پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ستمبر 2026 کے دوران ملک بھر میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں، جس کے بعد پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 317,002 ہوگئی۔

ایس ای سی پی کے جمعہ کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نئی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن ای زی فائل پورٹل اور وفاقی و صوبائی نظاموں کے مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن مکمل کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹریشن میں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں سرفہرست رہیں، جن کی تعداد 3,013، یعنی مجموعی رجسٹریشن کا 57.5 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ 2,058 سنگل ممبر کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جن کا تناسب 39.2 فیصد رہا۔

یہ بھی پڑھیں: اگست کے دوران پاکستان میں 4 ہزار 761 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ

ایس ای سی پی نے 127 لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس (ایل ایل پیز) اور 29 غیر منافع بخش کمپنیاں بھی رجسٹر کیں۔ دیگر رجسٹریشن میں 10 پبلک کمپنیاں، 2 تجارتی تنظیمیں اور 2 غیر ملکی کمپنیاں شامل تھیں۔

صوبائی اور علاقائی تفصیلات کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ 2,740 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو مجموعی تعداد کا 52.3 فیصد ہیں، اسلام آباد میں 1,009، سندھ میں 790، خیبر پختونخوا میں 428، گلگت بلتستان میں 169 اور بلوچستان میں 105 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن مکمل کی گئی۔

شعبہ وار اعداد و شمار میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یعنی آئی ٹی کا شعبہ 920 نئی کمپنیوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، تجارت کے شعبے میں 808، خدمات میں 599، تعمیرات میں 339، خوراک و مشروبات میں 239 اور سیاحت کے شعبے میں 222 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

مزید پڑھیں: سرمایہ کاری کے لیے بڑی سہولت، ایس ای سی پی نے متحدہ ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا

اسی طرح ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ میں 193، تعلیم میں 189، ای کامرس میں 179 اور کان کنی و معدنیات کے شعبے میں 127 نئی کمپنیوں کا اندراج کیا گیا، جبکہ دیگر شعبوں میں 1,426 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

ستمبر کے دوران نئی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی حصہ لیا۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 167 غیر ملکی سرمایہ کاروں میں چین سرفہرست رہا، جہاں سے 113 سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔

امریکا سے 7، برطانیہ سے 6، ہانگ کانگ سے 5، جبکہ سنگاپور اور سعودی عرب سے 3، تین سرمایہ کار شامل تھے۔ دیگر ممالک سے بھی سرمایہ کاروں نے پاکستانی کمپنیوں میں حصہ لیا۔

مزید پڑھیں: فیس بک کرنسی لبرا کا پراجیکٹ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے

صنفی اعداد و شمار کے مطابق کمپنیوں کے شیئر ہولڈرز اور ڈائریکٹرز میں خواتین کی نمائندگی 14 فیصد، حتمی مستفید مالکان میں 11 فیصد اور چیف ایگزیکٹوز میں 8 فیصد رہی۔

چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ کمپنی کی رجسٹریشن ایک باقاعدہ اور دستاویزی معیشت کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے۔

ان کے مطابق کمیشن رجسٹریشن کے عمل کو آسان اور زیادہ قابل رسائی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے، تاکہ کاروباری افراد نئی کمپنیاں قائم کرکے ملکی اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp