دنیا بھر میں آلودہ خوراک اور پانی سے پھیلنے والی بیماریاں ہر سال لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہیں لیکن بعض اوقات ایک ایسا نایاب جرثومہ بھی سامنے آتا ہے جو شدید اور بار بار ہونے والے اسہال کا سبب بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ’سائیکلو اسپورا‘ نامی خوردبینی طفیلیہ انہی خطرناک جراثیم میں شامل ہے جو آلودہ خوراک یا پانی کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر کئی دن بلکہ بعض اوقات کئی ہفتوں تک بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی
حالیہ ہفتوں میں امریکا میں اسی جرثومے سے ہونے والی بیماری سائیکلو اسپورائسس کے ہزاروں مشتبہ اور سینکڑوں تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد طبی ماہرین نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سائیکلو اسپورا کیا ہے؟
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق سائیکلو اسپورا ایک خوردبینی طفیلیہ (پیراسائٹ) ہے جو آنتوں کو متاثر کرتا ہے۔
یہ جرثومہ زیادہ تر آلودہ پانی یا ایسی کچی سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے جن پر جراثیم موجود ہوں۔
مزید پڑھیے: شدید گرمی میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 مؤثر طریقے
ماہرین کے مطابق یہ بیماری عام طور پر جان لیوا نہیں ہوتی تاہم اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس کی علامات کئی دنوں سے لے کر ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں اور بعض مریضوں میں علامات ختم ہونے کے بعد دوبارہ بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
علامات کیا ہوتی ہیں؟
اس بیماری کی سب سے نمایاں علامت بار بار آنے والا شدید، پانی جیسا اور بعض اوقات انتہائی تیز (ایکسپلوسیو ڈائیریا) ہے۔
اس کے علاوہ مریض میں درج ذیل علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں جن میں پیٹ میں درد یا مروڑ، متلی اور قے، بھوک میں کمی، تھکن اور کمزوری، وزن میں کمی اور ہلکا بخار۔
مزید پڑھیں: شرمندگی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے، بڑی آنت کے کینسر کی وہ نشانیاں جو آپ کو معلوم ہونی چاہیں
ماہرین کے مطابق جرثومہ جسم میں داخل ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔
یہ بیماری کیسے پھیلتی ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے شخص میں براہ راست منتقل نہیں ہوتی۔
اس کا بنیادی ذریعہ آلودہ خوراک یا پانی ہوتا ہے جبکہ جراثیم اکثر زرعی فارموں، آبپاشی کے پانی یا خوراک کی تیاری کے دوران خوراک میں شامل ہو جاتا ہے۔
ماضی میں مختلف ممالک میں اس بیماری کے پھیلاؤ کو کچی سلاد، دھنیا، تلسی، رسبیری، اسنو پیز اور ہرے پیاز جیسی غذاؤں سے بھی جوڑا جا چکا ہے۔
امریکا میں کیا صورتحال ہے؟
حالیہ ہفتوں کے دوران امریکا کی 31 ریاستوں میں سائیکلو اسپورائسس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سی ڈی سی کے مطابق یکم مئی سے 9 جولائی کے درمیان 843 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے جبکہ ادارے کا کہنا ہے کہ 1,500 سے زائد مزید مشتبہ کیسز کی بھی جانچ جاری ہے۔
ریاست مشی گن سب سے زیادہ متاثر ہوئی جہاں صرف دو ہفتوں میں ایک ہزار سے زائد افراد میں اس بیماری کی تشخیص کی گئی۔
اس کے علاوہ نیویارک، الینوائے اور اوہائیو میں بھی غیر معمولی تعداد میں مریض سامنے آئے ہیں۔
اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی، تاہم 86 افراد کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔
بیماری کا اصل ذریعہ کیا ہے؟
حکام کے مطابق متاثرہ افراد نے بیماری سے پہلے بیرون ملک سفر نہیں کیا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آلودہ خوراک امریکا کے اندر ہی استعمال کی گئی۔
تاہم اب تک کسی مخصوص سبزی، پھل، فارم یا سپلائر کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ آلودگی اکثر زرعی فارم یا آبپاشی کے مرحلے پر ہوتی ہے اس لیے اصل ذریعہ تلاش کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق احتیاط ہی اس بیماری سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔
وہ مشورہ دیتے ہیں کہ پھل اور سبزیاں استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح دھوئیں۔ جہاں ممکن ہو سبزیوں کو پکا کر استعمال کریں۔ لیٹش اور ہرے پیاز کی بیرونی تہیں اتار دیں اور صرف صاف اور محفوظ پانی استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھیے: پانی میں نیلی سبز کائی: انسان اور جانوروں دونوں کے لیے خطرناک
ماہرین کے مطابق اگر شدید یا مسلسل اسہال ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پھل اور سبزیاں دھونے سے ہر قسم کی آلودگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی پھر بھی یہ احتیاط بیماری کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔














