مولانا فضل الرحمان کی بلوچستان میں بڑھتی دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ دورہ کوئٹہ نے بلوچستان کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپنے دورے کے دوران مولانا فضل الرحمان نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، تنظیمی امور کا جائزہ لیا، پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال پر اظہارِ خیال کیا۔

ان کے حالیہ دورے کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر بلوچستان میں مولانا فضل الرحمان کی دلچسپی کیوں بڑھ رہی ہے اور اس کے پس منظر میں کون سے سیاسی عوامل کارفرما ہیں۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا دورہ بلوچستان، کیا صوبے میں کوئی نئی تبدیلی آنے والی ہے؟

بلوچستان میں مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مفادات بہت زیادہ ہیں، سید علی شاہ

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سید علی شاہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کے لیے بلوچستان ہمیشہ سے ایک اہم سیاسی صوبہ رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مضبوط سیاسی مراکز رہے ہیں، تاہم خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے مضبوط ہونے کے بعد بلوچستان کی اہمیت ان کے لیے مزید بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ 1970 میں بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے بعد سے شاید ہی کوئی ایسا دور آیا ہو جب جمعیت علمائے اسلام (ف) صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی میں مؤثر نمائندگی سے محروم رہی ہو۔

ان کے مطابق پہلے جماعت کا اثرورسوخ زیادہ تر پشتون بیلٹ تک محدود تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس نے بلوچ اکثریتی علاقوں خصوصاً جھالاوان، قلات، خضدار، سوراب، مشکے اور واشک تک بھی اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط کرلی ہیں۔

سید علی شاہ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مفادات بہت زیادہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں جماعت کی سیاسی پوزیشن پہلے جیسی نہیں رہی، جبکہ بلوچستان اب بھی وہ صوبہ ہے جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) نہ صرف اپنی مضبوط عوامی حمایت رکھتی ہے بلکہ حکومت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بلوچستان میں مولانا فضل الرحمان کی دلچسپی کوئی نئی بات نہیں، عرفان سعید

سینیئر صحافی و تجزیہ کار عرفان سعید نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں مولانا فضل الرحمان کی دلچسپی کوئی نئی بات نہیں بلکہ وہ طویل عرصے سے اس صوبے کو اپنی سیاست کا اہم مرکز سمجھتے آئے ہیں، اس وقت بھی جے یو آئی صوبائی اور قومی اسمبلی میں بلوچستان سے نمایاں نمائندگی رکھتی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ مولانا فضل الرحمان خود اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے انتخاب ہارنے کے بعد بلوچستان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، جبکہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان بھی خیبرپختونخوا کے بجائے بلوچستان سے منتخب ہو چکے ہیں، جو اس صوبے کی سیاسی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

عرفان سعید کا مؤقف ہے کہ موجودہ اسمبلی میں جمعیت کے کئی منتخب ارکان ایسے ہیں جن کی جماعت کے ساتھ وابستگی زیادہ پرانی نہیں۔ پارٹی نے کئی حلقوں میں روایتی مذہبی کارکنوں اور پرانے رہنماؤں کے بجائے بااثر کاروباری اور سماجی شخصیات کو ٹکٹ دیے، جن کی اپنی مقامی سیاسی حیثیت بھی مضبوط تھی۔ انہی امیدواروں کی ذاتی سیاسی طاقت اور جمعیت کے ووٹ بینک کے امتزاج نے جماعت کو زیادہ نشستیں دلانے میں کردار ادا کیا، تاہم اس حکمت عملی پر جماعت کے اندر اور باہر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ مولانا فضل الرحمان اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں واضح کر چکے ہیں کہ انہیں بلوچستان حکومت میں شمولیت کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم فی الحال وہ حکومت کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

’اگرچہ مستقبل کی سیاست کے بارے میں حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، لیکن جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے بلوچستان کے مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے قومی جرگہ بلانے کا اعلان صوبے کی سیاست میں مثبت پیشرفت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اسمبلی کے اندر اور باہر موجود بیشتر سیاسی جماعتیں اس تجویز کی حمایت کررہی ہیں۔‘

مولانا فضل الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس میں اہم نکات اٹھائے، کفایت علی

سینیئر صحافی و تجزیہ کار کفایت علی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ سے ملکی سیاست کے اہم کھلاڑی رہے ہیں۔ وفاق، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حکومتوں کی تشکیل اور اہم سیاسی فیصلوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) ایک مؤثر اسٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آتی رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان تاریخی طور پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا مضبوط سیاسی گڑھ رہا ہے اور مولانا فضل الرحمان یہاں ہمیشہ قوم پرست اور مرکزی سیاسی جماعتوں کو ٹف ٹائم دیتے آئے ہیں۔

ان کے مطابق حالیہ دورہ کوئٹہ کے دوران مولانا فضل الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس میں بعض ایسے نکات اٹھائے جنہیں سیاسی حلقے مستقبل کی سیاست سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، خصوصاً صوبوں کی تقسیم اور ملکی سیاسی نظام میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق ان کے اشارے قابلِ توجہ تھے۔

کفایت علی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی حالیہ سرگرمیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ وہ بلوچستان میں اپنی جماعت کی سیاسی حیثیت کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے بقول یہ بھی ممکن ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) آئندہ سیاسی منظرنامے میں بلوچستان میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے یا کسی نئی سیاسی صف بندی کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہو۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات، آئندہ انتخابی منظرنامہ، ممکنہ آئینی و انتظامی تبدیلیوں پر جاری بحث اور صوبے کی روایتی سیاسی اہمیت ایسے عوامل ہیں جنہوں نے مولانا فضل الرحمان کی توجہ دوبارہ بلوچستان کی جانب مبذول کرائی ہے۔

مزید پڑھیں: نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی رائے اور مشاورت سے ہونا چاہیے، مولانا فضل الرحمان

’اگر ان کے حالیہ دوروں اور تنظیمی سرگرمیوں کا یہی تسلسل برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں بلوچستان ایک بار پھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کی سیاسی حکمت عملی کا مرکزی محور بن سکتا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی ایئرپورٹ پر دبئی سے آنے والے مسافر سے 55 لاکھ روپے مالیت کے الیکٹرانکس آئٹمز برآمد

قندھار میں یونائیٹڈ فرنٹ کا حملہ: طالبان محتسب ہلاک، حملے کی ویڈیو بھی جاری

جدید اسمارٹ ٹوائلٹ سیٹ صرف 30 سیکنڈ میں دل کی دھڑکن چیک کرے گا

امریکی سینیٹ میں کرپٹو کرنسیوں کے لیے جامع قانون سازی کی راہ ہموار

روسی فوج کو جولائی میں 42 ہزار 800 جانی نقصان، یوکرین پر ریکارڈ گلائیڈ بموں کی بارش

ویڈیو

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران اور عمان معاہدے کے قریب، تہران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط رکھ دی

اگر عام آدمی کا احتساب ہوتا ہے تو وزرا بھی قانون سے ماورا نہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

کالم / تجزیہ

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں