وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس، نظام حکومت اور سیاسی نظام سے متعلق دیے گئے بیان نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ نے اسی نظام میں 3 سال میں 30سالوں کا سفر کرلیا، رانا ثنا اللہ خان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر شدید تنقید
حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں، اپوزیشن اور سینیئر تجزیہ کاروں نے اس بیان کو مختلف زاویوں سے دیکھا ہے جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے کراچی اور گوادر کو وفاق کے انتظام میں دینے کی تجویز نے بھی اس بحث کو مزید وسعت دے دی ہے۔
محسن نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب تک ملک میں نئے انتظامی یونٹس نہیں بنیں گے، نئی قیادت سامنے نہیں آئے گی اور نہ ہی نظام مؤثر انداز میں چل سکے گا، نوجوانوں سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں کیونکہ نوجوان صرف میرٹ، روزگار کے مساوی مواقع اور شفاف نظام کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کاکروچ دوبارہ اکٹھے ہو گئے تو پورا نظام الٹ سکتا ہے اور پھر نوجوانوں کو صرف لیپ ٹاپ تقسیم کرکے مطمئن نہیں کیا جا سکے گا لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر ملک کے مستقبل کے نظام پر سنجیدہ غور کریں۔
🚨 موجودہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے،10 سال بعد بھی یہی مسائل بتا رہے ہوں گے، جمہوریت میں بھی تین چار،پانچ قسم کے نظام ہیں،لیکن بضد ہیں کہ اسی کو گھسیٹنا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی pic.twitter.com/RYIeVodKIq
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) July 30, 2026
اسی تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ کراچی اور گوادر کو وفاق کے انتظام میں ہونا چاہیے تاکہ ان دونوں انتہائی اہم معاشی اور اسٹریٹجک شہروں کی ترقی قومی سطح پر بہتر انداز میں ممکن بنائی جا سکے۔ تاہم ان کی اس تجویز پر بھی آئینی اور سیاسی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا ایسا اقدام موجودہ آئینی طریقہ کار کے تحت ممکن ہے یا نہیں۔
نیر بخاری
سینیئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی نیئر بخاری نے محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا واضح آئینی طریقہ کار موجود ہے اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی 2 تہائی اکثریت کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔
مزید پڑھیے: نئے صوبے، محسن نقوی کا بیان، مولانا فضل الرحمان کے بیان پر سخت ردعمل، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیا کہا؟
نیئر بخاری نے سوال اٹھایا کہ محسن نقوی ڈھائی سال سے وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں اگر انہیں محسوس ہوتا تھا کہ نظام کام نہیں کر رہا تو کیا انہوں نے یہ معاملہ کبھی کابینہ کے اجلاس میں اٹھایا؟ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت خود یہ کہہ رہی ہے کہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو پھر اس کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور نئے صوبوں کا اختیار صرف پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کے پاس ہے۔
ان کے مطابق اگر نئے صوبوں پر سنجیدہ پیش رفت مطلوب ہے تو سب سے پہلے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں کیونکہ اس حوالے سے مطالبہ کئی برسوں سے موجود ہے۔
نیئر بخاری نے خواجہ آصف کی کراچی اور گوادر سے متعلق تجویز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ واضح کیا جائے کہ یہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہوگا یا کسی اور طریقہ کار سے کیونکہ ایسا فیصلہ کسی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ممکن نہیں۔
مظہر عباس
سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ محسن نقوی کا بیان غیر معمولی نوعیت کا ہے اور اگر حکومت واقعی اس مؤقف کی حامی ہے تو وزیر داخلہ کو یہی بات پارلیمنٹ میں باقاعدہ پالیسی بیان کی صورت میں پیش کرنی چاہیے تھی۔
مزید پڑھیں: جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی
ان کے مطابق اگر یہی مؤقف اپوزیشن کی جانب سے آتا تو اس کی سیاسی حیثیت مختلف ہوتی لیکن ایک وفاقی وزیر داخلہ کی زبان سے ایسے الفاظ دراصل حکومت کی اپنی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
مظہر عباس نے کہا کہ اگر حکومت یہ تسلیم کر رہی ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ نظام کی ناکامی نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہاں کسی بھی جمہوری نظام کو مسلسل چلنے ہی نہیں دیا گیا۔
ان کے مطابق سیاسی جماعتیں توڑی بھی گئیں، بنائی بھی گئیں، حکومتیں گرائی بھی گئیں اور بنائی بھی گئیں اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ نظام ناکام ہو گیا کیونکہ نظام کو مستقل بنیادوں پر چلنے ہی نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: محسن نقوی نے آصف زرداری کو کیا پیغام دیا؟ نئے صوبے، نقوی کے بیان پر مہر، ملک میں نیا بھونچال
مظہر عباس نے محسن نقوی کے کاکروچ والے بیان پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ وہ کن عناصر کی بات کر رہے ہیں کیوں کہ طلبہ یونین پر پابندی لگا کر ملک کی سیاسی قیادت کی نرسری ختم کر دی گئی جبکہ غیر جمہوری عناصر کو مختلف ادوار میں خود ریاستی سرپرستی بھی حاصل رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ محض نئے صوبے بنا دینے سے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
رؤف کلاسرا
سینیئر تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا کہ اگر محسن نقوی سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام ناکام ہے تو انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اسی حکومت کا حصہ ہیں جس پر وہ تنقید کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق اگر وزیراعظم شہباز شریف 4 برس میں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں تو اس ناکامی کی ذمہ داری کابینہ کے ارکان پر بھی عائد ہوتی ہے۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ شہباز شریف متعدد بار وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم رہ چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) گزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار میں مختلف شکلوں میں موجود رہی ہے اس لیے اگر حکومت کا اپنا وزیر داخلہ اس نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرے تو یہ حکومت کے خلاف ایک بڑی چارج شیٹ ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے کے پی اور بلوچستان کے تاجروں کی ملاقات، کیا کچھ زیربحث آیا؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس بیان سے اتفاق نہیں کرتی تو وزیراعظم کو اس پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے بصورت دیگر یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ حکومت خود اپنے نظام پر اعتماد نہیں رکھتی۔
رؤف کلاسرا نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں جنرل جہانگیر کرامت کے ایک بیان پر فوری ردعمل سامنے آیا تھا اس لیے اب بھی وزیراعظم کو اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے ورنہ انہیں کمزور وزیراعظم تصور کیا جائے گا۔
منصور علی خان
سینیئر تجزیہ کار منصور علی خان نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض طاقتور حلقوں کا خیال ہے کہ بڑے صوبوں میں محدود سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری ختم کیے بغیر اختیارات کی حقیقی تقسیم ممکن نہیں۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نئے صوبے بھی بن جائیں تو کیا موجودہ بااثر سیاسی خاندان ان نئے صوبوں پر بھی اپنا اثرورسوخ قائم نہیں رکھیں گے؟
مزید پڑھیے: محسن نقوی کی دوحہ میں قطری وزیر داخلہ سے اہم ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
منصور علی خان کے مطابق نئے صوبے مسائل کا واحد حل نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور حقیقی سیاسی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں میں اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر عوامی ریفرنڈم کرایا جا سکتا ہے اگرچہ اس حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ اعلان موجود نہیں۔
منصور علی خان نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر سندھ اور پنجاب کی نئی انتظامی تقسیم کے مختلف نقشے گردش کر رہے ہیں تاہم ان کی سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق اس وقت مارشل لا کے امکانات دکھائی نہیں دیتے، البتہ سیاسی منظرنامے میں تبدیلیوں کی بحث ضرور زور پکڑ رہی ہے۔
محسن نقوی کے بیان، خواجہ آصف کی تجویز اور اس پر سامنے آنے والے سیاسی و تجزیاتی ردعمل نے ملک میں انتظامی ڈھانچے، آئینی اصلاحات، نئے صوبوں اور نظام حکومت پر ایک نئی قومی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف ہر محاذ پر ایک قدم آگے رہیں گے، محسن نقوی اور سرفراز بگٹی کا اعلان
تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تشکیل، نئے انتظامی یونٹس یا وفاقی انتظام میں کسی علاقے کی منتقلی جیسے معاملات صرف آئینی ترمیم، پارلیمانی اتفاقِ رائے اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی منظوری سے ہی ممکن ہیں اس لیے کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہوگا۔










