وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کیا تو پشاور میں سیکیورٹی اقدامات سخت کرتے ہوئے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا، جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے حکمت عملی کے لیے قریبی ساتھیوں کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔
رات گئے صوبے میں ایمرجنسی کی خبروں کے بعد سہیل آفریدی، جو چارسدہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کے ساتھ مردان جا رہے تھے، ہنگامی طور پر مردان سے پشاور پہنچ گئے اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں منتخب نمائندوں اور پارٹی قیادت کے ساتھ بیٹھ گئے اور تمام صورت حال کا جائزہ لیا۔
سہیل آفریدی اور دیگر قیادت اس وقت کہاں ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کی جانب سے اس وقت مشاورت اور آپس میں رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ممکنہ گرفتاریوں سے بچنے کے لیے اہم رہنما روپوش ہو گئے ہیں۔
پشاور کنٹونمنٹ کی جانب جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ پشاور، نوشہرہ، صوابی اور چارسدہ میں موبائل فون سروس مکمل طور پر معطل ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس وقت وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود ہیں۔ پشاور کی تازہ ترین صورتحال جانیے لحاظ علی کی اس رپورٹ میں pic.twitter.com/wZay5ll9xP
— WE News (@WENewsPk) October 11, 2026
پارٹی کے ایک رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی رات کو واپس پشاور پہنچ گئے تھے اور وزیر اعلیٰ ہاؤس میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی قریبی ساتھیوں کے ساتھ مشاورت بھی جاری ہے۔ ان کے بقول، ’میری معلومات کے مطابق رات دیر تک سہیل آفریدی پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں تھے، لیکن اب رابطہ نہیں ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں:آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے تمام راستے اس وقت سیل ہیں اور آنے یا اندر جانے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ممکنہ گرفتاریوں سے بچنے کے لیے پشاور میں موجود قیادت روپوش ہو گئی ہے اور کچھ اطلاعات ہیں کہ ان کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی میں کسی کو بھی معلوم نہیں کہ کون کہاں ہے اور کیا ہو رہا ہے۔
تحفظ دینے والی پولیس اب گرفتار کر رہی ہے
پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ کل تک جو پولیس پی ٹی آئی رہنماؤں کو تحفظ دے رہی تھی، آج وہی انہیں گرفتار کر رہی ہے اور رہنما روپوشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں گرفتاریوں سے بچنے کے لیے اکثر رہنما پشاور آئے تھے، لیکن اب وہ یہاں بھی پریشان ہیں۔
سہیل آفریدی کیا حکمت عملی بنا رہے ہیں اور مارچ کہاں ہے؟
پارٹی ذرائع کے مطابق اس وقت کسی کو معلوم نہیں کہ کون کہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قیادت نے سہیل آفریدی کی گرفتاری یا نظر بندی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رات گئے سہیل آفریدی نے اہم قیادت کے ساتھ مشاورت کی تھی، جس میں فیصلہ ہوا تھا کہ اگر ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کیا گیا تو مارچ کا رخ پشاور موڑ دیا جائے گا اور اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں خیبر پختونخوا کی مخدوش سیکیورٹی پر رپورٹ پیش
پارٹی رہنما نے بتایا کہ اس وقت قیادت کی جانب سے کوئی رابطہ یا ہدایات نہیں آئی ہیں اور کارکن اس کے انتظار میں ہیں۔
پشاور کا ریڈ زون سیل
سیکیورٹی خدشات کے باعث پشاور کے ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے اور سخت چیکنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔














