امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے بے حد بے تاب ہے اور مسلسل رابطے کر رہا ہے جبکہ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ختم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ ڈبلن، متحدہ آئرلینڈ کے متنازع بیان پر نئی بحث چھڑ گئی
اتوار کو آئرلینڈ کے علاقے ڈونبیگ میں گولف ٹورنامنٹ کے موقعے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران ڈیل کرنا بہت بری طرح چاہتا ہے اور وہاں سے مسلسل فون کالز آ رہی ہیںَ
ٹرمپ نے کہا کہ جنگ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ختم ہو سکتی ہے لیکن اگر اس سے پہلے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یہ ووٹنگ کے بعد تک جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں یہ جنگ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ختم ہو سکتی ہے لیکن یہ وسط مدتی کے بعد ختم ہوگی۔
'Iran wants to make a deal SO BADLY, they're calling constantly' — Trump
'Look, [the war] could end before the midterm, but it will end after the midterm' https://t.co/acBnre16PH pic.twitter.com/40suPZ2ng3
— RT Intl (@RT_on_X) September 13, 2026
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور وہ (ٹرمپ) کسی بری ڈیل پر راضی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی قیمت پر ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن میں بری ڈیل نہیں کروں گا۔
امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آئے تب آبنائے ہرمز کھلے گی، ایران
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آئے۔
عراقچی کے حوالے سے کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی شرط یہ ہے کہ امریکا اسلام آباد ایم او یو میں اپنے وعدوں پر واپس آئے۔
پاکستان کی علاقائی امن کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم
اتوار کے روز ہی ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
شہباز شریف نے یہ بات سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں اور سعودی عرب کے لیے اس کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا۔
علاوہ ازیں ہفتے کے روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران جنگ ممکنہ طور پر نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی اور پیشگوئی کی تھی کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی۔
انہوں نے ڈبلن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میرے خیال میں بہت جلد میرے خیال میں یہ دراصل وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ہوگا۔ میں کہوں گا کہ جلد ہی، اور جب ایسا ہوگا تو تیل کی قیمتیں گر جائیں گی۔
Iran war will end 'I think VERY SOON, probably right after the midterms' — Trump
'And oil prices will come tumbling down when that happens' https://t.co/x3FRrej07f pic.twitter.com/ymJ15jX5cU
— RT Intl (@RT_on_X) September 12, 2026
ان کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن کو پیچیدہ بنانے کے لیے جتنا ہو سکے اسے طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن میرے خیال میں لوگ اسے سمجھ گئے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
جمعے کو تیل کی قیمتوں میں کمی آئی لیکن کئی ماہ میں پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے کے بعد ہفتہ وار بنیاد پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
برینٹ کروڈ آئل فیوچر جو عالمی بینچ مارک ہے 2.8 فیصد کمی کے ساتھ 104.61 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.4 فیصد کمی کے ساتھ 100.05 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔
جمعرات کو برینٹ کروڈ 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 104 ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: نوکری گئی تو فوراً امریکا چھوڑنا پڑے گا، ٹرمپ انتظامیہ کا نیا سخت ترین ویزا قانون نافذ کرنے کا فیصلہ
بدھ کے روز بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے ’فوراً بعد‘ ختم ہو جائے گی۔














