نوکری کے لیے صرف آن لائن انٹرویو کافی نہیں، امیدوار کی اصل صلاحیت چھپ جاتی ہے، برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ ملازمتوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب میں صرف ورچوئل انٹرویوز جیسے زوم یا مائیکروسافٹ ٹیمز پر انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس طریقے سے امیدوار کی اصل شخصیت، اعتماد اور جذبہ سامنے نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں:  نئے  برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کا پہلا بڑا اقدام، بجلی کے بلوں پر ٹیکس ختم کرنے کا اعلان

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک کیریئرز پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اینڈی برنہم نے کہا کہ انہیں زوم یا ٹیمز کے ذریعے انٹرویو لینے کا موجودہ رجحان پسند نہیں۔ ان کے بقول ایسی صورتحال میں کوئی نوجوان اپنی شخصیت اور صلاحیتوں کا اظہار کیسے کرے گا؟

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں 16 سے 25 سال عمر کے 10 لاکھ سے زائد نوجوان نہ ملازمت کر رہے ہیں اور نہ ہی تعلیم یا تربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ ملازمتوں کی خالی آسامیوں کی تعداد بھی گزشتہ 5 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال میں متعدد کمپنیاں درخواستوں کی جانچ کے لیے مصنوعی ذہانت اور ابتدائی انٹرویوز کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز کا زیادہ استعمال کر رہی ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرنے والے بعض نوجوانوں نے شکایت کی کہ وہ سیکڑوں ملازمتوں کے لیے درخواستیں بھیجنے کے باوجود کوئی جواب نہیں پاتے جس کی وجہ سے بھرتی کا پورا عمل روبوٹک اور بے رحم محسوس ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: برطانیہ کے نئے وزیر خزانہ جان ہیلی پر سب کی نظریں، اینڈی برنہم کے معاشی ایجنڈے کا اصل امتحان شروع

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 89 فیصد برطانوی ریکروٹرز بھرتی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اینڈی برنہم نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی بھرتیوں کے عمل کو زیادہ منصفانہ بنانے کے بجائے بعض امیدواروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

ان کے مطابق ورچوئل انٹرویوز میں امیدوار کی شخصیت، جوش و جذبہ اور اعتماد پوری طرح سامنے نہیں آتا جبکہ ایسے افراد کو فائدہ ملتا ہے جو پہلے سے تیار شدہ یا رسمی جوابات دینے میں مہارت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے تجربات میں بھی یہ مسئلہ دیکھا ہے اور محسوس کیا ہے کہ آن لائن انٹرویوز بعض باصلاحیت نوجوانوں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے۔

دوسری جانب ریکروٹمنٹ اینڈ ایمپلائمنٹ کنفیڈریشن نے کہا کہ آن لائن انٹرویوز بھرتی کے ابتدائی مراحل میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں تاہم وہ امیدوار اور آجر کے درمیان براہِ راست ملاقات کا متبادل نہیں بن سکتے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد

تنظیم کی نمائندہ میکسین بلائگ کے مطابق بڑی تعداد میں درخواستوں کی جانچ کے لیے اے آئی مفید ہے لیکن درست امیدوار کا انتخاب اب بھی انسانی مہارت کا متقاضی ہے۔

ان کے بقول جہاں ضرورت ہو وہاں ڈیجیٹل طریقہ اپنائیں لیکن جہاں انسانی رابطہ اہم ہو وہاں انسان کو ہی فیصلہ کرنا چاہیے۔

ڈیجیٹل پاورٹی الائنس کی چیف ایگزیکٹو الزبتھ اینڈرسن نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن انٹرویوز بڑے شہروں سے دور رہنے والے نوجوانوں کو بھی ملازمتوں تک رسائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر امیدوار کو لندن یا دیگر بڑے شہروں میں انٹرویو کے لیے سفر پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اصل مسئلہ مصنوعی ذہانت ہے کیونکہ سی وی کی جانچ اور امیدواروں کی ابتدائی چھانٹی میں اے آئی بعض اوقات تعصب کا مظاہرہ کرتی ہے جبکہ بیشتر اسکول چھوڑنے والے نوجوان یہ بھی نہیں جانتے کہ اپنا سی وی کس انداز میں تیار کریں تاکہ اے آئی انہیں شارٹ لسٹ کر سکے۔

بھرتیوں کے لیے اسیسمنٹ اور سلیکشن سسٹمز تیار کرنے والی کمپنی ٹیلنٹ پیپل سے وابستہ ایمی ڈیوس نے کہا کہ اگرچہ ویڈیو انٹرویوز بالمشافہ ملاقات کا مکمل متبادل نہیں لیکن یہ بھرتی کے عمل کو زیادہ قابلِ رسائی ضرور بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: برطانیہ کو سرکٹ بریکر کی ضرورت ہے، نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کا پہلا خطاب، مہنگائی میں ریلیف کا اعلان

ان کے مطابق بعض امیدوار اس بات کو سراہتے ہیں کہ ریکارڈ شدہ ویڈیو انٹرویو میں وہ جواب دوبارہ ریکارڈ کر سکتے ہیں جس سے انہیں بہتر کارکردگی دکھانے کا موقع ملتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ سہولت خاص طور پر نیورو ڈائیورجنٹ افراد اور ایسے نوجوانوں کے لیے مفید ہے جو ابتدائی مرحلے کے انٹرویو کے لیے سفر کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں اس وقت 16 سے 25 سال عمر کے 10 لاکھ سے زائد نوجوان نہ تعلیم، ملازمت یا تربیت میں شامل ہیں، جو گزشتہ 12 برس کی بلند ترین سطح ہے۔

سابق وزیر ایلن مِلبرن کی سربراہی میں تیار کی گئی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ 5 برسوں میں ہر 6 میں سے ایک نوجوان تعلیم، تربیت یا ملازمت سے باہر ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں اس صورتحال کو کھوئی ہوئی نسل کے خطرے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اینڈی برنہم نے یہ تجویز بھی دی کہ جو کمپنیاں نوعمر طلبہ کو 6 ہفتوں (45 دن) کی عملی تربیت فراہم کریں، انہیں سرکاری ٹھیکوں میں ترجیح دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے 16 سے 18 سال کے نوجوانوں کو عملی تجربہ حاصل ہوگا اور وہ روزگار کی منڈی کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں گے۔

انہوں نے کاروباری اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں پر بھی زور دیا کہ وہ ایسے نوجوانوں کو جن کے پاس پیشہ ورانہ روابط موجود نہیں اپنے ساتھ کام کا مشاہدہ کرنے کا موقع دیں تاکہ انہیں عملی دنیا کو سمجھنے اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی میں مدد مل سکے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کو نیا وزیراعظم مل گیا، اینڈی برنہم نے شاہ چارلس سے ملاقات کے بعد حکومت سنبھال لی

اس کے علاوہ برطانوی وزیراعظم نے حال ہی میں 14 سال کی عمر سے تکنیکی تعلیم کے نئے راستے متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت طلبہ 10ویں جماعت سے انگریزی اور ریاضی جیسے لازمی مضامین کے ساتھ اپنے علاقے کی ضروریات کے مطابق فنی تعلیم بھی حاصل کر سکیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سورینج کوئلہ کان حادثہ: بلوچستان حکومت کا جاں بحق مزدوروں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفیکشن جاری

بے بنیاد الزامات پر پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا حق محفوظ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا انتباہ

خضدار میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بارود سے بھری 2 گاڑیاں تباہ، 4 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب کا رابطہ، خطے فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ویڈیو

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ملتوی کیوں ہوئی؟ نظام تبدیل ہونے والا ہے، نئے صوبے ضروری

جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین