کبھی اسکاٹ لینڈ کا شہر گلاسگو یورپ کے خطرناک ترین علاقوں میں شمار ہوتا تھا جہاں چاقو بردار گروہوں، گینگ کلچر اور پرتشدد جرائم کی وجہ سے خوف کا ماحول تھا۔ لیکن 2 دہائیوں کے دوران اسکاٹ لینڈ نے تشدد سے نمٹنے کا ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس نے دنیا کی توجہ حاصل کرلی۔ وہاں تشدد کو صرف جرم نہیں بلکہ ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھ کر اس کی روک تھام پر کام کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ کا موسم مستقل بدل گیا؟ عالمی ماہرین نے نئی وارننگ جاری کر دی
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں اسکاٹ لینڈ، خاص طور پر گلاسگو، چاقو کے حملوں اور قتل کی وارداتوں کے حوالے سے بدنام تھا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وہاں ایک طویل عرصے سے نوجوانوں کے گروہوں اور سڑکوں پر ہونے والے تشدد کا مسئلہ موجود تھا۔
لیکن حکام نے مسئلے کو دیکھنے کا انداز تبدیل کیا۔ انہوں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ لوگ تشدد کی طرف کیوں جاتے ہیں اور ایسے حالات کو کیسے روکا جا سکتا ہے جن سے جرائم جنم لیتے ہیں۔
اسی سوچ کے نتیجے میں اسکاٹش وائلنس ریڈکشن یونٹ (ایس وی آر یو) قائم کیا گیا، جس نے تشدد کو صرف پولیس اور عدالتوں کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔
زیادہ تر قتل اچانک ہونے والے واقعات تھے
ایس وی آر یو کے ابتدائی ارکان میں شامل ول لنڈن کے مطابق سال 2003 میں جب قتل کے واقعات کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ زیادہ تر واقعات کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ 2 افراد کسی معمولی تنازع پر لڑ پڑتے، ایک شخص چاقو نکالتا اور دوسرا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔
ان کے مطابق اس صورتحال نے واضح کردیا کہ صرف پولیس کارروائی کافی نہیں، بلکہ تشدد کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔
تشدد کو بیماری کی طرح سمجھنے کا فیصلہ
اسکاٹش وائلنس ریڈکشن یونٹ نے تشدد کو ایک بیماری کی طرح دیکھنے کا طریقہ اختیار کیا۔
مزید پڑھیے: غیر قانونی مائیگریشن کے خلاف پاکستان کے مؤثر اقدامات، یورپی یونین کا اعتراف
یونٹ کی شریک بانی کیرن میک کلسکی کے مطابق جس طرح کسی بیماری سے متاثرہ افراد کا علاج کیا جاتا ہے، خطرے میں موجود افراد کی حفاظت کی جاتی ہے اور بیماری کو پھیلنے سے روکا جاتا ہے اسی طرح تشدد کے معاملے میں بھی روک تھام، مداخلت اور مدد پر توجہ دی گئی۔
اس طریقہ کار میں پہلے شواہد جمع کیے گئے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ تشدد کے خطرے میں کون لوگ زیادہ ہوتے ہیں اور کون سے عوامل انہیں اس سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
غربت، بے روزگاری اور غیر مستحکم ماحول خطرات میں شامل
تحقیق کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے تقریباً 2 تہائی پرتشدد واقعات صرف ایک فیصد آبادی سے متعلق تھے۔
ماہرین کے مطابق نوجوان مرد، خاص طور پر محروم علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد، غربت، بے روزگاری اور غیر مستحکم خاندانی ماحول جیسے عوامل کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس تعلیم سے جڑے رہنا اور مضبوط خاندانی تعلقات تشدد سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
پولیس اسٹیشن سے نکل کر اسکولوں اور اسپتالوں تک
اسکاٹ لینڈ کے ماڈل کی خاص بات یہ تھی کہ تشدد کم کرنے کی کوشش صرف پولیس تک محدود نہیں رہی۔
ایس وی آر یو نے اسکولوں، اسپتالوں، سماجی اداروں اور مقامی برادریوں کے ساتھ مل کر کام شروع کیا۔
ڈاکٹروں اور طبی عملے کو بھی تربیت دی گئی کہ وہ تشدد سے متاثرہ افراد کی شناخت کریں اور انہیں مدد فراہم کریں۔
اس کے علاوہ اسکولوں میں بچوں کو نکالنے کے رجحان کو کم کرنے پر بھی کام کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2006-07 میں جہاں اسکولوں سے نکالے جانے کے واقعات تقریباً 45 ہزار تک پہنچ گئے تھے وہ 2022-23 میں کم ہو کر 12 ہزار سے بھی کم رہ گئے۔
دنیا کے دوسرے ماڈلز سے سیکھا لیکن مقامی ضرورت کے مطابق بدلا
تشدد کو صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کا تصور پہلی بار امریکا میں سامنے آیا تھا جسے بعد میں عالمی ادارہ صحت نے بھی سنہ 1996 میں عالمی مسئلہ قرار دیا۔
تاہم اسکاٹ لینڈ نے دوسرے ممالک کے تجربات کو اپنی صورتحال کے مطابق ڈھالا۔
مزید پڑھیں: شدید گرمی نے یورپ کے جنگلوں میں آگ لگادی، ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور
ول لنڈن کے مطابق کوئی بھی منصوبہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں جوں کا توں نافذ نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہر معاشرے کے مسائل اور حالات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
تشدد میں نمایاں کمی
اسکاٹ لینڈ کے اقدامات کے بعد پرتشدد جرائم میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور یہ ماڈل دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا۔
انگلینڈ اور ویلز میں بھی سنہ 2019 کے بعد متعدد علاقوں میں وائلنس ریڈکشن یونٹس قائم کیے گئے جنہیں اسکاٹ لینڈ کے تجربے سے مدد ملی۔
صرف مجرم کو نہیں حالات کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش
ماہرین کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی کامیابی صرف جرائم پیشہ افراد کو سزا دینے سے نہیں آئی بلکہ ان حالات کو تبدیل کرنے سے آئی جن سے تشدد پیدا ہوتا ہے۔
ایس وی آر یو کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کیلی، جو بچپن میں مشکل حالات سے گزری تھیں نے بتایا کہ ایک سپورٹ گروپ میں شامل ہونے کے بعد انہیں اپنی مشکلات سمجھنے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر ماحول بنانے میں مدد ملی۔
ان کے مطابق اس پروگرام نے انہیں تنہائی سے نکلنے اور اپنی زندگی بہتر بنانے میں مدد دی۔
اب بھی چیلنجز موجود ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیابی کے باوجود کام ختم نہیں ہوا۔
حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا، کورونا وبا کے اثرات اور بچوں میں غربت جیسے مسائل نئے چیلنجز بن کر سامنے آئے ہیں۔
ایس وی آر یو کے سربراہ جمی پال کے مطابق تشدد کو ناگزیر نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے روکا جا سکتا ہے جس کے لیے مسلسل کوشش اور مختلف اداروں کا تعاون ضروری ہے۔
کیرن میک کلسکی کے مطابق سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ کئی ایسے لوگ جن کی زندگی کبھی تشدد سے جڑی ہوئی تھی آج خاندان، روزگار اور بہتر مستقبل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟
ان کے بقول کبھی کبھی گلاسگو کی سڑکوں پر ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو برسوں پہلے تشدد کے راستے پر تھے لیکن اب وہ مختلف زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔













