نائن الیون سے عالمی نظام تبدیل، بین الاقوامی قانونی ڈھانچہ کمزور ہوا، مشاہد حسین

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں نے عالمی سیاست اور طاقت کے توازن میں بنیادی تبدیلی پیدا کی جس کے بعد شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے اثرات صرف فوری ردعمل تک محدود نہیں رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

ان کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں ہونے والی فوجی مداخلتوں نے انسانی جانوں اور معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچایا، بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کیا، پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کیا اور امریکا کی بالادستی پر مبنی یک قطبی عالمی نظام کے زوال کے عمل کو تیز کیا۔

ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات اور بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے اشتراک سے منعقدہ خصوصی نشست ’9/11 کے 25 سال: وہ دن جس نے دنیا بدل دی‘ میں کیا گیا۔

نشست سے سینیٹر مشاہد حسین سید، آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان اور بحریہ یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ ڈاکٹر سائرہ نواز عباسی نے خطاب کیا۔

’9/11 نے امریکی یک قطبی بالادستی کے زوال کو تیز کیا‘

کلیدی خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ 9/11 نے عالمی طاقت کے توازن کو بنیادی طور پر تبدیل کیا اور امریکا کی یک قطبی بالادستی کے زوال کے عمل کو تیز کردیا۔

مزید پڑھیے: چین کا سیاسی نظام عوامی فلاح پر مرکوز، جدیدیت کے فوائد عوام تک پہنچیں گے، مشاہد حسین سید

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان حملوں کے جواب میں امریکا کا ردعمل متناسب تھا؟ ان کے مطابق بعد میں 9/11 کو وسیع تر جغرافیائی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔

مشاہد حسین سید نے 9/11 سے قبل کی بعض پیشرفتوں، بالخصوص ’پروجیکٹ فار دی نیو امریکن سنچری‘ اور مشرق وسطیٰ کی تشکیل نو کی امریکی وکالت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کی تبدیلی اور فوجی مداخلت امریکی تزویراتی سوچ کا مستقل حصہ بن چکی تھیں۔

جنگوں کی بھاری انسانی اور مالی قیمت

براؤن یونیورسٹی کے ’کاسٹس آف وار‘ مطالعے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ 9/11 کے بعد شروع ہونے والی جنگوں کی امریکا اور دنیا کو بھاری انسانی و مالی قیمت ادا کرنئ پڑی۔

ان کے مطابق امریکا نے ان جنگوں پر تقریباً 8 کھرب ڈالر خرچ کیے جبکہ براہ راست ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 10 لاکھ رہی۔ بالواسطہ ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ تھیں اور کروڑوں افراد بے گھر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ صرف افغانستان میں امریکی مداخلت پر 2 دہائیوں کے دوران تقریباً 2 کھرب ڈالر خرچ کیے گئے۔

مشاہد حسین سید کے مطابق مطلوبہ تزویراتی مقاصد کے حصول میں ناکامی نے فوجی مداخلت کی حدود واضح کردیں اور امریکا کے عالمی اثر و رسوخ میں کمی کے عمل میں بھی کردار ادا کیا۔

افغانستان اور پاکستان شدید متاثر ہوئے

افغانستان اور پاکستان پر 9/11 کے بعد کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ یہ دور پورے خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔

ان کے مطابق افغانستان میں مسلط کیے گئے سیاسی انتظامات ملک کی تاریخی اور سماجی حقیقتوں کو پوری طرح مدنظر رکھنے میں ناکام رہے جبکہ پاکستان بالخصوص سابق فاٹا کے علاقوں میں شدید عدم استحکام سے دوچار ہوا۔

انہوں نے امریکی قبضے کے دوران افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ میں مسلسل اضافے کو بھی 9/11 کے بعد پیدا ہونے والے ماحول کا ایک اہم نتیجہ قرار دیا۔

چین کے عروج کا بھی حوالہ

عالمی سطح پر 9/11 کے وسیع تر اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے مشاہد حسین سید نے امریکا کے جنگی اخراجات کا موازنہ اسی عرصے کے دوران چین کی جانب سے اقتصادی روابط اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ سے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فرق نے چین کے عروج میں کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: 22 نومبر کو عمران خان کی رہائی یقینی تھی، مگر ان کے نادان دوستوں نے ایسا نہیں ہونے دیا، مشاہد حسین سید کا انکشاف

انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن کی قیادت میں روس کی بعد ازاں بحالی اور پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک میں ابھرنے والی درمیانی درجے کی طاقتوں کا بھی ذکر کیا اور انہیں بدلتے ہوئے عالمی نظام کا اہم رجحان قرار دیا۔

’اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف تعصب بڑھا‘

مشاہد حسین سید نے 9/11 کے دیرپا اثرات میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کے فروغ کو بھی نمایاں قرار دیا۔

ان کے مطابق مغربی ممالک کے بعض حصوں میں دائیں بازو کی سیاسی تحریکوں میں اضافہ ہوا جبکہ موجودہ عالمی کشیدگی کو اسلام اور مغرب کے درمیان تاریخی بیانیوں سے بھی جوڑا جاسکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ان متضاد تاریخی اور جغرافیائی سیاسی تصورات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ حقائق اور پروپیگنڈے کے درمیان واضح فرق کرنا بھی ضروری ہے۔

’دہشتگردی کے خلاف جنگ نے عالمی قانون کو کمزور کیا

آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان دہشتگردی کو بنیادی طور پر ایک فوجداری معاملہ سمجھنے کے طریقہ کار سے نمایاں انحراف تھا جس میں تحقیقات اور مقدمات کے ذریعے کارروائی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد کے ردعمل کے سنگین ترین نتائج میں بین الاقوامی قانونی نظام کا کمزور ہونا شامل ہے۔

خالد رحمان نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کی مسلسل اہمیت پر بھی زور دیا۔

’ریاستیں کسی مسئلے کو سلامتی کا معاملہ بنا دیتی ہیں‘

بحریہ یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ ڈاکٹر سائرہ نواز عباسی نے کہا کہ 9/11 کا مطالعہ یہ سمجھنے کے لیے اہم ہے کہ عالمی نظام میں تبدیلی کس طرح تشکیل پاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستیں اپنے داخلی اور بین الاقوامی مفادات کے حصول کے لیے تقریر اور بیانیے کے ذریعے کسی مخصوص مسئلے کو سلامتی کا معاملہ بنا دیتی ہیں۔

ان کے مطابق سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے 9/11 کے واقعے کو امریکی سلامتی کے مسئلے کے طور پر پیش کیا۔

ڈاکٹر سائرہ نواز نے کہا کہ سلامتی کوئی مکمل طور پر معروضی مظہر نہیں بلکہ مختلف ریاستی فاعل اپنے مفادات اور نقطۂ نظر کے مطابق اسے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

25 برس بعد دنیا کہاں کھڑی ہے؟

خصوصی نشست میں 9/11 اور اس کے بعد شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے طویل مدتی جغرافیائی سیاسی، قانونی، معاشی اور معاشرتی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

مقررین نے گزشتہ 25 برس کے دوران عالمی طاقت کے توازن میں آنے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانون کی صورت حال، جنگوں کے انسانی و معاشی اثرات اور پاکستان سمیت خطے پر پڑنے والے اثرات پر بھی غور کیا۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ آمد کے بعد عمران خان کی رہائی یقینی تھی مگر پی ٹی آئی رہنما کے سبب یہ نہ ہوسکا، مشاہد حسین سید

نشست میں اس امر پر بھی بحث ہوئی کہ 9/11 کے بعد تشکیل پانے والا عالمی ماحول اب کس طرح تبدیل ہورہا ہے اور اس تبدیلی کے نتیجے میں عالمی نظام کس سمت آگے بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp