خیبر پختونخوا میں 11 رکنی مشاورتی کونسل میں کس کو کیا عہدہ ملا؟ تفصیل سامنے آگئی

اتوار 11 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں آئینی مشینری کی ناکامی کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ کا باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اختیارات گورنر خیبر پختونخوا  کو تفویض کرتے ہوئے 11 رکنی کونسل بنا دی ہے۔

ایمرجنسی کا نفاذ اور آئینی پیش رفت وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی جانب سے بھیجی گئی انتظامی سمری پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے دستخط کر کے اس کی منظوری دی۔

اس آئینی قدم کا مقصد صوبے میں امن و امان، حکومتی عملداری اور عوامی بہبود کا نظام بحال کرنا ہے۔

کے پی ایڈوائزری کونسل کا قیام صوبائی امور کو مؤثر انداز میں چلانے اور گورنر خیبر پختونخوا کی معاونت کے لیے ایک 11 رکنی ‘کے پی ایڈوائزری کونسل’ قائم کی گئی ہے۔ اس کونسل میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات اور ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔

اہم محکمے اور نامزد مشیران محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی ذمہ داری سابق آئی جی جیل خانہ جات اور سابق کمشنر کفایت اللہ خان کے سپرد کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:ایمرجنسی یا گورنر راج، خیبرپختونخوا میں کیا ہونے جارہا ہے؟ اسلام آباد میں غیرمعمولی سیاسی سرگرمیاں

محکمہ مالیات، ریونیو، ایکسائز و ٹیکسیشن کے لیے سابق چیئرمین ایف بی آر اور سابق سیکرٹری اقتصادی امور طارق محمود پاشا کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

محکمہ قانون و پارلیمانی امور کا قلمدان سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ اور سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا عامر جاوید کو دیا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم کے لیے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی ہولڈر اور سابق نگران وزیر ڈاکٹر سید امیر عبداللہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کی ذمہ داری پاک فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل اور سابق سرجن جنرل (ریٹائرڈ) نگار جوہر خان کو دی گئی ہے۔

محکمہ کان کنی و معدنیات کے لیے معاشیات میں فرانس سے پی ایچ ڈی اور سابق مشیر ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

محکمہ صنعت و تجارت کی باگ ڈور فنانس میں پی ایچ ڈی اور سابق چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد ارشاد کو سونپی گئی ہے۔

محکمہ مواصلات و تعمیرات، بلدیات، ہاؤسنگ و ٹرانسپورٹ کے لیے تجربہ کار کاروباری شخصیت اور سابق نگران وزیر آصف رفیق آفریدی کو ذمہ داری دی گئی ہے۔

محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی نگرانی کے لیے خطیبِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور امام مسجد مہابت خان مولانا محمد طیب قریشی کو مقرر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:گورنر خیبر پختونخوا کا صدارتی اعلان کا خیرمقدم، عوام سے قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل

محکمہ توانائی، پاور، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے امور سابق سینیٹر اور سابق چیئرمین اپٹما عثمان سیف اللہ خان سنبھالیں گے۔

محکمہ اطلاعات و نشریات کے لیے قومی اسمبلی کی رکن اور سابق چیئرپرسن قائمہ کمیٹی اطلاعات ثمر ہارون بلور کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کی ساخت انتظامی امور کو نچلی سطح پر مستحکم بنانے کے لیے ایک ’علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل’ بھی فعال کی گئی ہے۔ یہ کونسل ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈمنسٹریٹر کی زیرِ نگرانی کام کرے گی۔

اس فریم ورک میں امن و امان اور نارکوٹکس کے لیے ڈی جی سیکورٹی اور اے آئی جی پولیس تعینات ہوں گے۔ قانون، قبائلی امور اور انسانی حقوق کا شعبہ ڈی جی لیگل و ایڈووکیٹ جنرل سنبھالیں گے۔

بجٹ اور ریونیو کے لیے ڈی جی فنانس جبکہ گورننس، عوامی سروسز اور بحالی کے لیے ڈی جی گورننس اینڈ پلاننگ ذمہ دار ہوں گے۔

ایڈمنسٹریشن، ایچ آر اور توانائی کے لیے ڈی جی ایڈمن جبکہ زراعت و کھیلوں کے لیے ڈی جی ایگری تعینات ہوں گے۔ شعبہ مواصلات و ٹیکنالوجی کا کنٹرول مشیر اطلاعات و ترجمان کے پاس ہوگا۔

پس منظر اور صورتِ حال خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والے آئینی و انتظامی بحران کے سبب حکومت کی عملی کارکردگی شدید متاثر ہوئی تھی۔ اسی آئینی گنجلک کو دور کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے ان آئینی اقدامات کا سہارا لیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp