وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کے لیے جو بھی کرنا پڑا کریں گے، پی ٹی آئی کے مطلوب رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں لائی جائےگی۔
اسلام آباد میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، طلال چوہدری اور ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کو اعتماد میں لینے کے لیے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک کوششیں کی گئیں، تاہم مسلسل رابطوں اور مذاکرات کے باوجود معاملات حل نہیں ہوسکے۔
محسن نقوی نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو مل کر لڑنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کی مسلسل کوشش رہی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو اعتماد میں لے کر دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے، اسی مقصد کے لیے وہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک صوبائی حکومت کے ساتھ پس پردہ رابطے میں رہے۔
سہیل آفریدی کہاں ہیں؟ گرفتار یا مفرور؟ محسن نقوی نے بتا دیا https://t.co/GKCubNhm8b
— WE News (@WENewsPk) October 11, 2026
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے اعلان سے پہلے ہی اس کے بیشتر مطالبات پر پیشرفت کررہی تھی۔ ملاقاتوں سمیت متعدد معاملات پر بات چیت جاری تھی، لیکن اس کے باوجود لانگ مارچ کا اعلان کردیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مطالبات پر پہلے ہی پیشرفت ہورہی تھی تو پھر لانگ مارچ کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
وزیراعظم اور اپوزیشن کی ملاقات کے لیے کوششیں
محسن نقوی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات 15 یا 16 ستمبر کو طے کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حکومت چاہتی تھی کہ وزیراعظم کے بیرون ملک روانہ ہونے سے پہلے اپوزیشن قیادت سے ملاقات ہوجائے تاکہ صورتحال معمول پر آسکے اور لانگ مارچ یا دھرنے کا معاملہ حل کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے پر بھی بات ہوئی، جس کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات ہوئی اور مذاکراتی کمیٹی قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کے ذریعے پی ٹی آئی کے ساتھ 2 روز تک مذاکرات ہوئے۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق یہ بھی طے پایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کریں گے اور ان سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کریں گے۔ پیپلز پارٹی نے بھی مذاکرات کے دوران دھرنا مؤخر کرنے کی تجویز دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور رابطوں کے لیے ہمیشہ وفاقی حکومت نے پہل کی۔ صدر مملکت اور وزیراعظم کی سطح پر بھی پی ٹی آئی سے مسلسل رابطے کیے گئے تاکہ سیاسی کشیدگی کم کی جاسکے اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھایا جاسکے۔
مذاکراتی مسودے پر اتفاق کے باوجود نیا ڈرافٹ سامنے آگیا
محسن نقوی نے بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دوران مسودے میں کئی مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں۔ مذاکراتی ڈرافٹ 3 مرتبہ تبدیل ہوا اور اسے 4 مرتبہ حتمی شکل دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مسودے میں 5 سے 6 ترامیم کی نشاندہی کی گئی تھی، جنہیں حکومت نے قبول کرلیا۔ متعدد مرتبہ نظرثانی کے بعد مسودے پر اتفاق رائے کی کوشش کی گئی، تاہم طے شدہ نکات پر اتفاق ہونے کے باوجود اچانک ایک نیا ڈرافٹ سامنے آگیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکراتی ٹیم کو پہلے ہی طے شدہ معاملات کی منظوری دے رکھی تھی۔ پی ٹی آئی کو مسودے کے بیشتر نکات پر اتفاق تھا، تاہم ایک پیراگراف کے حوالے سے اس نے تجاویز دینا تھیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت سے کہا گیا تھا کہ وہ مسودے میں اپنی مجوزہ تبدیلیوں سے آگاہ کرے تاکہ ان پر مزید بات چیت کی جاسکے۔ حکومت ان تجاویز پر مذاکرات کے لیے تیار تھی، لیکن پورا دن انتظار کرنے کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ وہ گزشتہ روز پورا دن پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں رہے، حتیٰ کہ رات 12 بجے بھی رابطہ کرکے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن مسودے کے متعلقہ پیراگراف پر کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پیش آنے والے تمام معاملات اور ان کی تفصیلات کی تصدیق پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کی جاسکتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی کوششیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں
وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں اور معاملات حل کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔
محسن نقوی کے مطابق وفاقی حکومت مسلسل بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتی تھی اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن رابطہ کیا گیا۔
اسد قیصر نے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی یقین دہانی کرائی
محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر لڑنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ اس جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق پی ٹی آئی قیادت سے درخواست کی گئی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو بھی دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں شامل کیا جائے تاکہ وفاق اور صوبہ مل کر مؤثر حکمت عملی اختیار کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف خیبرپختونخوا کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو ایک مؤقف اختیار کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔
خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب
وفاقی وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض اضلاع میں صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ مقامی لوگ شام کے بعد اپنے گھروں سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، جبکہ پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
محسن نقوی کے مطابق ان 12 اضلاع میں دہشتگردی انتہائی حد تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث وہاں حالات معمول پر لانے کے لیے غیر معمولی اقدامات ضروری ہوگئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق ہوا تھا، جبکہ مذاکرات میں ان اضلاع کے حالات معمول پر لانے کے لیے اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں صرف سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانا کافی نہیں بلکہ وہاں رہنے والے عوام کے مسائل حل کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ صوبے کے متاثرہ اضلاع میں امن بحال کیا جاسکے۔
سہیل آفریدی سے ملاقاتوں میں صرف دہشتگردی پر بات ہوئی
محسن نقوی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ ان کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں، تاہم ان ملاقاتوں کا موضوع صرف دہشتگردی تھا اور کسی سیاسی معاملے پر بات نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشتگردی کے معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی تھی، اسی لیے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو سیاسی رنگ دینے سے بھی گریز کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق ان ملاقاتوں میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے 5 اضلاع میں پولیس کو مضبوط کرکے سیکیورٹی کی ذمہ داریاں اس کے سپرد کی جانی تھیں۔
اس کے بعد مرحلہ وار مزید 5 اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات اور کارروائیوں کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی تاکہ پولیس دہشتگردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرسکے۔
ڈیڑھ سال میں دہشتگردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ
وفاقی وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے متعلق اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اعدادوشمار کے مطابق شہادتوں کی تعداد میں بھی 113 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
محسن نقوی کے مطابق جنوری 2024 سے ڈیڑھ سال کے عرصے میں 518 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جو صوبے میں سیکیورٹی کی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف بجٹ فراہم کرنے سے سیکیورٹی کے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے مؤثر حکمت عملی، مضبوط ادارے اور مشترکہ اقدامات بھی ضروری ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس پر فائرنگ کرنے والے دہشتگرد کی شناخت کے معاملے پر بحث نہیں ہونی چاہیے۔ دہشتگردی کے خلاف وزارت داخلہ کا مؤقف شروع سے واضح رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں اور جوانوں کی شہادتوں کی ذمہ داری لینا ہوگی۔ یہ فیصلہ کرنا ضروری تھا کہ روزانہ شہادتیں برداشت کی جائیں یا صورتحال تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
محسن نقوی کے مطابق دہشتگردی کے خلاف مشکل فیصلے کے پیچھے باقاعدہ وجوہات موجود ہیں اور یہ فیصلے صوبے میں امن و امان کی سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے۔
دہشتگردی کے معاملے پر وفاق اور صوبے کا مؤقف یکساں ہونا چاہیے
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی اور کسی صوبے کی خارجہ پالیسی الگ الگ نہیں ہوسکتیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومت کا مؤقف یکساں ہونا چاہیے، کیونکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اکیلے نہیں لڑی جاسکتی۔
محسن نقوی کے مطابق دہشتگردوں سے روابط کے معاملے پر متعدد مرتبہ سوالات اٹھائے گئے، تاہم وفاقی حکومت کی کوشش یہی رہی کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبے کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے اور اس حوالے سے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب کسی دہشتگردی کے واقعے میں شہادتیں ہوتی ہیں تو جنازوں کے لیے پورا پاکستان اکٹھا ہوجاتا ہے، لیکن بعض اوقات اسی شہر میں موجود لوگ بھی جنازوں میں شریک نہیں ہوتے۔
انہوں نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے حالات بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جاسکے اور صوبے میں امن و امان بحال ہو۔
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی تمام کوششوں کا بنیادی مقصد خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا خاتمہ اور امن کی بحالی تھا، جبکہ وزارت داخلہ کا دہشتگردی کے معاملے پر مؤقف شروع سے واضح رہا ہے۔














