پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ریسکیو فائر بریگیڈ نے اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کرتے ہوئے فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیموں کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق پمز میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد 6 بج کر 54 منٹ پر ایمرجنسی ہیلپ لائن 1122 پر کال موصول ہوئی۔ کنٹرول روم میں کال موصول ہوتے ہی اسے فوری طور پر متعلقہ فائر سیفٹی اور فائر بریگیڈ حکام کو منتقل کیا گیا، جس کے بعد فائر بریگیڈ نے بغیر کسی تاخیر کے اپنی گاڑیاں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیں۔
مزید پڑھیں: بچوں کی اموات کا معاملہ، پمز میں احتساب اور حفاظتی اصلاحات کا آغاز
وائرلیس آپریٹر آصف حسین کے مطابق کنٹرول روم کو اطلاع ملنے کے فوری بعد فائر بریگیڈ کے فرسٹ کوارٹر کو کال منتقل کی گئی اور وہاں سے فائر فائٹنگ گاڑیاں فوری طور پر روانہ کی گئیں۔
ان کے مطابق ریسکیو کی گاڑیاں قریباً 6 منٹ کے اندر پمز اسپتال پہنچ گئیں اور وہاں پہنچتے ہی امدادی کارروائی شروع کر دی گئی۔
آصف حسین کا کہنا تھا کہ فائر بریگیڈ کی ابتدائی رسپانس ٹیم میں فائر ٹینڈر کے ساتھ چار فائر فائٹرز اور ایک فرسٹ ریسپانڈر شامل تھا، جبکہ ریسکیو ٹیم کی گاڑی بھی موقع پر روانہ کی گئی، جس میں عملہ موجود تھا۔ ان کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو کی مختلف گاڑیاں قریباً ایک ہی وقت میں جائے وقوعہ پر پہنچیں تاکہ آگ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان کی صورت میں فوری امدادی کارروائی کی جا سکے۔
ریسکیو فائر فائٹر مختار احمد نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کے پاس مختلف نوعیت کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تین بنیادی اقسام کی گاڑیاں موجود ہوتی ہیں۔ ان میں ریسکیو وین، برونٹو اسکائی لفٹ اور فائر ٹینڈر شامل ہیں۔
مختار احمد کے مطابق ریسکیو وین عمارتوں میں حادثات، ریسکیو آپریشنز اور دیگر ہنگامی حالات میں استعمال کی جاتی ہے۔ دوسری جانب برونٹو اسکائی لفٹ بلند و بالا عمارتوں میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ فائر ٹینڈر عام نوعیت کی آتشزدگی کے واقعات میں آگ بجھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پمز میں آتشزدگی کی اطلاع ملنے کے بعد صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فائر ٹینڈر اور ریسکیو گاڑیاں فوری طور پر روانہ کی گئیں تاکہ آگ پر قابو پانے اور ممکنہ متاثرین کو بروقت امداد فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری وسائل موقع پر موجود ہوں۔
ریسکیو حکام کے مطابق ایمرجنسی کال موصول ہونے سے لے کر فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے جائے وقوعہ پر پہنچنے تک تمام مراحل کو تیزی سے مکمل کیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی کنٹرول روم نے متعلقہ یونٹ کو متحرک کیا اور فائر فائٹرز نے فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب پیش قدمی کی۔
پمز جیسے بڑے اسپتال میں آتشزدگی کی صورت میں فائر بریگیڈ کے لیے صورتحال مزید حساس ہوتی ہے کیونکہ عمارت میں مریض، ان کے لواحقین اور طبی عملہ موجود ہوتا ہے۔ ایسے واقعات میں فائر فائٹرز کی فوری رسپانس کے ساتھ ساتھ ریسکیو ٹیموں کا موقع پر پہنچنا بھی انتہائی اہم ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: پمز سانحہ: سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچوں کو بچانے کی کوششوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں
ریسکیو حکام کے مطابق پمز آتشزدگی کے واقعے میں بھی اسی ایمرجنسی رسپانس میکنزم کے تحت کارروائی کی گئی اور اطلاع موصول ہوتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا۔













