مری میں ن لیگ آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ ن لیگ میاں محمد نواز شریف نے آزادکشمیر میں ترقیاتی کاموں اور عوامی سہولیات کی ضرورت پر بات کی۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے عوام پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسی ہی سہولیات انہیں بھی اپنے علاقے میں میسر ہوں۔
انہوں نے آزادکشمیر میں سڑکوں اور اسپتالوں کی تعمیر، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سیاحت کے فروغ پر زور دیا، جبکہ طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس اور کسانوں کے لیے کسان کارڈ کی سہولت دینے کی بات بھی کی۔
اس تناظر میں ماہرین سے جاننے کی کوشش کی گئی کہ آزادکشمیر میں کن ترقیاتی منصوبوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟ پنجاب طرز پر کون سے منصوبے یہاں شروع کیے جا سکتے ہیں؟ سیاحت کے فروغ اور مقامی افراد کے لیے روزگار پیدا کرنے کے لیے کن منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے؟۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر الیکشن:ایل اے 15 میں پیپلز پارٹی، ایل اے 16 میں مسلم لیگ (ن) کامیاب
نو منتخب رکن اسمبلی آزاد کشمیر مصطفیٰ بشیر عباسی کے مطابق آزادکشمیر میں پنجاب میں رائج پالیسیوں اور ترقیاتی ماڈلز میں سے زیادہ سے زیادہ کو مقامی ضروریات اور حالات کے مطابق نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے جغرافیائی اعتبار سے 2 بڑے حصے ہیں، جن کی ضروریات اور معاشی امکانات مختلف ہیں۔ شمالی حصے میں سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، جس میں مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ اور دیگر سیاحتی مقامات کو بہتر انفراسٹرکچر، سہولیات اور منصوبہ بندی کے ذریعے مزید ترقی دی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق آزادکشمیر کے جنوبی حصے میں چونکہ نسبتاً میدانی علاقے موجود ہیں، اس لیے وہاں زراعت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جا سکتی ہے۔
نواز شریف کی جانب سے پیش کیے گئے ترقیاتی وژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زراعت اور سیاحت کے ساتھ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑے تعلیمی اداروں میں تعلیم کے معیار اور سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے تعاون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نئی حکومت اور کابینہ کی تشکیل کے بعد نواز شریف خود ان پالیسیوں کی نگرانی کریں گے تاکہ پنجاب میں کامیاب پالیسیوں کو آزادکشمیر میں بھی مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔
انفراسٹرکچر کے حوالے سے مصطفیٰ بشیر عباسی نے کہا کہ آزادکشمیر میں 2 سطحوں پر سڑکوں کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
ایک جانب اندرونِ آزادکشمیر رابطہ سڑکوں کو بہتر بنانا ضروری ہے، جس کی ذمہ داری آزادکشمیر حکومت کی ہے، جبکہ دوسری جانب وہ اہم شاہراہیں ہیں جو آزادکشمیر کو ملک کے دیگر صوبوں سے ملاتی ہیں۔
ان کے مطابق آزادکشمیر کی متعدد اہم سڑکیں پنجاب سے منسلک ہیں، جبکہ کچھ اہم رابطے خیبرپختونخوا سے بھی قائم ہیں، اس لیے بین الصوبائی رابطہ سڑکوں کی تعمیر، توسیع اور بہتری میں وفاقی حکومت کو کردار ادا کرنا چاہیے۔
نوجوانوں کے روزگار کے حوالے سے انہوں نے اسے آزادکشمیر کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں صنعت کا شعبہ محدود ہونے کی ایک وجہ خام مال کی عدم دستیابی اور بڑی مارکیٹوں اور موٹرویز سے فاصلہ بھی ہے۔
ان کے مطابق اگر کوئی چیز آزادکشمیر میں تیار بھی کی جائے تو اسے بڑی مارکیٹوں تک پہنچانا ایک چیلنج بن جاتا ہے، جس کے باعث صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
اس لیے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ صنعت، تجارت، زراعت اور سیاحت کو اس انداز میں فروغ دینا ضروری ہے کہ مقامی معیشت مضبوط ہو اور نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں بہتر روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔
ممبر کشمیر کونسل اور انچارج الیکشن رابطہ سیل مسلم لیگ ن آزادکشمیر محمد حنیف ملک کے مطابق آزادکشمیر میں پنجاب کی طرز پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم ان منصوبوں کو خطے کی ضروریات اور جغرافیائی حالات کے مطابق ترتیب دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے لیے سب سے اہم منصوبوں میں سے ایک مانسہرہ سے میرپور تک مجوزہ موٹروے کے روٹ پر نظرثانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انتخابات شفاف ہوئے، دھاندلی کے الزامات لگانے والے ثبوت پیش کریں، چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر
اگر اس روٹ کو مظفرآباد، چکوٹھی، راولاکوٹ اور کوٹلی کے راستے دینہ یا جہلم سے منسلک کیا جائے تو اس سے نہ صرف آزادکشمیر کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا بلکہ سیاحت کے فروغ کے لیے بھی یہ ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
محمد حنیف ملک کے مطابق ایسا رابطہ راستہ پاکستان کے دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کو آزادکشمیر کے مختلف سیاحتی مقامات تک آسان رسائی فراہم کرے گا۔
اس روٹ کے ذریعے راولاکوٹ، باغ، گنگا چوٹی، چکوٹھی اور نیلم جیسے علاقوں کو بہتر انداز میں آپس میں جوڑا جا سکتا ہے، جبکہ سیاحوں کو آزادکشمیر کے مختلف علاقوں اور لائن آف کنٹرول سے ملحقہ علاقوں کے جغرافیے اور صورتحال کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے تعلیم کے شعبے میں آزادکشمیر کے طلبہ کے لیے پنجاب کی طرز پر لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ پروگرام شروع کرنے کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کالجز، یونیورسٹیوں اور سول سروسز کے امتحانات میں کشمیری طلبہ کے لیے کوٹہ بڑھانے پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔
صحت کے شعبے میں انہوں نے پنجاب کے ہیلتھ کارڈ اور صفائی کے پروگرامز کو آزادکشمیر میں متعارف کرانے کی تجویز دی۔
محمد حنیف ملک کے مطابق پنجاب میں جاری بعض فلاحی اور صفائی کے منصوبوں کو آزادکشمیر کے مقامی حالات کے مطابق بہتر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے، جس سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
انہوں نے آزادکشمیر میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان بہتر مستقبل کے لیے دوسرے صوبوں اور شہروں کا رخ کرتے ہیں، تاہم نقل مکانی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادکشمیر میں ایسا ترقیاتی اور معاشی ماڈل تشکیل دیا جائے جو نوجوانوں کو اپنے علاقے میں ہی بہتر مواقع فراہم کر سکے۔
اس مقصد کے لیے ایک جامع یوتھ پالیسی اور زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل اداروں کا قیام ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر فراہم کیا جا سکے۔
ان کے مطابق آزادکشمیر میں صنعت کے فروغ کے بھی وسیع امکانات موجود ہیں، خاص طور پر اگر بہتر سڑکوں اور رابطہ ذرائع کے ذریعے سیاحت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہتر انفراسٹرکچر نہ صرف سیاحوں کی تعداد بڑھا سکتا ہے بلکہ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، مقامی کاروبار اور دیگر شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
سیاحت کے حوالے سے محمد حنیف ملک نے کہا کہ آزادکشمیر میں راولاکوٹ، باغ، نیلم، گنگا چوٹی، تولی پیر اور سدھن گلی سمیت متعدد ایسے مقامات موجود ہیں جنہیں بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے بڑے سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق ان علاقوں تک بہتر روڈ کمیونیکیشن فراہم کرنا بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ جب تک سیاحتی مقامات تک رسائی آسان نہیں ہوگی، سیاحت کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانا مشکل رہے گا۔
انہوں نے آزادکشمیر میں چیئر لفٹس سمیت جدید سیاحتی سہولیات کے قیام کی بھی تجویز دی اور کہا کہ ایسے منصوبوں سے نہ صرف سیاحوں کے لیے نئی سرگرمیاں پیدا ہوں گی بلکہ مقامی لوگوں کے لیے بھی آمدن اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔
ان کے مطابق آزادکشمیر میں موجود قدرتی حسن، پرامن ماحول اور مقامی لوگوں کا تعاون اسے ایک اہم سیاحتی منزل بنا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر، رہائش اور محفوظ سفری سہولیات کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
محمد حنیف ملک کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے بہت سے خوبصورت علاقوں سے خود پاکستانی عوام بھی پوری طرح واقف نہیں، جس کی بڑی وجہ ان علاقوں تک رسائی اور مناسب روڈ نیٹ ورک کا نہ ہونا ہے۔
اگر ایک بہتر ایکسپریس وے یا موٹروے کے ذریعے آزادکشمیر کے اہم سیاحتی علاقوں کو آپس میں منسلک کیا جائے تو سیاحوں کے لیے سفر زیادہ آسان اور محفوظ ہوگا، جس کے نتیجے میں سیاحوں کی تعداد، ہوٹلنگ اور مقامی کاروبار میں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
مزید پڑھیں:4جون سے قبل انتخابات کا شیڈول جاری کردیں گے، چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر
پاکستان مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے اسٹڈی سرکل کے چیئرمین راجہ عابد علی عابد کے مطابق نواز شریف نے مری میں آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کے دوران جن خیالات کا اظہار کیا، وہ آزادکشمیر کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے ایک اہم وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے سابق ادوار میں بھی آزادکشمیر کی ترقی کے لیے اقدامات کیے گئے، جبکہ 2018 کے بعد آزادکشمیر میں ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اب ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام شروع کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں سب سے پہلے پرانی اور خستہ حال سڑکوں کی مرمت اور بحالی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ بہتر سڑکوں کا نظام نہ صرف عوام کے لیے آمدورفت آسان بناتا ہے بلکہ کاروبار، سیاحت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔
ان کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی بہتری آزادکشمیر کی مجموعی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
راجہ عابد علی عابد نے نوجوانوں کے روزگار کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں روایتی روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ خطے میں ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی موجود ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہیں۔
ایسے میں روزگار کے روایتی ذرائع کے ساتھ ساتھ آن لائن اور ڈیجیٹل شعبوں میں مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی آزاد کشمیر الیکشن میں شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ن لیگ کا بلاول بھٹو کی تنقید پر جواب
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بہتر بنا کر نوجوانوں کو اپنے گھروں سے آن لائن کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
فری لانسنگ، آن لائن کاروبار اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں کے ذریعے نوجوان نہ صرف اپنے لیے باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق آزادکشمیر کے نوجوانوں کی بڑی تعداد تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہے، اس لیے اگر انہیں بہتر انٹرنیٹ، جدید ڈیجیٹل سہولیات اور ضروری تربیت فراہم کی جائے تو وہ عالمی آن لائن مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روایتی ملازمتوں پر انحصار کم کرنے اور نوجوانوں کو جدید شعبوں سے جوڑنے کے لیے ڈیجیٹل معیشت پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔













