کے بعد فیفا کے فیصلے کو شاندار فیصلہ قرار دیا، اس طرح چند ہی دنوں میں ایک ہی ادارہ پہلے غلط اور پھر بہترین ثابت ہو گیا۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ میں سیاسی مداخلت کب کب ہوئی؟
اس واقعے نے جدید فٹبال کے نظام انصاف پر طنزیہ تبصرے بھی جنم دیے ہیں، اب بعض مبصرین مذاقاً کہتے ہیں کہ فٹبال میں انصاف کے مراحل کچھ یوں ہیں: پہلے ریفری کا فیصلہ، پھر وی اے آر، اس کے بعد فیفا کی ڈسپلنری کارروائی، اور آخر میں صدرِ امریکا کی رائے۔
اس تنازع نے ریفری کے کردار کو بھی غیرمعمولی اہمیت دے دی ہے، ایک میچ آفیشل کا فیصلہ اب صرف کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی سیاسی گفتگو کا حصہ بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر دلچسپ تبصرے بھی سامنے آئے، بعض صارفین نے طنز کیا کہ اگر کوئی کھلاڑی پینالٹی ضائع کر دے تو شاید خزانے کا وزیر اپیل دائر کرے۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: میسی، ایمباپے اور ہالینڈ نے مل کر فٹبال کی 96 سالہ تاریخ بدل دی
اگر اضافی وقت زیادہ محسوس ہو تو کانگریس اسے ختم کرنے کے لیے ووٹنگ کرا دے اور اگر امریکا فائنل تک پہنچ جائے تو ممکن ہے وی اے آر کی جانچ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہونے لگے۔
فی الحال ڈونلڈ ٹرمپ یہی کہتے ہیں کہ ان کا فیصلے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف میچ دیکھا، ریفری کے فیصلے سے اختلاف کیا، فیفا صدر سے نظرثانی کی درخواست کی، معطلی ختم ہوتے دیکھی اور پھر اس فیصلے کی تعریف کر دی۔
فٹبال کی زبان میں شاید اسے ’اسسٹ‘ کہا جاتا ہے، مگر اس واقعے نے ایک سنجیدہ سوال ضرور چھوڑ دیا ہے: کیا عالمی کھیلوں کے فیصلے صرف قوانین کے مطابق ہوں گے، یا مستقبل میں سیاسی طاقت بھی ان پر اثر انداز ہوتی دکھائی دے گی؟














