ماہرین فلکیات نے ہماری ملکی وے (دودھیا کہکشاں) سے متعلق تقریباً 10 ارب سال پرانے ایک اہم معمہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق ایک طاقتور تصادم کے نتیجے میں ملکی وے کی پوری قرص (ڈسک) اپنی موجودہ سمت میں 90 درجے سے زیادہ جھک گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ملکی وے کے سرد ترین ستارے دراصل خلائی مخلوق کے بنائے ہوئے ڈھانچے ہیں؟ نئی تحقیق میں دلچسپ امکان کا جائزہ
ڈرہم یونیورسٹی کے محققین کی سربراہی میں کی گئی تحقیق کے مطابق تقریباً 10 ارب سال قبل ملکی وے کا سامنا ایک چھوٹی بونی کہکشاں ’گائیا ساسیج‘ سے براہِ راست ہوا تھا۔ اس شدید تصادم نے نہ صرف کہکشاں کی ساخت کو بدل دیا بلکہ اس کی پوری ڈسک کو پلٹ کر موجودہ سمت میں پہنچا دیا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ عمل چند 100 ملین (کروڑوں) برس میں مکمل ہوا۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے جدید کمپیوٹر سمیولیشنز کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ملکی وے کے بیرونی ستاروں پر مشتمل اسٹیلر ہیلو کے ستارے انتہائی سست رفتار یعنی تقریباً 25 کلومیٹر فی سیکنڈ سے کیوں گردش کرتے ہیں جبکہ کہکشاں کی مرکزی ڈسک کے ستاروں کی رفتار تقریباً 220 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔
اس مقصد کے لیے ماہرین نے ملکی وے سے ملتی جلتی 25 کہکشاؤں کا بھی مطالعہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن کہکشاؤں کے بیرونی ستارے سست رفتاری سے گردش کرتے ہیں ان میں نمایاں خصوصیات مشترک ہوتی ہیں ایک کسی دوسری کہکشاں سے براہ راست تصادم اور دوسری پوری ڈسک کا اپنی سمت تبدیل کر لینا۔
تحقیق کی مزید تفصیلات رواں ہفتے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں منعقد ہونے والے رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی کے قومی اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔
مزید پڑھیے: ماہرینِ فلکیات نے 11 سال پرانی تصاویر میں چھپا نیا سیارہ دریافت کر لیا
ماہرین فلکیات نے پہلی بار سنہ 2018 میں یورپی خلائی ایجنسی کے گائیا مشن سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے اس قدیم تصادم کے شواہد دریافت کیے تھے۔ اس تصادم میں ’گائیا ساسیج‘ نامی بونی کہکشاں مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ملکی وے میں جذب ہوگئی۔ اگرچہ یہ نسبتاً چھوٹی کہکشاں تھی تاہم اس میں موجود ستاروں، گیس اور ڈارک میٹر کی مجموعی کمیت سورج کی کمیت سے 10 ارب گنا زیادہ تھی۔
تحقیق کے مرکزی مصنف کریل باتراکوف کے مطابق ڈسک کے اس طرح پلٹ جانے کا مطلب یہ ہے کہ ملکی وے کے بیشتر ستارے، اور ممکنہ طور پر ہمارا سورج بھی، ماضی میں آج کے مقابلے میں بالکل مختلف راستوں پر گردش کرتے تھے۔ ان کے بقول ممکن ہے کہ نظامِ شمسی کی موجودہ نسبتاً مستحکم جگہ ماضی میں اتنی مستحکم نہ رہی ہو۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہی تصادم ملکی وے کی تاریخ کا آخری بڑا انضمام تھا جس نے کہکشاں کے مرکزی ابھار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور اس کے بیرونی ستاروں کے ڈھانچے کو نئی شکل دی۔
کریل باتراکوف کے مطابق یہ دریافت کہ ملکی وے کی ڈسک بھی پلٹی تھی ہماری کہکشاں کی تاریخ میں ایک نیا باب شامل کرتی ہے جسے دوسری کہکشاؤں سے تقابل کرتے وقت ضرور مدنظر رکھنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اربوں سال پرانے اس پیچیدہ ماضی کو صرف موجودہ مشاہدات کی بنیاد پر دوبارہ ترتیب دینا ممکن ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: 50 سالہ پرانی پراسرار گتھی سلجھ گئی: ماہرینِ فلکیات نے کہکشاں سے نکلنے والی تیز ہوا کا سراغ لگا لیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی ملکی وے مزید کہکشانی انضمام کا سامنا کرے گی۔ ان میں سب سے اہم لارج میجیلینک کلاؤڈ کے ساتھ متوقع تصادم ہے جو چند ارب سال بعد پیش آنے کا امکان ہے اور اس سے ہماری کہکشاں ایک بار پھر نمایاں تبدیلیوں سے گزر سکتی ہے۔














