سابق سینیٹر و مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے سینیئر رہنما زاہد خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت اور وزیراعلیٰ خود تحریک چلا رہے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا، تحریکیں سیاسی جماعتیں چلاتی ہیں، حکومتیں نہیں۔
’وی نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے زاہد خان نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام عذاب میں مبتلا ہیں، صوبے میں دہشتگردی عروج پر ہے جبکہ عوام بدحال ہیں اور حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔
مزید پڑھیں: سوات: 9 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل پر عوام سراپا احتجاج، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کہاں ہیں؟
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ اور وزرا احتجاج اور لانگ مارچ کی سیاست میں مصروف ہیں، لیکن جن لوگوں نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے ان کے لیے بھی کچھ کریں۔ اسپتالوں میں دوائیں نہیں ہیں، اور کہیں پر اسپتال ہی موجود نہیں۔
زاہد خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی عروج پر ہے، عوام بے یار و مددگار چھوڑ دیے گئے ہیں جبکہ دہشتگرد اور ڈرگ مافیا راج کر رہے ہیں۔
’حکومت احتجاج کے بجائے عوام کے لیے کام کرے‘
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے اور اسے مینڈیٹ بھی ملا ہے، لیکن عوام کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ حکومت خود تحریک چلا رہی ہے اور وزیراعلیٰ اس میں شریک ہیں۔ پارٹی تحریک چلاتی ہے، اس کی تنظیم ہوتی ہے، ایک طریقہ کار ہوتا ہے، لیکن حکومت کا اس طرح تحریک چلانا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
’پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے‘
زاہد خان نے کہاکہ اگر کوئی پرامن احتجاج ہو تو یہ سب کا حق ہے، لیکن پی ٹی آئی کا ماضی کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی بھی عجیب جماعت ہے، یہ لوگ حکومت میں ہوں تب بھی احتجاج کرتے ہیں اور حکومت سے باہر ہوں تب بھی احتجاج میں ہوتے ہیں۔
زاہد خان نے کہاکہ اگر پی ٹی آئی اسلام آباد آتی ہے اور احتجاج پرامن رہتا ہے تو یہ ان کا حق ہے، لیکن اگر تشدد کیا جائے گا تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کرے۔
لانگ مارچ میں مبینہ طور پر لاکھوں افراد کی شرکت کے دعوؤں سے متعلق سوال پر زاہد خان نے کہاکہ جو رپورٹس وہ خود سنتے اور دیکھتے ہیں، ان کے مطابق تعداد بہت زیادہ نہیں بلکہ 2 سے 3 ہزار تک ہے۔
’خیبرپختونخوا میں سیاسی استحکام نہیں‘
انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پریس کانفرنسز اس لیے کی جا رہی ہیں کیونکہ صوبے میں سیاسی استحکام موجود نہیں ہے، اس لیے بات کرنا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔
زاہد خان نے کہاکہ صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، یہاں دہشتگردی عروج پر ہے، جبکہ پولیس صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہے لیکن اس کے پاس نہ مناسب آلات ہیں، نہ اسلحہ، نہ منصوبہ بندی اور نہ افرادی قوت ہے۔
’پولیس کو وسائل دیے بغیر دہشتگردی کے خلاف آپریشن کے اختلافات کی بات کی جاتی ہے‘
زاہد خان نے کہا کہ صوبے میں جو نئے اضلاع بنائے گئے ہیں وہاں بعض جگہ پولیس اسٹیشن تک موجود نہیں، پھر بتایا جاتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن کے حوالے سے اختلافات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اختلاف آج سے نہیں بلکہ 2012 سے چلا آ رہا ہے۔
’بشیر بلور کی شہادت کے بعد بلائے گئے جرگے میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا‘
زاہد خان نے 2012 میں بشیر بلور کی شہادت کے بعد بلائے گئے جرگے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت وہ ایک کانفرنس میں موجود تھے، جس میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی شفقت محمود سے بھی بات ہوئی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ دو جماعتیں ایسی ہیں جن کا مؤقف مختلف ہے، جن میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی شامل تھیں۔
زاہد خان کے مطابق اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ پوری قوم دہشتگردی کا خمیازہ بھگت رہی ہے، اور پی ٹی آئی اس معاملے میں سہولت کار ہے۔
’مذاکرات تین مرتبہ ہو چکے، ہر بار ناکام ہوئے‘
زاہد خان نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے معاملے پر مذاکرات پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوئے، اس کے بعد دوسرا مرحلہ ایم ایم اے کے دور میں آیا، جس میں وہ خود بھی شامل تھے۔
’پی ٹی آئی دور میں بھی ٹی ٹی پی سے مذاکرات ہوئے‘
زاہد خان نے کہاکہ تیسری مرتبہ پی ٹی آئی کے دور میں مذاکرات ہوئے، جب ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی گئی تاہم وہ بھی کامیاب نہ ہو سکی۔
انہوں نے کہاکہ بعد میں تقریباً 40 ہزار افراد کو واپس لایا گیا، جن میں سزا یافتہ افراد بھی شامل تھے۔
’آپ نے مذاکرات کیے، پھر آج ذمہ داری سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟‘
زاہد خان نے کہاکہ پی ٹی آئی سے سوال ہونا چاہیے کہ انہوں نے مذاکرات کیے تھے تو کس سے کیے تھے اور پھر وہ مذاکرات ناکام کیوں ہوئے؟
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی بات کئی مرتبہ سامنے آئی، حتیٰ کہ نواز شریف کے دور میں بھی اس حوالے سے بات ہوئی تھی۔
زاہد خان نے کہاکہ اگر آج مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے تو ماضی میں کیے گئے مذاکرات کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے، کیونکہ یہ کہنا درست نہیں کہ مذاکرات کیے ہی نہیں گئے۔
زاہد خان نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلائے اور تمام معاملات پر بات کرے۔
انہوں نے کہاکہ انہوں نے اس وقت بھی جرگے میں یہی باتیں کی تھیں اور ان کی تقریر کا ریکارڈ آج بھی موجود ہے، جسے دکھایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھرپور احتجاج میں ناکامی، کیا پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا کی جماعت بن کر رہ گئی ہے؟
انہوں نے کہاکہ اس وقت انہوں نے واضح کیا تھا کہ مذاکرات پہلے بھی ہو چکے ہیں اور اگر دوبارہ مذاکرات کرنے ہیں تو انہیں باضابطہ طور پر کیا جائے۔
زاہد خان نے کہاکہ ان کے پاس اس جرگے کی اپنی تقریر اور متعلقہ دستاویزات موجود ہیں اور اگر ضرورت ہو تو وہ یہ دستاویزات فراہم کر سکتے ہیں۔













