بچے بگڑ رہے ہیں تو والدین کہاں ہیں؟ یوٹیوبر ڈکی بھائی نے بڑا سوال اٹھا دیا

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی نے بچوں کے آن لائن مواد اور ان کے رویوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی انٹرنیٹ سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے بجائے اس کے کہ ہر معاملے کا ذمہ دار کانٹینٹ کریئیٹرز کو قرار دیا جائے۔

ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈکی بھائی نے کہا کہ اگر والدین سمجھتے ہیں کہ کسی یوٹیوبر کا مواد بچوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے تو انہیں سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ بچے وہ مواد کیوں اور کس طرح دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کے طلاق دینے والے مردوں سے متعلق بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

انہوں نے اپنے بچپن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے والدین نے انہیں کم عمری میں موبائل فون یا آئی پیڈ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ان کے مطابق گیم کھیلنے کی اجازت بھی اچھی تعلیمی کارکردگی سے مشروط تھی۔

ڈکی بھائی نے مزید بتایا کہ ان کے والد نے گھر کے کمپیوٹر پر پیرنٹل کنٹرول سسٹم نصب کر رکھا تھا جس کے ذریعے ان کی آن لائن سرگرمیوں اور سرچز کی نگرانی کی جاتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے والد ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی نگرانی کرسکتے تھے تو دوسرے والدین بھی اپنے بچوں کے آن لائن استعمال پر نظر رکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن جوا تشہیر کیس: ڈکی بھائی اور اہلیہ پر فردِ جرم عائد، یوٹیوبر کا صحتِ جرم سے انکار

یوٹیوبر نے اپنے مواد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ان کی ویڈیوز میں ایسی چیز موجود نہیں جو بچوں پر منفی اثر ڈالے تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی ویڈیوز دیکھنا بچوں کے لیے لازمی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوٹیوب اسکول نہیں ہے اور والدین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کون سا مواد دیکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔

ڈکی بھائی کے ان خیالات پر سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض صارفین نے والدین کی ذمہ داری کو اہم قرار دیا جبکہ کچھ کا مؤقف ہے کہ بچوں تک پہنچنے والے مواد کے حوالے سے کانٹینٹ کریئیٹرز کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور گیجٹس کی تحویل سے متعلق درخواست مسترد

گفتگو کے دوران ڈکی بھائی نے اپنے جیل میں گزارے تقریباً 3 ماہ کے تجربے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اس عرصے کو مشکل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ محدود جگہ اور تنہائی کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران انہوں نے پہلی مرتبہ اخبارات پڑھنے شروع کیے۔

انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے سوشل میڈیا سے دوری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس عرصے میں یہ جاننے سے قاصر رہے کہ کون ان کے حق میں بات کر رہا تھا اور کون ان پر تنقید کررہا تھا کیونکہ انہیں سوشل میڈیا پر صرف تازہ مواد ہی نظر آتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کی طرح ’بگ برادر ‘کی مدد ملی؟ رجب بٹ بول اٹھے

ڈکی بھائی نے گفتگو میں ساتھی یوٹیوبر رجب بٹ کے ذاتی معاملات کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات کو بڑھنے سے پہلے خاندان کے بزرگوں کی مدد سے جلد اور نجی طور پر حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

ڈکی بھائی کے مطابق جیل میں گزارے وقت نے انہیں یہ احساس بھی دلایا کہ کسی فرد کی زندگی میں پیش آنے والے تنازعات اور مشکلات کا اثر صرف اس شخص تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے خاندان کو بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp