ممکن ہے 27 ستمبر سے پہلے کوئی بات بن جائے، رہنما پی ٹی آئی لطیف کھوسہ

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی صحت پر بات کرنے سے روکنا عدالت عظمیٰ کو زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا 27 ستمبر کو خیبر پختونخوا سے 40 لاکھ افراد اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بیٹے نائیکوپ رکھنے کے باوجود پاکستان آنے کے لیے ویزا کا بہانہ بنارہے ہیں، بیرسٹر عقیل ملک

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدلیہ نے بنیادی حقوق، خصوصاً حقِ زندگی کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی فرض ادا کیا ہے تاہم سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر تجاوز کیا ہے۔

لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی صحت کے بارے میں بات کرنے یا معلومات ظاہر کرنے سے روکنا ان کے نزدیک ایک تجاوز ہے اور یہ عمل سپریم کورٹ کو زیب نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں لوگ عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو خیبر پختونخوا سے 40 لاکھ افراد کا قافلہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گا جبکہ دیگر صوبوں میں بھی الگ احتجاج ہوگا تاہم سے پہلے بھی کوئی بڑی پیشرفت ممکن ہے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ 27 ستمبر پاکستان کے لیے ایک اہم دن ثابت ہوگا جب خیبر پختونخوا سے تقریباً 40 لاکھ افراد اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی مقامی سطح پر احتجاج اور مارچ منظم کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیے: عمران خان کی صحت کا معاملہ پھر زیر بحث: تحریک انصاف کا مطالبہ اور حکومت کا مؤقف کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے 27 ستمبر سے پہلے ہی کوئی پیشرفت ہو جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بڑے سیاسی مارچ اور احتجاج کے انعقاد کے لیے خطیر فنڈز درکار ہوتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے پارٹی کی فنڈ ریزنگ مہم جاری ہے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی جیسی جماعت کو فنڈ ریزنگ میں کوئی خاص مشکل درپیش نہیں۔

عدلیہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کوئی رعایت نہیں تھا بلکہ عدلیہ نے بنیادی حقوق کے محافظ کی حیثیت سے اپنا آئینی فرض نبھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں حق زندگی، یعنی آرٹیکل 9، بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور حقِ زندگی کا مفہوم صرف سانس لینے تک محدود نہیں بلکہ صحت اور زندگی کے معیار سے بھی جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں سپریم کورٹ 16 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں سب سے پہلے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم جاری کرے گی جس کے بعد توہین عدالت اور نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت کی جائے گی۔

لطیف کھوسہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی اپنی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتی ارکان کو تنخواہوں کے علاوہ مختلف کمیٹیوں، چیئرمین شپس اور دیگر ذرائع سے بھی مراعات اور فنڈز حاصل ہو رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے ارکان ان کمیٹیوں میں شرکت کرنے کے بجائے احتجاجاً باہر بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے انہیں یہ مراعات حاصل نہیں ہو پا رہیں۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے سیاسی مخالف اور ان کے حلقے سے ہارے ہوئے شخص کو تقریباً ایک ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ دیا گیا ہے جو ان کے حلقے میں خرچ کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کا معائنہ پمز اسپتال میں ہوا، صحتمند قرار دیے جانے پر واپس اڈیالا بھیجا، عطاتارڑ

ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نواز شریف کی سابقہ حکومت پر بھی الزام عائد کیا کہ اس دور میں بھی ارکان اسمبلی کو فنڈز فراہم کیے گئے تھے اور کمیونٹی سینٹرز کے نام پر اپنے ذاتی ڈیرے تعمیر کیے گئے جن پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے اور بعد ازاں انہی ڈیروں سے انتخابی مہم چلائی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp