اکٹھے کھانا صرف روایت نہیں، صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کبھی پاکستانی گھروں میں کھانے کا وقت صرف بھوک مٹانے کا نہیں بلکہ پورے خاندان کے اکٹھا ہونے کا وقت بھی ہوا کرتا تھا۔ دسترخوان بچھتا تو گھر کے بڑے، بچے اور دیگر افراد ایک ساتھ بیٹھتے، دن بھر کی باتیں ہوتیں اور کھانا محض کھانا نہیں رہتا بلکہ میل جول کا ذریعہ بن جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: انسانوں کو ایک ساتھ کھانا کھانے میں کیوں لطف آتا ہے؟

لیکن مصروف زندگی، دفتری اوقات، موبائل فون، ٹیلی وژن اور بدلتے معمولات کے باعث اب بہت سے گھروں میں یہ منظر کم دکھائی دیتا ہے۔ کوئی دفتر سے دیر سے آتا ہے۔ کوئی اپنے کمرے میں کھانا پسند کرتا ہے اور بچے بھی اپنی مصروفیات میں الگ کھانا کھا لیتے ہیں اور بچے بھی اب باہر سے پیزا یا کچھ اور کھانا منگوا کر اپنے اپنے وقت کے حساب سے کھالیتے ہیں۔

اب ایک نئی تحقیق نے اس پرانی عادت کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ماہرین کے مطابق دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ صرف لوگوں کے درمیان تعلق اور اعتماد مضبوط کرتا ہے بلکہ ذہنی صحت، خوشی اور ممکنہ طور پر دماغی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

اس عمل کو ماہرین ’کمینسیلیٹی‘ کہتے ہیں جس سے مراد دوسروں کے ساتھ مل کر کھانا کھانا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے معاشیات اور رویوں سے متعلق علوم کے پروفیسر جان ایمانوئل ڈی نیو کے مطابق کھانا بانٹنا انسانوں کے درمیان تعلق قائم کرنے، اعتماد پیدا کرنے اور ایک دوسرے سے جڑنے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔

اکٹھے کھانے سے ڈپریشن کا خطرہ کم؟

کئی تحقیقات میں اجتماعی طور پر کھانا کھانے اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیے: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟

چین میں ژیجیانگ صوبائی مرکز برائے امراضِ کنٹرول و روک تھام سے وابستہ ژینی وانگ اور ان کے ساتھیوں نے 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کی 9,361 خواتین کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ کھانے کے وقت میز پر بیٹھنے والے افراد کی تعداد ڈپریشن کے خطرے سے واضح تعلق رکھتی تھی۔

یہ تعلق اس وقت بھی برقرار رہا جب محققین نے صحت، مالی حالات اور اکیلے رہنے سمیت دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا۔

جاپان میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں معلوم ہوا کہ 65 سے 74 سال کی عمر کے وہ افراد جو اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے لیکن اکثر اکیلے کھانا کھاتے تھے ان میں ڈپریشن کی علامات پیدا ہونے کے امکانات ان لوگوں کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ تھے جو باقاعدگی سے دوسروں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔

خوشی اور اطمینان سے بھی تعلق

اس حوالے سے عالمی خوشی رپورٹ کے اعداد و شمار بھی دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔

سنہ 2024 کی رپورٹ میں دنیا بھر کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد سے پوچھا گیا کہ گزشتہ 7 دنوں میں انہوں نے کتنے دن کسی جاننے والے کے ساتھ دوپہر یا رات کا کھانا کھایا۔

تحقیق کاروں نے پایا کہ لوگ جتنے زیادہ کھانے دوسروں کے ساتھ بانٹتے تھے، ان کی جذباتی کیفیت اور زندگی سے اطمینان کے اسکور بھی اتنے ہی بہتر تھے۔

مزید پڑھیں: خیالی پلاؤ: جاگتے میں خواب دیکھنا ٹھیک لیکن لت خطرناک

پروفیسر ڈی نیو کے مطابق دوسروں کے ساتھ کھانا کھانے کا تعلق زندگی سے اطمینان کے ساتھ اتنا نمایاں تھا جتنا بعض اہم معاشی اور سماجی عوامل، مثلاً ملازمت اور نسبتاً آمدنی، کا ہوتا ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی احتیاط کرتے ہیں کہ اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ صرف کسی کے ساتھ کھانا کھانے سے ڈپریشن یا تنہائی ختم ہوجاتی ہے۔ ممکن ہے کہ مشترکہ کھانا دراصل کسی شخص کی مجموعی سماجی زندگی کا ایک پیمانہ بھی ہو۔

کھانا زیادہ لذیذ بھی محسوس ہوسکتا ہے

ماہرین کے مطابق دوسروں کے ساتھ کھانا کھانے کا فائدہ صرف ذہنی سکون تک محدود نہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے حیاتیاتی ماہرِ بشریات رابن ڈنبر کے مطابق کھانا جسم میں اینڈورفنز کے اخراج کو متحرک کرسکتا ہے۔ یہ ایسے کیمیائی مادے ہیں جو خوشی اور اطمینان کے احساس سے وابستہ ہیں اور لوگوں کے درمیان تعلق مضبوط کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ایک دلچسپ تجربے میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی محقق ایریکا بوتھبی اور ان کے ساتھیوں نے یہ بھی پایا کہ لوگ کسی دوسرے شخص کی موجودگی میں چاکلیٹ کھاتے ہوئے اسے زیادہ لذیذ محسوس کرسکتے ہیں۔

یعنی بعض حالات میں اچھا کھانا، اچھی صحبت میں مزید اچھا محسوس ہوسکتا ہے۔

اکیلے کھانے اور دماغی صحت کا تعلق

تحقیق کا ایک اور اہم پہلو دماغی صحت سے متعلق ہے۔ سنہ 2025 میں جاپانی محققین کی ایک تحقیق میں ایسے افراد کے دماغ کا جائزہ لیا گیا جو باقاعدگی سے اکیلے کھانا کھاتے تھے۔ ان افراد میں دماغ کے بعض حصوں، خصوصاً یادداشت اور ادراکی صلاحیتوں سے متعلق علاقوں میں دماغی حجم کم پایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: زبردستی نہیں ٹیکنیک استعمال کریں: بچے سبزیاں نہیں کھاتے تو یہ مؤثر طریقے اپنائیں

محققین نے تسلیم کیا کہ اس فرق کی کچھ وجہ غذا بھی ہوسکتی ہے کیونکہ اکیلے کھانے والے افراد عمومی طور پر کم صحت بخش غذا استعمال کرسکتے ہیں۔ تاہم غذا ان تمام فرق کی وضاحت نہیں کرتی تھی۔

محققین کے مطابق اجتماعی کھانے سے ملنے والی خوشی، سماجی تعاون اور کھانے کے دوران ہونے والی گفتگو ذہنی دباؤ کم کرنے اور دماغ کو متحرک رکھنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

تحقیق میں شامل افراد کی اس وقت ذہنی صلاحیتیں معمول کے مطابق تھیں تاہم محققین نے خبردار کیا کہ دماغی صحت میں اس طرح کی تبدیلیاں مستقبل میں ڈیمنشیا جیسے مسائل کے خطرے سے منسلک ہوسکتی ہیں۔

دنیا میں کہاں لوگ زیادہ اکٹھے کھاتے ہیں؟

مختلف ممالک میں اجتماعی کھانے کی روایت بھی مختلف ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں لوگ اوسطاً ہفتے میں 4 سے کم کھانے دوسروں کے ساتھ کھاتے ہیں۔ برطانیہ اور امریکا میں یہ تعداد تقریباً 7 سے 8 جبکہ اٹلی میں 9 کے قریب ہے۔

اٹلی میں کھانے کو خاندان اور معاشرے کو جوڑنے والی روایت تصور کیا جاتا ہے۔ یونیسکو نے بھی اطالوی کھانوں کو غیر مادی ثقافتی ورثے کا درجہ دیتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کھانا گھر، اسکولوں، تہواروں اور سماجی اجتماعات میں خاندان اور کمیونٹی کو جوڑنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اٹلی میں ’سلو فوڈ موومنٹ‘ بھی مشترکہ کھانے، مقامی غذائی روایات اور کھانے کی تیاری میں اجتماعی شرکت کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔

تو پھر کیا کیا جائے؟

ماہرین کے مطابق اس کے لیے کسی مہنگے منصوبے یا پیچیدہ طریقہ کار کی ضرورت نہیں۔

اگر گھر میں ہر شخص اپنے الگ وقت پر کھانا کھانے کا عادی ہوگیا ہے تو ہفتے میں چند مرتبہ بھی سب افراد کو ایک ساتھ بٹھانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ کھانے کے دوران موبائل فون ایک طرف رکھنا اور گفتگو کے لیے وقت نکالنا اس تجربے کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔

اور اگر گھر کے افراد دستیاب نہ ہوں تو دوست، رشتہ دار یا کوئی ایسا شخص جسے صحبت کی ضرورت ہو اسے کھانے پر مدعو کرنا بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق ہم اکثر یہ اندازہ کم لگاتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہماری صحبت کو کتنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے کسی دوست یا جاننے والے کو کھانے پر بلانے کی ایک سادہ سی دعوت شاید توقع سے زیادہ مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

یوں بظاہر معمولی سی عادت یعنی ایک ہی میز پر بیٹھ کر کھانا صرف ایک پرانی خاندانی روایت نہیں بلکہ انسانی تعلق، ذہنی خوشی اور ممکنہ طور پر صحت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: 2 سال کی عمر سے پہلے کم چینی کھانا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

اور شاید مصروف زندگی میں کبھی کبھی صحت مند ہونے کے لیے کسی نئی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کچھ پرانی اچھی عادتیں واپس لانا ہی کافی ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی، پیٹرول 50، ڈیزل 19پیسے سستا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ: جماعت اسلامی کا 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون میں بڑی پیشرفت، نیا معاہدہ طے پاگیا

پمز سانحہ، جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان

کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘لیک اونٹاریو’ کا نام بدل کر ‘لیک امریکا’ رکھنے کا انتظامی حکمنامہ جاری

ویڈیو

پمز سانحہ، سیکریٹری ہیلتھ ماضی کے ملزم، بے ایل اے کی دہشتگرد خواتین پر انعام

امریکی سی آئی اے چیف کے خفیہ دورۂ ماسکو پر دُنیا میں ہلچل، روس کو تباہ کن نتائج کی دھمکی

نیپال: زلزلہ یا تباہی کا نیا روپ؟ 5.2 شدت کے جھٹکے کی خوفناک سچائی سامنے آگئی

کالم / تجزیہ

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ