صدر زرداری کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان، وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا عہدوں پر برقرار نہیں رہیں گے

اتوار 11 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق ایمرجنسی کا اعلان آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت کیا گیا ہے اور صدارتی اعلان فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

ایوان صدر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں غیر معمولی شدت سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشتگرد حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت دہشتگردی اور لاقانونیت کے مؤثر تدارک کے لیے مطلوبہ عزم اور اقدامات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔ گورنر خیبرپختونخوا کی رپورٹ میں بھی صوبے میں آئینی نظام کے تعطل اور صوبائی حکومت کے آئین کے مطابق کام نہ کر سکنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ کابینہ نے وزیراعظم کو صدر مملکت کو آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا مشورہ دینے کی تجویز دی تھی، جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوائی گئی۔

صدارتی اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی۔ گورنر وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کے تحت صوبائی حکومتی امور انجام دیں گے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے علاوہ دیگر اداروں اور حکام کے اختیارات بھی وفاقی حکومت کی ہدایت پر استعمال کیے جا سکیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے۔

شہباز شریف کی صوبائی حکومت پر کڑی تنقید

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، پولیس اور انسدادِ دہشتگردی اداروں کی استعداد میں اضافے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہ ہونے اور صوبائی حکومت کے طرزِ عمل پر وفاق کو شدید تحفظات ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق فیصلے کے پس منظر میں وزیراعظم نے دہشتگردی، صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں اور پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان، معاشی استحکام اور ترقی کے عمل کو سیاسی احتجاج کے ذریعے نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

دہشتگردی کے خلاف کارروائی میں صوبائی حکومت کا کردار

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گزشتہ ڈھائی برس کے دوران دہشتگردی کے واقعات اور ان میں عام شہریوں، پولیس اہلکاروں اور فوجی جوانوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بے گناہ شہریوں، خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز ان عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

شہباز شریف نے افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے افغان حکام کو متعدد مرتبہ اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے، تاہم دہشتگردی کے واقعات جاری ہیں۔ ان کے مطابق ترکیہ، قطر اور چین سمیت دوست ممالک کے ذریعے بھی اس معاملے پر بات چیت کی کوششیں کی گئیں۔

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس اور انسدادِ دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) کو جدید ہتھیار، ضروری وسائل اور مناسب تربیت فراہم کرے۔ ان کے بقول صوبائی حکومت کو وفاق کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

خیبرپختونخوا پولیس کے لیے مختص وسائل کہاں خرچ ہوئے؟

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2010 میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے وسائل کی تقسیم کے دوران خیبرپختونخوا کے لیے خصوصی طور پر ایک فیصد حصہ مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاکہ دہشتگردی سے متاثرہ صوبے میں پولیس اور سیکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس خصوصی مالی حصے کے باوجود صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو مطلوبہ حد تک مضبوط کیوں نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی تربیت، تھانوں کی بہتری، انٹیلیجنس نظام اور انسدادِ دہشتگردی کی صلاحیت میں اضافے کے لیے مختص وسائل کو انہی مقاصد پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کے مسلسل واقعات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ صوبائی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھائی جائے اور وفاق و صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون یقینی بنایا جائے۔

اسلام آباد لانگ مارچ پر وزیراعظم کے تحفظات

وزیراعظم نے پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب ملکی معیشت بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے، سیاسی احتجاج اور اسلام آباد پر چڑھائی کی کوششیں معاشی سرگرمیوں اور امن و امان کو متاثر کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مزدوروں، تاجروں، صنعت کاروں، سرکاری ملازمین اور طلبہ کی معمول کی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں آنے دے سکتی۔ وزیراعظم کے مطابق ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پاکستان کی معاشی بحالی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی اور ایسے حالات پیدا نہیں ہونے دے گی جن سے ملک دوبارہ بدامنی اور معاشی تباہی کی طرف چلا جائے۔

مذاکرات کی کوششیں کیوں کامیاب نہ ہو سکیں؟

وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی مشاورت سے پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق دونوں جماعتوں کی جانب سے نمائندوں نے مذاکرات میں حصہ لیا اور بات چیت میں پیشرفت بھی ہوئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ انہیں اطلاع دی گئی تھی کہ مذاکرات کے آخری نکات پر اتفاق ہو گیا ہے اور معاملہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی منظوری سے آگے بڑھ سکتا ہے، تاہم بعد میں یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ وزیراعظم نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی قیادت ملک میں امن قائم کرنے اور ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں تھی۔

انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مذاکراتی عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت نے لانگ مارچ اور دھرنے کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا، لیکن اس کا مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق کابینہ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کی مبینہ عدم دلچسپی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئینی اختیارات استعمال کرنے کی سفارش کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ کو خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی کے واقعات میں اضافے اور پولیس و حساس اداروں کی رپورٹس پر بریفنگ دی گئی۔

تاہم وزیراعظم کے فراہم کردہ خطاب میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے حتمی نفاذ کا باضابطہ اعلان موجود نہیں۔ اس لیے کابینہ کی منظوری، صدر مملکت کو سمری بھیجنے اور نوٹیفکیشن کے اجرا کی حتمی صورتحال کی الگ سے تصدیق ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp