دنیا بھر کے 200 سے زائد ممتاز ماہرینِ معاشیات، سائنسدانوں اور 15 نوبیل انعام یافتہ شخصیات نے حکومتوں اور کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری پالیسیاں اور مؤثر ادارہ جاتی نظام تشکیل دیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت عالمی معیشت میں پیداوار، روزگار اور آمدنی کی تقسیم پر غیرمعمولی اثرات مرتب کررہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایک طرف پیداواریت میں نمایاں اضافہ کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب عالمی لیبر مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں اور معاشی عدم مساوات کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت تمام نوکریاں ختم کر دے گی، ایلون مسک کا انتباہ
بیان پر دستخط کرنے والوں میں مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار، سائنس دان اور معاشی ماہرین شامل ہیں، جبکہ 15 نوبیل انعام یافتہ شخصیات نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے معاشی اثرات پر مزید جامع تحقیق کی جائے اور ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں جو اس ٹیکنالوجی کے فوائد کو پوری معاشرے تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر روزگار کے خاتمے جیسے خطرات سے بھی نمٹ سکیں۔
ورجینیا یونیورسٹی کے پروفیسر اینٹن کورینک نے کہا کہ بھاپ، بجلی اور کمپیوٹر جیسی بڑی ایجادات کے بعد معاشروں کو خود کو ڈھالنے کے لیے کئی دہائیاں ملیں، مگر مصنوعی ذہانت کے معاملے میں شاید صرف چند سال دستیاب ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے دور میں کونسی 3 نوکریاں محفوظ رہیں گی؟
انہوں نے کہا کہ اگر حکومتیں اور ادارے بروقت حکمت عملی اور مؤثر نظام تشکیل نہیں دیتے تو بعد میں حالات سے نمٹنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔
ماہرین نے حکومتوں اور نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ ایسی پالیسیاں اختیار کریں جو مصنوعی ذہانت کے روزگار، پیداواری صلاحیت اور معاشی عدم مساوات پر بڑھتے ہوئے اثرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکیں۔














