پاکستان میں مہنگائی دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آنے کا امکان، لیکن ایک مسئلہ موجود

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں جولائی 2026 کے دوران مہنگائی کی سالانہ شرح (کنزیومر پرائس انڈیکس یا سی پی آئی) تین ماہ بعد دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی بنیادی طور پر گزشتہ سال کے تقابلی اعداد و شمار (بیس ایفیکٹ) کا نتیجہ ہے جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بنیادی دباؤ اب بھی برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.7  پربرقرار، مہنگائی 8.3 فیصد رہنے کا امکان : ایشیائی ترقیاتی بینک

بزنس ریکارڈر کے مطابق مختلف بروکریج ہاؤسز کے تخمینوں کے مطابق جولائی میں سالانہ مہنگائی کی شرح 9 فیصد سے کچھ زائد رہنے کی توقع ہے جبکہ جون میں یہ شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ جولائی میں مہنگائی کی سالانہ شرح 9.3 فیصد رہ سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق مہنگائی کا دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آنا بظاہر خوش آئند ضرور ہے لیکن یہ بنیادی طور پر گزشتہ سال کے بلند اعداد و شمار کے باعث ممکن ہو رہا ہے نہ کہ قیمتوں میں حقیقی اور پائیدار کمی کی وجہ سے۔

رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں تقریباً 1.3 فیصد اضافے کا امکان ہے جس کی بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق خوراک کے اشاریے میں ماہانہ بنیاد پر تقریباً 4 فیصد اضافہ متوقع ہے جس کی وجہ ٹماٹر، آلو، پیاز، تازہ سبزیوں، مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جبکہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بھی تقریباً 5.7 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بعض شعبوں میں صارفین کو کچھ ریلیف بھی ملنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 7.4 فیصد کمی کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں ماہانہ بنیاد پر 3.4 فیصد کمی متوقع ہے جبکہ بجلی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ہاؤسنگ کے شعبے میں بھی تقریباً 0.4 فیصد کمی آ سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: مہنگائی میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات کرتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے، نواز شریف کی ہدایت

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کا کہنا ہے کہ خوراک اور توانائی کو نکال کر شمار کی جانے والی بنیادی مہنگائی (نان فوڈ، نان انرجی کور انفلیشن) میں معمولی اضافہ متوقع ہے۔ جولائی میں یہ شرح 8.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ جون میں یہ 8.4 فیصد اور گزشتہ سال اسی عرصے میں 7.6 فیصد تھی۔

ادارے کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی مہنگائی میں کمی کا زیادہ تر تعلق ایندھن اور جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں سے ہے جبکہ بنیادی سطح پر مہنگائی کا دباؤ اب بھی ختم نہیں ہوا۔

دوسری جانب جے ایس گلوبل نے جولائی کے لیے سالانہ مہنگائی کی شرح 9.1 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مہنگائی سالانہ بنیاد پر تقریباً 21 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جو مجموعی مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ بنے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک کی مہنگائی بھی جولائی میں تقریباً 9.1 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ ہاؤسنگ کے شعبے میں سالانہ بنیاد پر 8.4 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اسی طرح متفرق اشیا اور خدمات کے شعبے میں مہنگائی کی شرح تقریباً 11.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کو ‘سرکٹ بریکر’ کی ضرورت ہے، نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کا پہلا خطاب، مہنگائی میں ریلیف کا اعلان

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جولائی میں مہنگائی دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آ سکتی ہے تاہم بنیادی مہنگائی کے مسلسل بلند رہنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتوں پر دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اس لیے آنے والے مہینوں میں افراطِ زر کا رجحان خوراک، توانائی اور عالمی معاشی حالات پر منحصر رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp