سعودی عرب کے تحفظ کے لیے پاکستان عملی طور پر ’کسی بھی حد تک‘ جائے گا، ترجمان پاک فوج

جمعہ 18 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کے تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج نے مملکت کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کا عزم دوہرایا  ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ’عرب نیوز‘ کے سینئر صحافی بکر عطياني کو دیے گئے ایک انٹرویو میں  کہا ’پاکستان سفارتی اور عملی دونوں سطحوں پر مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑا ہے۔ میں یہاں ‘عملی طور پر’ (Physically) کے لفظ پر زور دوں گا… ہم سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے مکہ مکرمہ پر حملے کی شدید مذمت، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے: دفترِ خارجہ

واضح رہے کہ پاک فوج کے ترجمان کی طرف یہ بیان ایران کے حمایتی حوثی گروپ کی جانب سے سعودی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر کے بعد سامنے آیا ہے۔

طائف میں ایک ناکام بنائے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے، جبکہ حالیہ حملوں میں 80 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، سعودی اتحادی فوج نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود کی طرف بڑھنے والے ڈرون کو بھی فضا ہی میں تباہ کر دیا، اگرچہ حوثیوں نے مقدس شہر کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ اس کے علاوہ عراق سے آنے والے ڈرونز نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں کو بھی نقصان پہنچایا جس سے تیل کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے مکہ مدینہ کی حرمت کی حفاظت پاکستان کا ازلی و ابدی عہد ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ اس عزم میں سعودی عرب کا تحفظ اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کی حفاظت شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے، پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنے برادر ملک کا دفاع جاری رکھے گا۔

دفاعی معاہدے اور عسکری موجودگی

پاک فوج کا یہ موقف اسلام آباد کے گزشتہ ہفتے کے محتاط سفارتی بیان سے زیادہ سخت اور واضح ہے۔ ترجمان کا یہ بیان 7 اگست کو دستخط ہونے والے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ یہ سہ ملکی معاہدہ (پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ) کسی بھی ایک ملک پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرتا ہے۔ اس سے قبل ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان کی ایک بڑی عسکری فورس پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہے، جس میں 8,000 فوجی، جے ایف-17 (JF-17) جنگی طیاروں کا اسکاڈرن، ڈرونز اور HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم شامل ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی سے ہمارا تعلق جذبات، تاریخ اور اٹوٹ رشتے پر قائم ہے۔

یہ بھی پڑھیے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملہ پاکستان کے لیے ’سپر ریڈ لائن‘، صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے، جنرل (ر) زاہد محمود

ایٹمی ضمانت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کوئی حتمی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس سے قبل مختلف مواقع پر پاکستانی حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ تمام تر عسکری صلاحیتیں دفاعی ضروریات کے تحت دیکھی جاتی ہیں۔

سفارتی کوششیں اور پرامن حل کی تلاش

عسکری ضمانت کے ساتھ ساتھ پاکستان خطے میں وسیع تر جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی محاذ پر بھی فعال ہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور حوثی حملوں کو روکنے کے لیے تہران تک پیغام رسانی کا کام کیا ہے۔ آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے مکہ مکرمہ پر بزدلانہ ڈرون حملے کی کوشش کی شدید مذمت، پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے شانہ بشانہ کھڑا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت خطے میں جاری بحران کے پرامن اور مذاکراتی حل کے لیے مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے جون میں طے پانے والے ‘اسلام آباد معاہدے’ (Memorandum of Understanding) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک متفقہ دستاویز ہے جو اس پیچیدہ فوجی صورتحال سے نکلنے کا واحد حقیقی راستہ فراہم کرتی ہے اور پاکستان تعطل کے باوجود فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp