اقوامِ متحدہ میں آزاد گروپ کے بعض مبصرین کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ لانگو کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کو ’انصاف کا مذاق‘ قرار دینے کے مشترکہ بیان کے بعد پاکستان کے باضابطہ قانونی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر بین الاقوامی میڈیا میں گردش کرنے والے بیانیے اور حقائق کے درمیان ایک واضح فرق سامنے آیا ہے۔
اس سے پہلے کہ ’غیر منصفانہ‘ کے اس لیبل کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا جائے، قانونی ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ جنیوا سے جاری ہونے والا یہ بیان دراصل آزاد ماہرین کے ایک گروپ کی رائے ہے، جو خود بھی یہ واضح طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اقوامِ متحدہ کے کسی باضابطہ ادارے کی نمائندگی نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہ رنگ لانگو اور صبغت اللہ کو سزا، شہید سیکیورٹی اہلکار کے اہلخانہ کا عدالتی فیصلے پر اظہار اطمینان
گروپ کی رائے کوئی معمولی تکنیکی نکتہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک باضابطہ ادارہ جاتی فیصلے اور ایک ایسے پریس ریلیز کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے جس پر محض چند دستخط موجود ہوں۔
عدالتی ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ رائے یا سیاسی بیانیہ اصل عدالتی فیصلے کے آنے سے بہت پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا۔
قانونی ڈھانچہ اور مشترکہ نیت کا اصول
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ لانگو کے خلاف مقدمہ کسی پرامن احتجاج کی وجہ سے قائم نہیں ہوا، بلکہ اس کا بنیادی محرک جولائی 2024 کے گوادر احتجاج کے دوران فرنٹئیر کونسٹیبلری (ایف سی ) کے ایک سپاہی، شبیر احمد کا قتل تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایسے بیان میں، جو ایک سیکیورٹی اہلکار کی شہادت کی اس حقیقت کو پسِ پشت ڈالتا ہو، مقدمے کے اصل مجرم اور محرکات کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات کا اطلاق پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت بالکل واضح ہے۔
قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ یہ قانونی شق صریحاً طور پر ایسے پرتشدد اور ظالمانہ اقدامات کا احاطہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے۔
اگرچہ اس سزا کو احتجاج میں ’محض شرکت‘ کی بنیاد پر دی جانے والی ایک غیر منصفانہ سزا کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن پاکستان کا فوجداری قانون یہاں ’مشترکہ نیت‘ کے اصول کا اطلاق کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی فعال قانونی نظام کی طرح اس قانونی معیار کے تحت کسی پرتشدد اور غیر قانونی اجتماع میں شامل افراد اس گروہ کی جانب سے کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں اور ان کے نتائج کے برابر کے ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں۔
ضابطے کی مثالیں اور قانونی تقاضے
عدالتی عمل کا دفاع کرنے والے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ٹرائل مکمل طور پر پاکستان کے باقاعدہ انسدادِ دہشتگردی عدالت کے قانونی پیرائے کے اندر رہتے ہوئے چلایا گیا۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
یہ فیصلہ نہ تو کوئی خفیہ ٹریبونل سے سنایا گیا، نہ ہی کوئی فوجی عدالت اور نہ ہی کوئی ماورائے عدالت عمل تھا، مزید برآں یہ فیصلہ سناتے ہوئے بھی انصاف کو تمام اصولوں کے تابع ہے اور یہ کہ ملزم یا فریق کو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ذریعے اپیل کرنے کے تمام قانونی حقوق حاصل ہیں۔
ضابطے کے حوالے سے کی جانے والی مخصوص تنقید پر قانونی ریکارڈ درج ذیل معیاری طریقوں کی نشاندہی کرتا ہے
مقام کی تبدیلی اور آن لائن سماعت
بڑے دہشتگردی کے مقدمات میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مقدمے کی جگہ تبدیل کرنا اور ویڈیو لنک کا استعمال کرنا ایک قائم شدہ قانونی روایت ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
سرکاری وکیل کا تقرر
ایسے مقدمے میں جب کیس کا دفاع تعطل کا شکار ہو جائے تو سرکاری وکیل کا تقرر ایک معمول کا قانونی طریقہ کار ہے، نہ کہ اسے کسی یکطرفہ یا پہلے سے طے شدہ نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ملزمہ (ماہ رنگ لانگو) کے خلاف مختلف اضلاع میں درج تقریباً 50 کے قریب زیر التوا شکایات ان اضلاع میں ہونے والے مسلسل احتجاج، دھرنے اوراس کے نتیجے میں تشدد واقعات واضح ہیں نا کہ کسی ایک خاتون کو ہراساں کرنے کے لیے تیار کردہ کوئی کاغذی کارروائی کہا جا سکتا ہے۔
معاشی ڈھانچے اور قابلِ تصدیق دعوے
ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بیانات میں اکثر ریکو ڈک مائننگ پروجیکٹ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے صوبے کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو محض ’زمینوں پر قبضے‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
تاہم سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ منصوبے مائننگ انویسٹمنٹ اور مقامی ریونیو شیئرنگ کے قائم شدہ قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کر رہے ہیں اور ان کے تحت بلوچستان میں اربوں ڈالرز عملی طور پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔
جہاں تک دورانِ حراست صحت کی صورتحال، حراستی حالات اور خاندانی دباؤ سے متعلق مخصوص ذاتی الزامات کا تعلق ہے، قانونی تجزیہ کاروں کا استدلال ہے کہ ان سنجیدہ دعوؤں کی مناسب عدالتی ذرائع سے آزادانہ تصدیق اور جرح کی ضرورت ہے، نہ کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے بیرونی پریس بیانات کے ذریعے ان کی تشہیر کی جائے۔
اگر واقعی قانونی تقاضوں کے حوالے سے کوئی حقیقی تحفظات موجود ہیں، تو پاکستان کا اپیلٹ کورٹ سسٹم ان کی جانچ اور حل کے لیے مکمل طور پر موجود ہے۔














