آسکر ایوارڈز: پاکستان کی سرکاری انٹری کے انتخاب کا عمل شروع، فلم سازوں کو دعوت

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے 99ویں اکیڈمی ایوارڈز یعنی آسکر کی بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری کے لیے پاکستانی فلم سازوں کو اپنی فلمیں جمع کرانے کی دعوت دے دی ہے۔

کمیٹی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق فلمیں جمع کرانے کی آخری تاریخ پیر 10 اگست 2026 شام 5 بجے مقرر کی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق بین الاقوامی فیچر فلم سے مراد ایسی فلم ہے جس کا دورانیہ 40 منٹ سے زیادہ ہو، جو امریکا اور اس کے زیرانتظام علاقوں کے باہر تیار کی گئی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: فلم میرا لیاری: پروپیگنڈا کے خلاف پاکستان کا حقیقت پر مبنی جواب

جس کے 50 فیصد سے زائد مکالمے انگریزی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں ہوں، اینی میٹڈ اور دستاویزی فیچر فلمیں بھی اس زمرے میں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔

پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نجی نامزدگیوں اور سفارشات کے ذریعے منتخب کیے گئے فلمی ماہرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ کمیٹی میں ہدایت کار، پروڈیوسر، مصنف، اداکار، ایڈیٹر، سنیماٹوگرافر، ساؤنڈ آرٹسٹ، ناقدین، کیوریٹرز، ماہرین تعلیم اور دیگر اہل فلمی شخصیات شامل ہو سکتی ہیں۔

کمیٹی کی تشکیل میں صنفی، علاقائی، پیشہ ورانہ اور نسلی تنوع کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے، جبکہ کم از کم 50 فیصد ارکان کا فلمی صنعت سے وابستہ فنکار یا تکنیکی ماہر ہونا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: جنگ زدہ زندگیوں کی عکاس، پاکستانی  فلم ‘دی ایمرجنسی ایگزٹ’ نے کھٹمنڈو ڈاک لیب میں میدان مارلیا

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ ہر رکن تمام جمع کرائی گئی فلمیں دیکھنے کے بعد اپنا ووٹ دے۔

ووٹنگ مکمل ہونے پر پاکستان کی جانب سے آسکر ایوارڈز کے لیے صرف ایک فلم کو سرکاری طور پر نامزد کیا جائے گا۔

اہلیت کے معیار کے مطابق فلم کی پہلی تجارتی نمائش اس کے ملکِ پیدائش میں یکم اکتوبر 2025 سے 30 ستمبر 2026 کے درمیان ہونی چاہیے، جبکہ فلم کم از کم مسلسل 7 روز تک کسی تجارتی سنیما میں عوام کے لیے ٹکٹ کے ذریعے پیش کی گئی ہو۔

مزید پڑھیں: انڈین فلم فیسٹیول لاس اینجلس میں پاکستانی سینما کا چرچا، 3 فلمیں اعزاز کی حق دار

اکیڈمی کے قواعد کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ فلم کو ملک سے باہر، تاہم امریکا سے باہر، بھی 7 روزہ تجارتی نمائش کے ذریعے اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق وہ فلمیں آسکر کے لیے اہل نہیں ہوں گی جنہیں اپنی کوالیفائنگ سینما ریلیز سے قبل ٹیلی ویژن، کیبل، ویڈیو آن ڈیمانڈ، ڈی وی ڈی، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، انٹرنیٹ یا فضائی سفر کے دوران عوامی طور پر جاری یا نشر کیا گیا ہو۔

تمام فلموں میں واضح اور درست انگریزی سب ٹائٹلز شامل ہونا بھی لازمی ہوگا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی فلم ’خان تمہارا‘ کی ریلیز روک دی گئی، وجہ کیا بنی؟

اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2026 سے نافذ نئے اکیڈمی قوانین کے مطابق بین الاقوامی فلمیں بدستور اپنے ملک کی سرکاری انٹری کے طور پر آسکر میں بھیجی جا سکیں گی۔

تاہم اگر کوئی فلم عالمی سطح کے کسی بڑے فلمی میلے، جیسے کانز میں پامے ڈی اور، وینس میں گولڈن لائن یا سنڈینس میں ورلڈ سنیما گرانڈ جیوری پرائز جیت لے تو وہ الگ طریقہ کار کے تحت بھی آسکر کے لیے اہل قرار پا سکتی ہے۔

کمیٹی نے بتایا کہ داخلہ فارم، جمع کرانے کے طریقہ کار اور مزید معلومات کے لیے فلم ساز ای میل [email protected] کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں یا پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی کے آن لائن پورٹل پر بھی اپنی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار